Saturday, August 20, 2022

تصوف کیا ہے قسط 6 سوال 35-29

قسط: ٦

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٢٩) سوال:
صحیح پیر کون ہوسکتا ہے اس میں ذرا رہنمائی فرمایئے؟

جواب:
ماشاء اللہ یہ طلب کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے صحیح بات کرنے کی توفیق دے۔ اس سے پہلے آپ تھوڑی سی ہمت کرلیں اور بتائیں کہ آپ کسی ڈاکٹر کا انتخاب کیسے کرتے ہیں؟

(٣٠) سوال:
ہم ڈاکٹر کا انتخاب اس طرح کرتے ہیں کہ دیکھتے ہیں کہ وہ مستند ہے یا نہیں یعنی اس نے کسی میڈیکل کالج سے پڑھا ہے یا نہیں اور اگر پڑھا ہے تو اس کے پاس ڈگری ہے یا نہیں۔ کیا پیر کے انتخاب کے لیے اتنی بات کافی ہے؟

جواب:
نہیں۔ اس کے علاوہ یہاں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ میں اور اس میں مناسبت بھی ہے یا نہیں؟ ورنہ فائدہ نہیں ہوگا۔

(٣١) سوال:
یہ مناسبت کیا ہوتی ہے؟ نیز پیر کے مستند ہونے کا کیا مطلب ہے؟

جواب:
مناسبت سے مراد یہ ہے کہ اس کی مجلس سے، مکاتبت سے، اس کی کتابوں سے آپ کو فائدہ ہونا محسوس ہوتا ہو اور اس کے بارے میں اگر آپ کو وسوسہ آئے تو اس وسوسے کو پالنے کی بجائے آپ اس سے چھٹکارہ پانا چاہتے ہوں۔ جبکہ پیر کے مستند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی مستند سلسلے میں بیعت ہوچکا ہو اور وہاں سے اس کو اجازت یعنی خلافت مل چکی ہو۔

(٣٢) سوال:
اگر کوئی بیعت نہ ہوا ہو اور اس کی اصلاح کسی طرح ہوجائے تو کیا اس کو خلافت مل سکتی ہے؟

جواب:
ماشاء ﷲ بہت اچھا سوال ہے۔ اگر کسی کی اصلاح ہوچکی ہو تو اس کو خلافت دی جاسکتی ہے۔ یہ خلافت اس بات کی ان شاء ﷲ علامت ہوگی کہ اب یہ شخص فتنہ نہیں بنے گا اس لیے جس دینی کام کو مثلاً تدریس، دینی سیاست، تبلیغ وغیرہ کو کرے گا تو سلیم القلبی کے باعث اس کو صحیح نیت سے ان شاء ﷲ کرے گا لیکن؛ اس دینی کام کے مسائل اور فنون کو جاننا اس کے ذمّے الگ ہوگا۔ اس لیے اس کو اس پر علیحدہ محنت کرنی چاہیئے۔ ان کاموں میں سے ایک کام دوسروں کا تزکیہ بھی ہے اور چونکہ تزکیہ بھی ایک فن ہے اس لیے اگر تزکیہ کے میدان میں وہ کام کرنا چاہتا ہو تو اس کو کسی مستند ماہر فن سے اس فن کو حاصل کرنا چاہیئے بصورت دیگر درست نیت کے باوجود غلطی کا امکان باقی رہے گا۔

(٣٣) سوال:
کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ بیعت کسی ایک شیخ سے ہو اور اس کو خلافت کسی اور جگہ سے مل جائے؟

جواب:
جی ہاں! خلافت نسبت کے حصول کی علامت ہوتی ہے۔ پس کسی بھی شیخ سے تربیت پانے کے بعد اگر کسی اور شیخ کی نظر میں اس کو نسبت حاصل ہوچکی ہو تو اس کا اظہار خلافت کی صورت میں وہ کرسکتا ہے تاہم ایک چیز کا خیال رکھنا بہتر ہے کہ اگر دوسرے شیخ کی پہلے شیخ کے ساتھ واقفیت اور مناسبت نہ ہو تو ایسا کرنا پیچیدہ صورت حال کا باعث بن سکتا ہے تو ایسی صورت میں اس سے اعراض مناسب ہے۔ اگر ممکن ہو تو دوسرا شیخ اپنے خیال کی اطلاع اس کے پہلے شیخ کو کرسکتا ہے باقی فیصلہ اس پر چھوڑ دیا جائے۔ یہ بات تجربے سے عرض کی ہے، دوسروں کا اس سے اختلاف ممکن ہے۔

(٣٤) سوال:
کیا یہ ممکن ہے کہ بیعت ایک شیخ سے ہو اور تربیت کوئی اور کرے؟

جواب:
جی ہاں! ایسا ممکن ہے۔ حضرت سید احمد شہید (رحمۃ اللہ علیہ) حضرت شاہ عبد العزیز (رحمۃ اللہ علیہ) سے بیعت تھے لیکن ان کی تربیت حضرت شاہ عبد القادر (رحمۃ اللہ علیہ) نے کی اور ان کو خلافت بھی حضرت شاہ عبدالقادر (رحمۃ اللہ علیہ) سے دلوا دی۔ اس طرح مولانا عبد الماجد دریا آبادی (رحمۃ اللہ علیہ) بیعت تو حضرت مولانا حسین احمد مدنی (رحمۃ اللہ علیہ) سے تھے لیکن تربیت حضرت تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) نے کی اور اجازت بھی حضرت تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) سے حاصل ہوئی۔

(٣٥) سوال:
اگر کوئی شخص کسی بزرگ سے بیعت ہوجائے لیکن رابطہ کسی وجہ سے ان کے ساتھ نہ رکھ سکے تو کیا کسی اور شیخ سے تعلیم کے سلسلے میں رجوع کرسکتا ہے؟

جواب:
اگر جس شیخ سے بیعت کی ہو، ان سے رابطہ ممکن ہو اور شیخ اس کی تربیت کرنا چاہتا بھی ہو تو کسی اور شیخ سے رجوع کرنا مناسب نہیں۔ اس کے برعکس اپنے شیخ کے ساتھ یا تو رابطہ ممکن نہ رہے۔ یا شیخ بہت معذور ہوجائے اور تعلیم و ارشاد کا سلسلہ اب وہ جاری نہ رکھ سکے تو دوسرے شیخ سے بغرض تعلیم رجوع کرسکتا ہے۔ اب وہ دوسرا اس کا شیخ تعلیم ہوجائے گا۔ اب اس کو موجودہ شیخ کے ساتھ وہی معاملہ رکھنا چاہیئے جو وہ اپنے شیخ بیعت کے ساتھ رکھتا تھا لیکن شیخ بیعت کا ادب اس کو ملحوظ رکھنا چاہیئے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٦ تا ١٨ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط 5 سوال28-22

قسط: ٥

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٢٢) سوال:
چلیٔے مان لیا کہ صرف ایک پیر سے تعلق رکھنا ہی بہتر ہے لیکن خدانخواستہ کوئی سادہ آدمی کسی غلط پیر سے بیعت ہوجائے تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟

جواب:
اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے آپ نے بہت اہم اور علمی سوال کیا ہے۔ اس بات کی اہمیت اپنی جگہ ہے کہ پیر کو ایک ہونا چاہیئے لیکن اس کا لازمی نتیجہ پھر یہ ہونا چاہیئے کہ وہ پیر صحیح ہو، شیخ کامل بھی ہو اور مرید کو اس کے ساتھ مناسبت بھی ہو ورنہ وہی ہوگا جو اناڑی ڈاکٹر کے ہاتھ پھنسنے والوں کا ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ پیر انتہائی سوچ سمجھ کر چُنا جائے۔ لہٰذا پیر کامل کی نشانیوں کو اچھی طرح سمجھنا چاھئیے۔ اپنے آپ کا اس کے ساتھ مناسبت کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے۔ اس میں جلدی نہ کی جائے۔ جس پیر کا عقیدہ خراب ہو یا وہ مستند نہ ہو یا صریح فسق و فجور میں مبتلا ہو اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہیئے اور اگر کوئی اس سے بیعت ہوگیا تو اس کا نبھانا ضروری نہیں چپکے سے کسی اور مستند پیر کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرنا چاہیئے، لیکن اپنے گزشتہ پیر کی بے ادبی نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ وہ ابتدائی محسن ہے اس لیے باقی لوگ بے شک اس کے بارے میں کچھ بھی کہیں خود اس کے حق میں بے ادبی نہیں کرنی چاہیئے۔ اس وقت اس کا معاملہ والد کی طرح ہوجاتا ہے کہ اس کی بات ماننی تو نہیں کیونکہ وہ شریعت کی خلاف ورزی ہوگی لیکن اس کے ساتھ عرف کے مطابق اچھا برتاؤ کرنا چاہیئے۔

(٢٣) سوال:
اگر وہ پیر فسق و فجور میں مبتلا ہو اور لوگوں کو اس سے نقصان پہنچ رہا ہو پھر بھی چپ رہے؟

جواب:
میں نے صرف یہ کہا تھا کہ اس کی بے ادبی نہیں کرنی چاہیئے تاہم لوگوں کو یہ سمجھانا کہ بدعقیدہ اور فاسق فاجر شیخ سے بیعت نہیں ہونا چاہیے ضروری ہے۔ اس طرح عام بات کرنا لوگوں کو بچانے کے لیے کافی ہوسکتا ہے بالخصوص ایسے شخص کی بات جو اس بات میں مبتلا رہ چکا ہو لوگوں کی ہدایت کے لیے زیادہ مفید ہوگی کیونکہ وہ دل سے کہے گا تاہم اپنے گزشتہ شیخ کے بارے میں اشد ضرورت کے بغیر کچھ نہ کہے اگر کوئی پوچھے تو اس کو اس چیز کے جاننے والوں کی طرف راغب کیا جائے۔

(٢٤) سوال:
اگر کسی پیر کے ساتھ اس کے مرید کی مناسبت نہیں اور اس کا پیر نہ تو بدعقیدہ ہے اور نہ ہی بدعمل ہے تو اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب:
کوشش کرنی چاہیئے کہ اس کے ساتھ مناسبت پیدا ہوجائے۔ بعض دفعہ مناسبت محسوس نہیں ہوتی لیکن ہوتی ہے۔ اس وقت اس کی کوشش کرنی چاہیئے کہ اگر ہو تو واضح ہوجائے لیکن اگر بالکل مناسبت نہیں تو دل میں اس کا انتہائی احترام رکھتے ہوئے اپنا تعلق کسی اور کے ساتھ قائم کیا جائے لیکن اس دفعہ مزید احتیاط کے ساتھ کہ پہلے دوسرے شیخ کے ساتھ مناسبت کا یقین کرلیا جائے تاکہ پھر وہ صورت حال واقع نہ ہو۔

(٢٥) سوال:
بعض حضرات تصوف اور بیعت کو آپس میں لازم و ملزوم سمجھتے ہیں کیا بیعت کرنا واقعی اتنا ضروری ہے؟

جواب:
مفید تو یقیناً ہے لیکن اس کی حیثیت سنت مستحبہ کی ہے جبکہ اپنی اصلاح فرض عین ہے اس لیے کسی سے اپنی اصلاح کے لیے اگر بیعت کے بغیر بھی تعلق قائم کیا اور اپنی اصلاح کروائی تو مقصد تو پورا ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اگر کسی نے ایک بڑے شیخ کی بیعت کرلی لیکن اس سے اپنی اصلاح نہیں کروائی تو اس کو مقصود حاصل نہیں ہوا۔

(٢٦) سوال:
تو پھر بیعت کے تردد میں کیوں پڑے، بس اپنی اصلاح کرائے اور ختم؟

جواب:
ٹھیک لیکن اگر واقعی ایسا ہو تو ورنہ بیعت کے ثمرات سے انکار نہیں۔

(٢٧) سوال:
بیعت کے ثمرات کیا ہوتے ہیں؟

جواب:
پیر کی توجہ ہوجاتی ہے اور مرید کو اپنا سمجھنے لگتا ہے اور اس کے بارے میں فکر مند ہوجاتا ہے۔ مرید اپنے مقصود کو ایک شخص کے ساتھ وابستہ کرلیا ہے اور ہرجائی پن ختم ہوجاتا ہے جو طریق میں انتہائی نقصان دہ چیز ہے۔ سلسلے کی اپنی برکات ہوتی ہیں وہ الگ حاصل ہوتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر اس کا فائدہ یہ ہے کہ صحیح پیر کے ساتھ تعلق ہو تو ایمان محفوظ ہوجاتا ہے۔

(٢٨) سوال:
کیا خواتین کو بھی بیعت کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
کیوں نہیں۔ قُرآن میں بیعت کی جو آیت ہے وہ خواتین کی بیعت کا ہے۔ مردوں کی بیعت تو حدیث پاک سے ثابت ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اس میں شرعی پابندیوں مثلاً پردے کا خیال رکھنا (نامحرم پیر نامحرم ہوتا ہے) اور گھر کے مَردوں کا اعتماد ضروری ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٤ تا ١٦ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط 4سوال21-17

قسط: ٤

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(١٧) سوال:
کیا کسی شخص کو بھی پیر بنایا جاسکتا ہے؟

جواب:
نہیں، جیسے ہر ایک سے علاج نہیں کروایا جاتا اس طرح ہر ایک کو پیر بھی نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کے لیے کچھ شرائط ہیں جن کا جاننا ضروری ہے ورنہ فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوسکتا ہے۔

(١٨) سوال:
ہم تو کسی بھی ڈاکٹر سے علاج کرواسکتے ہیں یہاں ایسا کیوں نہیں؟

جواب:
آپ شاید میرا جواب نہیں سمجھے۔ڈاکٹروں میں تو آپ کسی کو بھی اپنا ڈاکٹر بناسکتے ہیں لیکن جو ڈاکٹر نہیں ان سے تو آپ علاج نہیں کرواتے! اسی طرح پیروں میں سے تو کوئی بھی پیر ہوسکتا ہے لیکن جو پیر ہی نہیں اس کو کیسے پیر بنایا جاسکتا ہے؟

(١٩) سوال:
کیا پیر کا ایک ہونا ضروری ہے؟ اس سوال کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ آپ نے پیر کی مثال ایک استاد کی دی ہے تو جیسے استاد کئی ہوسکتے ہیں اس طرح پیر بھی تو کئی ہوسکتے ہوں گے؟

جواب:
بڑا شاندار علمی سوال ہے لیکن اس کا جواب سمجھنے کی کوشش کریں تو سمجھ میں آنا مشکل نہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا کہ مرید کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک مریض ہونا، اس صورت میں پیر معالج ہوتا ہے اور ایک شاگرد ہونا، اس صورت میں پیر استاد ہوتا ہے۔ طریقت کی بنیادی تعریف سے مرید کا مریض ہونا زیادہ اہم ہے کہ مرید نفس کے رذائل کو دور کرنے کے لیے پیر کی خدمات حاصل کرتا ہے۔ پیر کا مرید کو بعض علوم تصوف کے سمجھانا محض اس کا تبرع اور احسان ہے اور یہ لازمی نہیں۔ اس لیے بعض اوقات کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جاتی۔ اس کی مثال بعض ڈاکٹروں میں بھی ملتی ہے کہ وہ مریضوں کو ان کے امراض کے بارے میں کچھ سمجھاتے بھی رہتے ہیں جبکہ بعض ڈاکٹر بالکل نہیں بتاتے۔ تو اصل چیز علاج ہوا کہ وہ تو سب کے ہاں مشترک ہے اور کبھی کبھی تعلیم بھی ساتھ ہوجاتی ہے۔ اب اگر پیر کا معالج ہونا سمجھ میں آگیا تو پھر پیر کا ایک ہونا بھی سمجھ میں آجائے گا۔

(٢٠) سوال:
مجھے اب بھی یہ واضح نہیں ہو سکا۔ ہم ڈاکٹروں کو بدلتے بھی رہتے ہیں تو اس طرح تو ہمارا کئی ڈاکٹروں کے ساتھ واسطہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے میں پہلے جواب سے مطمئن نہیں ہوسکا؟

جواب:
کسی ایک بیماری کے علاج کے دوران ڈاکٹروں کا بدلنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ اس صورت میں مرض کے بڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ ایک ڈاکٹر کے پاس آنے جانے سے جب اس ڈاکٹر کو مریض کا مرض کچھ سمجھ میں آنا شروع ہوجائے تو اگر اس وقت کسی نئے ڈاکٹر سے علاج شروع کردیا جائے تو پھر اس کو نئے تجربات سے گزرنا ہوگا۔ اس لیے کسی بھی ڈاکٹر کو مرض سمجھنے کا مناسب وقت نہیں مل سکے گا اور مرض بعض دفعہ خطرناک صورت اختیار کرلے گا۔

(٢١) سوال:
تو کیا ہم ہر ایک رذیلے کو دور کرنے کیلیے علیحدہ پیر منتخب کرسکتے ہیں؟

جواب:
نہیں، لیکن اس بات کو سمجھنے کے لیے کچھ تمہید کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ جب دو چیزوں کو آپس میں تشبیہ دی جارہی ہو تو ضروری نہیں کہ وہ دو چیزیں بالکل ایک جیسی ہوں بلکہ درمیان میں کسی ایک صفت کے شریک ہونے کی وجہ سے بھی ان کو تشبیہ دی جارہی ہوتی ہے جبکہ حقیقت میں وہ ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ یہاں سمجھانے کے لیے یہ عرض کروں کہ طب میں تو مختلف امراض کے مختلف ڈاکٹروں اور حکیموں سے رجوع مشاہد ہے کیونکہ مختلف امراض کے مختلف تخصص ہوتے ہیں لیکن طب روحانی یعنی تصوف میں اصل مرض ایک ہوتا ہے اور وہ دنیا کی محبت ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”حب الدنیا رأس کل خطیئۃ“ اور اس کا علاج ایک ہے اور وہ ہے ﷲ کی محبت پس اصل تصوف دل سے دنیا کی محبت کو نکال کر اس میں ﷲ کی محبت کو پیدا کرنا ہے باقی تمام طریقے اس کے فروعات ہیں اس لیے ایک ہی پیر پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے مشاہدے سے ہم یکسر کیسے انکار کرسکتے ہیں؟ اس لیے اسی میں بہتری ہے کہ ایک ہی پیر کے ساتھ تعلق قائم کیا جائے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٢ تا ١٤ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط 3 سوال 16-11

قسط: ٣

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(١١) سوال:
آپ نے جن چیزوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ تصوف سے حاصل ہوتی ہیں کیا محض تصوف کی کتابیں پڑھ کر ان مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
عالم امکان میں تو ہے لیکن تجربے سے یہی ثابت ہے کہ ایسا بغیر کسی کی رہنمائی کے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ایک شعر ہے:

گر ہوائے ایں سفر داری دلا
دامن رہبر بگیر و پس بیا
بے رفیقے ہر کہ شد در راہ عشق
عمر بگزشت و نشد آگاہ عشق

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس سفر پر جانا ہے تو رہبر کا ہونا لازمی ہے کیونکہ جو اس راستے میں بغیر رہبر کے چلا اس کی عمر گزر گئی اور اس کو مقصود حاصل نہیں ہوا۔ عقلی توجیہ اس کی یہ ہے کہ جو شخص ان مقاصد کو حاصل کرے گا وہ یا تو مخلص ہوگا یا نہیں ہوگا۔ پس اگر مخلص نہیں ہے تو آسانی کی تلاش میں ہوگا اور پہلے ہی قدم پر نفس کے مکر کا شکار ہوجائے گا۔ کیونکہ یہ راستہ ہی نفس کی تربیت کا ہے اور تربیت میں تو مجاہدہ ہوتا ہے اور مجاہدے کی نفس مزاحمت کرے گا اس لیے یہ کبھی منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکے گا۔ دوسری طرف اگر یہ مخلص ہے تو اخلاص کی وجہ سے اپنے نفس کے مکر سے بچنے کے لیے اپنے لیے مشکل راستہ چنے گا۔ اس سے مجاہدہ تحمل سے باہر ہو جائے گا تو یا تو اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھتے ہوئے اس راستے کو خیر باد کہہ دے گا یا پھر اس کو ایسی جسمانی تکالیف پیش آسکتی ہیں جس سے بعد میں خود بخود اعمال ساقط ہوجائیں گے۔ پس دونوں صورتوں میں محرومی ہوگی۔ اس کے برعکس اگر کسی کی نگرانی میں کام کرے گا تو وہ اس سے مجاہدہ تو کرائے گا لیکن بقدر تحمل، نیز تجربے سے اس پر عمل سہل ہوجائے گا اور سب سے بڑی بات کہ غیر یقینی صورت حال سے جو اس پر بے انتہا بوجھ پڑتا ہے وہ نہیں پڑے گا۔

(١٢) سوال:
یہاں رہنمائی اور غیر یقینی صورت حال سے کیا مراد ہے؟

جواب:
رہنمائی سے مراد یہ ہے کہ ہر کام پوچھ پوچھ کے کیا جائے۔ کیونکہ نفس کے امراض کا اول تو خود ادراک ہوجانا مشکل ہے اور اگر ان کا ادراک ہو بھی جائے تو اس کا خود علاج کرنا بہت مشکل ہے۔ غیر یقینی صورت حال سے مراد یہ ہے کہ طالب اگر مخلص ہے تو اس کو اپنی اصلاح کے لیے نفس پر کتنا بوجھ ڈالنا چاہیئے اور اس کی کتنی رعایت کرنی چاہیئے؟

(١٣) سوال:
رہنمائی پھر کس کی ہونی چاہئے؟

جواب:
شیخ کامل کی جس کو بعض لوگ پیر بھی کہتے ہیں۔

(١٤) سوال:
پیر کے بارے میں سنا تو بہت کچھ ہے لیکن پیر ہوتا کیا ہے؟

جواب:
پیر مربی ہوتا ہے۔ جو شخص اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو جیسا کہ پہلے کہا گیا خود اپنی اصلاح بہت مشکل ہوتی ہے اس لیے کسی کو اپنا رہبر بنانا پڑتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنے پیر کے ساتھ ایک تعلق ہوجاتا ہے اور اس کو اپنے بارے میں بتاتا جاتا ہے۔ اس لیے اس کو اس کے بارے میں زیادہ سے زیاد معلومات حاصل ہورہی ہوتی ہیں۔پھر جب وہ کسی چیز کے بارے میں اس سے مشورہ کرتا ہے تو اس کا مشورہ اپنے مرید کے لیے باقی لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

(١٥) سوال:
کیا اس پیری مریدی کی اسلام میں گنجائش ہے؟

جواب:
کیوں نہیں؟ جس طرح استاد شاگرد کی گنجائش ہے یا جس طرح ڈاکٹر اور مریض کی گنجائش ہے اسی طرح پیری مریدی کی گنجائش ہے۔ ہر شخص اپنی اصلاح کے لیے ایک پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دیتا ہے جس سے وہ اصلاح لیتا ہے۔ اپنی اصلاح فرض عین ہے اور پیر کا ہاتھ پکڑنا اس کے لیے ایک ذریعہ ہے۔ اس لیے اس کے جواز میں کیا اختلاف ہوسکتا ہے؟ مرید ایک طرح سے روحانی مریض ہے اور دوسری حیثیت سے تصوف کے علوم کا شاگرد ہے۔ دونوں حیثیتیں چونکہ ثابت ہیں۔ اس لیے مرید ہونا بھی جائز ہے اور پیر کا ہاتھ پکڑنا بھی جائز۔

(١٦) سوال:
ہم نے تو سنا تھا کہ مزاج تبدیل نہیں ہوسکتے جبکہ آپ تو شاید اس کو ممکن سمجھتے ہیں؟

جواب:
جی ہاں! آپ نے ٹھیک سنا ہے طبیعت تبدیل نہیں ہوسکتی لیکن عادت تبدیل ہوسکتی ہے۔ مشائخ کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مرید کی طبیعت کو پہچان لیں اور اس کی طبیعت کے مطابق اس سے کام لیں اور اس کو صحیح راستے پر گامزن کر کے اس کی عادت درست کردیں۔ آخر صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) میں بھی تو ہر قسم کی طبیعتیں تھیں۔ جب ان کی اصلاح ہوگئی تو ہر ایک ہدایت کا مینار بن گیا اور سب کے بارے میں فرمایا گیا کہ جس کے پیچھے بھی جاؤگے ہدایت پالوگے۔ پس طبیعتیں تو تبدیل نہیں ہوسکتیں لیکن ہر طبیعت کی اصلاح ہوسکتی ہے۔ آج کل کی زبان میں اگر طبیعت کو ' Hardware' کہا جائے تو عادت کو ' Software' کہا جاسکتاہے۔ پس 'Hardware' تو ہر ایک ساتھ لے کے آتا ہے لیکن اس میں ' Software ' ماحول، والدین یا مشائخ ڈالتے ہیں۔

(جاری ہے) 

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٠ تا ١٢ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط 2 سوال 1

قسط: ٢

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٥) سوال:
ٹھیک ہے، لیکن صوفیاء کرام تو بعض اوقات ایسی باتیں کرلیتے ہیں یا ایسے کام کرتے ہیں کہ قرون اولیٰ میں ان کی نظیر نہیں ملتی اس لیے بدعت کی تعریف سے ان کو نکالنا مشکل معلوم ہورہا ہے؟

جواب:
بدعت کی سب سے زیادہ واضح تعریف جو میرے ذہن میں ہے وہ یہ ہے کہ کوئی ایسی بات جس کے لیے دلیل شرعی نہ ہو اس کو دین سمجھنا بدعت ہوگا۔ اگر آپ کا اشارہ اس طرف ہے کہ تصوف کو بعض لوگ بدعت سمجھتے ہیں تو میں یہ واضح کردوں کہ وہ غلطی پر ہیں کیونکہ جو تصوف کے مقاصد ہیں وہ قُرآن اور حدیث سے ثابت ہیں جیسے تکبر کی جو مذمت ہے وہ قُرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ اسی طرح عجب، حسد، کینہ، بغض اور ریاء کی مذمت قُرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ اسی طرح تفویض (اپنے آپ کو ﷲ تعالیٰ کے سپرد کرنا)، توکل (ﷲ تعالیٰ پر بھروسا کرنا)، تواضع (اپنے آپ کو کم تر سمجھنا) کی فضیلت اور حکم قُرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ پس اگر کوئی ان کو ہی مقاصد سمجھے اور ان کو حاصل کرنے کے جو طریقے ہیں ان کو محض ذرائع سمجھے تو پھر اس پر بدعت کی تعریف کیسے آسکتی ہے؟ مثلاً آپ ﷺ کے دور میں جو علوم کو حاصل کرنے کا طریقہ تھا، آج کل وہ نہیں لیکن چونکہ علم حاصل کرنا سب لوگ قُرآن اور حدیث سے ثابت سمجھتے ہیں تو علوم کو حاصل کرنے کے جو ذرائع ہیں ان پر کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا۔ اسی طرح جو تصوف کے مقاصد ہیں اگر ان کو کوئی مقاصد سمجھتے ہوئے ان کے حاصل کرنے کے طور طریقوں کو محض ذرائع سمجھے تو پھر تصوف پر بھی کوئی اعتراض یا اس کے بدعت ہونے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

(٦) سوال:
کچھ کچھ بات سمجھ میں آرہی ہے۔ آپ کی بات تو ٹھیک ہے لیکن آج کل بعض لوگ تصوف کے نام پر ایسے ایسے اعمال کرتے ہیں جو کہ صراحتاً شرک و بدعت ہیں اس لیے سدباب کے طور پر اگر لوگوں کو اس سے بچایا جائے تو کیا یہ درست نہیں ہوگا؟

جواب:
سدباب کی تجویز بہت مناسب ہے لیکن یہاں پر اس کو منطبق کرنا بڑا عجیب ہے۔ اگر لوگ اسلام کے نام پر غلط چیزیں شامل کریں تو کیا سدباب کے لیے اسلام کو ہی سلام کردیں گے؟ یہ تو بالکل وہی بات ہے کہ بعض ناواقف لوگ کہتے ہیں کہ داڑھی اب غلط لوگ رکھنے لگے ہیں اس لیے ہم اب داڑھی نہیں رکھ سکتے۔ یاد رکھئے! جو خدا اور رسول ﷺ کا حکم ہو اس کو اگر غلط لوگ غلط طریقے سے کرنے لگیں تو اس کا توڑ یہ نہیں کہ اس کو چھوڑ دیا جائے بلکہ اس کا توڑ یہ ہوگا کہ اس کو صحیح طریقے سے کرنے کو رواج دیا جائے۔ یہی طریقہ ہم تصوف کے ساتھ اختیار کرنا چاہتے ہیں کہ اسکے صحیح طریقوں کو رواج دیا جائے۔ ہماری کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

(٧) سوال:
وہ کونسے کام ہیں جو طریقت میں لازمی طور پر کرنے ہوتے ہیں؟

جواب:
ذرا غور فرمائیے! اعمال باطنی دو قسموں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں۔ ایک محمود ہیں یعنی پسندیدہ اعمال جیسے تواضع، اخلاص وغیرہ اور دوسرے مذموم یعنی ناپسندیدہ اعمال ہیں جیسے تکبر اور ریاء وغیرہ۔ طریقت میں اس کی کوشش کی جاتی ہے کہ مذموم اعمال ختم ہوجائیں اور محمود اعمال پیدا ہوجائیں۔ پہلے کو تخلیہ یا تجلیہ کہتے ہیں اور دوسرے کو تحلیہ کہتے ہیں۔

(٨) سوال: 
تصوف سے کیا حاصل ہوتا ہے؟

جواب:
ظاہراً دو قسم کے ثمرات اس سے حاصل ہوجاتے ہیں۔ (١) بندے کے دل کی درستگی یعنی محمود اعمال کے لیے دل کا تیار ہوجانا اور نفس کا رذائل سے پاک ہوجانا۔ دوسرے لفظوں میں بندہ فی الحقیقت بندہ بن جاتا ہے (٢) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی قبولیت یعنی بندے کا اللہ والا بن جانا۔ اسی کو وصول کہتے ہیں اور اسی کو نسبت کہتے ہیں۔

(٩) سوال:
کیا وصول اختیاری ہے؟

جواب:
نہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔

(١٠) سوال:
اگر یہ اختیاری نہیں تو ہم اس کے لیے کیسے کوشش کر سکتے ہیں؟

جواب:
اچھا اور موقع کا سوال ہے لیکن جواب ذرا غور سے سنیے! ہم جانتے ہیں کہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے اعمال پر نہیں لیکن پھر بھی ہمیں اعمال کا حکم دیا جاتا ہے اور جیسا کہ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم بے فائدہ نہیں اس لیے ہمارا کام عمل کرنا ہے نتیجہ خدا کے حوالے ہے۔ تو جس طرح باوجود اس کے کہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے ہم اس کو اپنے لیے مقصد سمجھتے ہیں اور اس کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح ہمارا کام باطنی اعمال کی درستگی ہے جو اختیاری ہے اور اس کا حکم ہے لیکن اس پر نسبت کا حاصل ہونا اگرچہ غیر اختیاری ہے لیکن ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے بھروسہ پر بلا چوں و چرا عمل جاری رکھیں گے۔اللہ تعالیٰ کی جب حکمت ہوگی نسبت عطا فرمادیں گے۔

(جاری ہے) 

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٧ تا ١٠ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط 1

قسط: ١ 

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(١) سوال: 
تصوف ایک متنازعہ لفظ سمجھا جاتا ہے۔ لوگوں کے اس کے بارے میں بڑے تحفظات ہیں۔ آپ کی تصوف کے بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب: 
جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ تصوف کا لفظ متنازعہ ہے لیکن اس کا متنازعہ ہونا حقیقی نہیں بلکہ بعض حضرات نے ناسمجھی کی وجہ سے اس کے غلط معنی سمجھ لیے لہٰذا اس کی افادیت سے انکار کر بیٹھے۔ حقیقت میں کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جو ظاہر میں کرنے کے ہوتے ہیں جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ... اور کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جو کہ دل کے اعمال ہوتے ہیں جن کا پتہ کسی اور کو نہیں چلتا۔ ان کا پتہ صرف اللہ تعالیٰ کو یا کرنے والے کو ہوتا ہے اور ان ہی اعمال پر ظاہری اعمال منحصر ہوتے ہیں۔ اگر کسی کے یہ دل والے اعمال درست نہ ہوں تو بے شک ان کے ظاہر کے اعمال درست بھی ہوں وہ قبولیت کا درجہ نہیں پاتے یا بعض ظاہری اعمال ان باطنی اعمال کی خرابی کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں۔ پس ان باطنی اعمال کا یعنی دل کے اعمال کا درست کرنا بھی ضروری ہوا بلکہ اشد ضروری ہوا۔ پس وہ طور طریقے اختیار کرنا جس سے یہ دل والے اعمال درست ہوجائیں تصوف کہلاتا ہے۔ شریعت کے طور طریقوں کو چونکہ فقہ بھی کہتے ہیں لہٰذا اس معنی میں تصوف کو فقہ الباطن بھی کہتے ہیں۔

(٢) سوال:
صوفیاء کرام کی اصطلاح میں طریقت، حقیقت اور معرفت کے الفاظ بولے جاتے ہیں آپ ان کی وضاحت فرمائیں گے؟

جواب: 
ظاہری اعمال کو درست کرنے کے طریقوں کو فقہ کہتے ہیں اور باطنی اعمال کو درست کرنے کے طریقوں کو طریقت کہتے ہیں۔ جب دل کی اصلاح اور صفائی ہوجاتی ہے تو اس کی وجہ سے کچھ اعمال اور اشیاء کے خواص اور حقائق منکشف ہوجاتے ہیں۔ اسی انکشاف کو حقیقت کہتے ہیں پھر جب یہ انکشافات ہوجاتے ہیں تو بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق قائم ہوجاتا ہے کہ بندہ اپنے حالات کے مطابق رب کی منشاء کو سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی جو بھی حالت ہے اس میں اللہ تعالیٰ کس کام سے زیادہ راضی ہوں گے مثلاً حضرت ایوب علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ کی منشاء کا یہ اندازہ ہوا کہ ﷲ تعالیٰ کا مجھ سے موجودہ حال میں صبر کا مطالبہ ہے تو انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا اور جب ان کو یہ اندازہ ہوا کہ اب ﷲ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ میں عاجزی اختیار کروں اور عافیت مانگوں تو ﷲ تعالیٰ سے عافیت مانگی اور پھر جب ﷲ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کے گھر میں سونے کی ٹڈیوں کی بارش فرمادی تو جھولیاں بھر بھر کر جمع فرماتے رہے اور اس آواز پر کہ ایوب کیا تیرا پیٹ ابھی نہیں بھرا فرمایا کہ یا ﷲ میرا پیٹ تیری نعمتوں سے کب بھر سکتا ہے۔ یہ سب معرفت الٰہی کے کرشمے ہیں۔

(٣) سوال: 
بحیثیت مسلمان ہم کوئی ایسا عمل نہیں کرسکتے جو قُرآن اور حدیث سے ثابت نہ ہو۔ کیا تصوف قُرآن و حدیث سے ثابت ہے؟

جواب: 
ذرا اس کی تعریف میں غور کیجئے کہ اس میں کونسی چیز قُرآن و حدیث سے خارج ہے؟

(٤) سوال: 
تعریف میں طور طریقوں کا ذکر بھی آیا ہے ان کو قُرآن و حدیث سے کیسے ثابت کریں گے؟

جواب: 
جہاں تک اس کے طور طریقوں کی بات ہے تو اگر ان کو محض ذرائع مانا جائے تو پھر اس پر خلاف شریعت کا حکم نہیں لگایا جاسکتا جیسے کوئی حج کو فرض مانتا ہے اور اس کے لیے جہاز پر سفر کو محض ذریعہ سمجھتا ہے اب گو کہ قرون اولیٰ میں جہاز کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن محض جہاز پر جانے کو کوئی بدعت کہتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ اس کو وہ صرف ذریعہ سمجھ رہا ہے ہاں اگر کوئی جہاز پر جانے کو ہی مقصود قرار دے اور دوسرے ذرائع کو غیر شرعی قرار دے تو یہ دین میں زیادتی اور بدعت ہوگی۔ اس لیے اس سے بچنا ضروری ہوگا۔ بعینہ یہاں بھی اگر ان طریقوں کو محض ذریعہ سمجھا جائے اور ان کو مقاصد میں شامل نہ سمجھا جائے تو پھر کوئی حرج نہیں۔

(جاری ہے) 

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٦-٧ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ


روحانی بیماریوں کی تشخیص *

*روحانی بیماریوں کی تشخیص*
====  *﷽*   ===
*السلام و علیکم و رحمتہ اللہ*
( _جواب ضرور دیجئے گا زبان سے_ )
*

 روحانی بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج کا نام "تصوف " ہے۔ جس کو قرآن کریم میں " تزکیہ نفس" اور حدیث میں لفظ " احسان " سے تعبیر کیا گیا ہے۔*
*عقائد و اعمال کی اصلاح فرض ہے۔ جس کے لیے صحیح والعقیدہ،سنت کے پابند،دنیا سے بے رغبت اور آخرت کے طالب،مجازِ بیعت ،شیخ طریقت سے بیعت ہونا مستحب بلکہ واجب کے قریب ہے۔ 

حوالہ کتب ! صراطِ مستقیم کورس صفحہ نمبر 119