قسط: ١
تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭
(١) سوال:
تصوف ایک متنازعہ لفظ سمجھا جاتا ہے۔ لوگوں کے اس کے بارے میں بڑے تحفظات ہیں۔ آپ کی تصوف کے بارے میں کیا رائے ہے؟
جواب:
جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ تصوف کا لفظ متنازعہ ہے لیکن اس کا متنازعہ ہونا حقیقی نہیں بلکہ بعض حضرات نے ناسمجھی کی وجہ سے اس کے غلط معنی سمجھ لیے لہٰذا اس کی افادیت سے انکار کر بیٹھے۔ حقیقت میں کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جو ظاہر میں کرنے کے ہوتے ہیں جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ... اور کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جو کہ دل کے اعمال ہوتے ہیں جن کا پتہ کسی اور کو نہیں چلتا۔ ان کا پتہ صرف اللہ تعالیٰ کو یا کرنے والے کو ہوتا ہے اور ان ہی اعمال پر ظاہری اعمال منحصر ہوتے ہیں۔ اگر کسی کے یہ دل والے اعمال درست نہ ہوں تو بے شک ان کے ظاہر کے اعمال درست بھی ہوں وہ قبولیت کا درجہ نہیں پاتے یا بعض ظاہری اعمال ان باطنی اعمال کی خرابی کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں۔ پس ان باطنی اعمال کا یعنی دل کے اعمال کا درست کرنا بھی ضروری ہوا بلکہ اشد ضروری ہوا۔ پس وہ طور طریقے اختیار کرنا جس سے یہ دل والے اعمال درست ہوجائیں تصوف کہلاتا ہے۔ شریعت کے طور طریقوں کو چونکہ فقہ بھی کہتے ہیں لہٰذا اس معنی میں تصوف کو فقہ الباطن بھی کہتے ہیں۔
(٢) سوال:
صوفیاء کرام کی اصطلاح میں طریقت، حقیقت اور معرفت کے الفاظ بولے جاتے ہیں آپ ان کی وضاحت فرمائیں گے؟
جواب:
ظاہری اعمال کو درست کرنے کے طریقوں کو فقہ کہتے ہیں اور باطنی اعمال کو درست کرنے کے طریقوں کو طریقت کہتے ہیں۔ جب دل کی اصلاح اور صفائی ہوجاتی ہے تو اس کی وجہ سے کچھ اعمال اور اشیاء کے خواص اور حقائق منکشف ہوجاتے ہیں۔ اسی انکشاف کو حقیقت کہتے ہیں پھر جب یہ انکشافات ہوجاتے ہیں تو بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق قائم ہوجاتا ہے کہ بندہ اپنے حالات کے مطابق رب کی منشاء کو سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی جو بھی حالت ہے اس میں اللہ تعالیٰ کس کام سے زیادہ راضی ہوں گے مثلاً حضرت ایوب علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ کی منشاء کا یہ اندازہ ہوا کہ ﷲ تعالیٰ کا مجھ سے موجودہ حال میں صبر کا مطالبہ ہے تو انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا اور جب ان کو یہ اندازہ ہوا کہ اب ﷲ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ میں عاجزی اختیار کروں اور عافیت مانگوں تو ﷲ تعالیٰ سے عافیت مانگی اور پھر جب ﷲ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کے گھر میں سونے کی ٹڈیوں کی بارش فرمادی تو جھولیاں بھر بھر کر جمع فرماتے رہے اور اس آواز پر کہ ایوب کیا تیرا پیٹ ابھی نہیں بھرا فرمایا کہ یا ﷲ میرا پیٹ تیری نعمتوں سے کب بھر سکتا ہے۔ یہ سب معرفت الٰہی کے کرشمے ہیں۔
(٣) سوال:
بحیثیت مسلمان ہم کوئی ایسا عمل نہیں کرسکتے جو قُرآن اور حدیث سے ثابت نہ ہو۔ کیا تصوف قُرآن و حدیث سے ثابت ہے؟
جواب:
ذرا اس کی تعریف میں غور کیجئے کہ اس میں کونسی چیز قُرآن و حدیث سے خارج ہے؟
(٤) سوال:
تعریف میں طور طریقوں کا ذکر بھی آیا ہے ان کو قُرآن و حدیث سے کیسے ثابت کریں گے؟
جواب:
جہاں تک اس کے طور طریقوں کی بات ہے تو اگر ان کو محض ذرائع مانا جائے تو پھر اس پر خلاف شریعت کا حکم نہیں لگایا جاسکتا جیسے کوئی حج کو فرض مانتا ہے اور اس کے لیے جہاز پر سفر کو محض ذریعہ سمجھتا ہے اب گو کہ قرون اولیٰ میں جہاز کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن محض جہاز پر جانے کو کوئی بدعت کہتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ اس کو وہ صرف ذریعہ سمجھ رہا ہے ہاں اگر کوئی جہاز پر جانے کو ہی مقصود قرار دے اور دوسرے ذرائع کو غیر شرعی قرار دے تو یہ دین میں زیادتی اور بدعت ہوگی۔ اس لیے اس سے بچنا ضروری ہوگا۔ بعینہ یہاں بھی اگر ان طریقوں کو محض ذریعہ سمجھا جائے اور ان کو مقاصد میں شامل نہ سمجھا جائے تو پھر کوئی حرج نہیں۔
(جاری ہے)
📚 تصوف کا خلاصہ ص ٦-٧ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ
No comments:
Post a Comment