Saturday, August 27, 2022

تصوف کیا ہے قسط14 سوال 93-86

قسط: ١٤

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٨٦) سوال:
آپ نے فرمایا تھا کہ ذکر دل سے بھی ہوتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے ؟

جواب:
جی ہاں! یہ ممکن ہے اور انتہائی لذیذ اور مفید ذکر ہے۔

(٨٧) سوال:
اس کی کچھ مزید تفصیل بتا سکتے ہیں؟

جواب:
جی ہاں! اس کو حاصل کرنے کے طریقے ہیں۔ نقشبندیہ میں یہ ابتدا میں تلقین کیا جاتا ہے جبکہ چشتیہ میں کچھ تیاری کے بعد یہ تلقین کیا جاتا ہے اور بعض کو ذکر لسانی کثرت سے کرنے سے یہ نعمت حاصل ہوجاتی ہے اور یہ زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہر وقت اور ہر جگہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے ذکر قلبی سے آدمی دائم الذکر بن سکتا ہے۔ یہی ذکر قلبی جب مزید راسخ ہوجاتا ہے تو اس کا اثر جسم کے دوسرے حصوں میں سرایت کرجاتا ہے اور مختلف مقامات پر اس کا اثر محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس وقت ان کو لطائف کا جاری ہونا کہتے ہیں۔

(٨٨) سوال:
کیا یہ لطائف خود بخود جاری ہوتے ہیں یا ان کو کوشش سے بھی جاری کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
جی ہاں! یہ کوشش کی جاسکتی ہے۔نقشبندیہ حضرات ان کو یکے بعد دیگرے ایک ترتیب سے جاری کرتے ہیں اور چشتی حضرات صرف قلب کو اصل لطیفہ سمجھتے ہیں اور باقی لطائف کو اس کی فروعات مانتے ہیں جو کہ قلب پر محنت سے خود بخود حاصل ہوجاتے ہیں۔

(٨٩) سوال:
اس چیز کا پتہ کیسے چلتا ہے کہ لطائف جاری ہوئے ہیں یا نہیں؟

جواب:
ہر ہر لطیفہ کی اپنی جگہ ہے۔ لطیفہ قلب دل کی جگہ، لطیفہ روح دائیں پستان کے نیچے قلب کے محاذ میں ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان لطیفہ سِر ہوتا ہے۔ ہونٹوں اور بعض کی تحقیق کے مطابق پیشانی کے مقام پر لطیفہ خفی ہوتا ہے اور ام الدماغ یعنی سَر کے بیچ لطیفہ اخفیٰ ہوتا ہے۔ لطیفہ نفس ناف کے مقام پر ہوتا ہے۔ ” ان کے مقامات میں بعض کشفی اختلافات بھی ہیں۔“ ان مقامات پر سالک کو ذکر محسوس ہوتا ہے جو کہ اللہ، اللہ، اللہ ہو یا لا الہ الا اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ ان مقامات کے اپنے انوارات بھی ہوتے ہیں جو اہل کشف کو نظر آتے ہیں۔ اس لیے بعض حضرات نے ان کے انوارات کے بارے میں بھی تحریر فرمایا ہے لیکن ان انوارات کا سب کو نظر آنا ضروری نہیں۔ کیونکہ یہ کشفی ہیں اور بعض کو کشف سے مناسبت نہیں ہوتی۔ لیکن کشف کوئی مقصود نہیں ہے۔

(٩٠) سوال:
کشف تو بڑی مفید چیز ہے تو پھر یہ مقصود کیوں نہیں؟

جواب:
ہمارا مقصد چونکہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے جس کے لیے کشف کا ہونا ضروری نہیں۔ اس لیے مقصود کیسے ہوسکتا ہے؟ جہاں تک اس کے مفید ہونے کا تعلق ہے تو وہ اس کے استعمال پر موقوف ہے بعض کے لیے نعمت ہوتا ہے بعض کے لیے آزمائش۔ اس لیے جن کو خود بخود حاصل ہوجائے وہ تو اس کی قدر کریں اور اس کا صحیح استعمال کریں اور جن کو نہ دیا جائے وہ اس پر شکر کریں اور اس کے نہ ملنے کی کوئی پرواہ نہ کریں۔

(٩١) سوال:
کشف ہوتا کیا ہے؟

جواب:
کشف کا مطلب کسی چیز کا پردہ سے باہر آجانا۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم تکوینی، یعنی ماضی، حال، مستقبل کی کسی بات یا کام کا پتہ چلے یا دور و نزدیک کسی بات یا چیز کا پتہ چلے جس کو عام لوگ اپنے عام حواس سے معلوم نہ کرسکیں۔ دوسری قسم علمی، جس میں کسی بات کے صحیح اور درست ہونے کا پتہ چلے۔ یہ دوسری قسم کا کشف بہت مفید ہے اس کی دعا بھی کرنی چاہیئے۔ اس کو شرح صدر کہا گیا ہے۔ قُرآن میں اس کی دعا ”رب الشرح لی صدری...“ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ثابت ہے۔

(٩٢) سوال:
یہ آخری کشف تو پھر مقصود ہوا نا پھر اس کو غیر مقصود کیسے کہہ سکتے ہیں؟

جواب:
میں نے یہ کہا ہے کہ اس کے لیے دعا کی جاسکتی ہے یہ مفید ہے پھر اللہ تعالیٰ جس کے لیے جو مناسب سمجھے اس پر راضی رہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہونا تصوف کے مقاصد میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ساتھ اس کے احوال کے مطابق معاملہ کرتا ہے اس لیے جس کو جتنے وسائل دیئے گئے ہیں اس سے اتنا ہی پوچھا جائے گا۔

(٩٣) سوال:
آپ نے مراقبہ کے بارے میں بھی فرمایا تھا یہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:
مراقبہ دل کی سوچ کو کہتے ہیں۔ کسی مطلوب بات کا اس طریقے سے سوچنا کہ وہ مطلوب حاصل ہوجائے مراقبہ کہلاتا ہے۔ انسان کی قوت تصور بہت عجیب ہے اگر اس سے کام لیا جائے تو بڑے بڑے کام ہوسکتے ہیں۔ بعض حضرات اس چیز کو بہت ہلکا سمجھتے ہیں کہ سوچنے سے کیا ہوتا ہے۔ وہ حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ مذہب میں تو سب کچھ تصور سے ہوتا ہے۔ عقائد سب تصورات ہیں جو کہ دین کی اساس ہیں۔ محبت کے ہونے نہ ہونے میں تصور کو بہت دخل ہے۔ فکر تصور ہی کی ایک قسم ہے جس سے اعمال وجود میں آتے ہیں۔ اس لیے دل کی سوچ کو ترتیب دینے کے لیے مشائخ اس قوت سے کام لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں بندہ کے گمان کے ساتھ ہوں۔ مراقبہ سے اچھے گمان کا حصول ممکن ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٣٤ تا ٣٦ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ

No comments: