Saturday, August 20, 2022

تصوف کیا ہے قسط 2 سوال 1

قسط: ٢

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٥) سوال:
ٹھیک ہے، لیکن صوفیاء کرام تو بعض اوقات ایسی باتیں کرلیتے ہیں یا ایسے کام کرتے ہیں کہ قرون اولیٰ میں ان کی نظیر نہیں ملتی اس لیے بدعت کی تعریف سے ان کو نکالنا مشکل معلوم ہورہا ہے؟

جواب:
بدعت کی سب سے زیادہ واضح تعریف جو میرے ذہن میں ہے وہ یہ ہے کہ کوئی ایسی بات جس کے لیے دلیل شرعی نہ ہو اس کو دین سمجھنا بدعت ہوگا۔ اگر آپ کا اشارہ اس طرف ہے کہ تصوف کو بعض لوگ بدعت سمجھتے ہیں تو میں یہ واضح کردوں کہ وہ غلطی پر ہیں کیونکہ جو تصوف کے مقاصد ہیں وہ قُرآن اور حدیث سے ثابت ہیں جیسے تکبر کی جو مذمت ہے وہ قُرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ اسی طرح عجب، حسد، کینہ، بغض اور ریاء کی مذمت قُرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ اسی طرح تفویض (اپنے آپ کو ﷲ تعالیٰ کے سپرد کرنا)، توکل (ﷲ تعالیٰ پر بھروسا کرنا)، تواضع (اپنے آپ کو کم تر سمجھنا) کی فضیلت اور حکم قُرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ پس اگر کوئی ان کو ہی مقاصد سمجھے اور ان کو حاصل کرنے کے جو طریقے ہیں ان کو محض ذرائع سمجھے تو پھر اس پر بدعت کی تعریف کیسے آسکتی ہے؟ مثلاً آپ ﷺ کے دور میں جو علوم کو حاصل کرنے کا طریقہ تھا، آج کل وہ نہیں لیکن چونکہ علم حاصل کرنا سب لوگ قُرآن اور حدیث سے ثابت سمجھتے ہیں تو علوم کو حاصل کرنے کے جو ذرائع ہیں ان پر کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا۔ اسی طرح جو تصوف کے مقاصد ہیں اگر ان کو کوئی مقاصد سمجھتے ہوئے ان کے حاصل کرنے کے طور طریقوں کو محض ذرائع سمجھے تو پھر تصوف پر بھی کوئی اعتراض یا اس کے بدعت ہونے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

(٦) سوال:
کچھ کچھ بات سمجھ میں آرہی ہے۔ آپ کی بات تو ٹھیک ہے لیکن آج کل بعض لوگ تصوف کے نام پر ایسے ایسے اعمال کرتے ہیں جو کہ صراحتاً شرک و بدعت ہیں اس لیے سدباب کے طور پر اگر لوگوں کو اس سے بچایا جائے تو کیا یہ درست نہیں ہوگا؟

جواب:
سدباب کی تجویز بہت مناسب ہے لیکن یہاں پر اس کو منطبق کرنا بڑا عجیب ہے۔ اگر لوگ اسلام کے نام پر غلط چیزیں شامل کریں تو کیا سدباب کے لیے اسلام کو ہی سلام کردیں گے؟ یہ تو بالکل وہی بات ہے کہ بعض ناواقف لوگ کہتے ہیں کہ داڑھی اب غلط لوگ رکھنے لگے ہیں اس لیے ہم اب داڑھی نہیں رکھ سکتے۔ یاد رکھئے! جو خدا اور رسول ﷺ کا حکم ہو اس کو اگر غلط لوگ غلط طریقے سے کرنے لگیں تو اس کا توڑ یہ نہیں کہ اس کو چھوڑ دیا جائے بلکہ اس کا توڑ یہ ہوگا کہ اس کو صحیح طریقے سے کرنے کو رواج دیا جائے۔ یہی طریقہ ہم تصوف کے ساتھ اختیار کرنا چاہتے ہیں کہ اسکے صحیح طریقوں کو رواج دیا جائے۔ ہماری کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

(٧) سوال:
وہ کونسے کام ہیں جو طریقت میں لازمی طور پر کرنے ہوتے ہیں؟

جواب:
ذرا غور فرمائیے! اعمال باطنی دو قسموں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں۔ ایک محمود ہیں یعنی پسندیدہ اعمال جیسے تواضع، اخلاص وغیرہ اور دوسرے مذموم یعنی ناپسندیدہ اعمال ہیں جیسے تکبر اور ریاء وغیرہ۔ طریقت میں اس کی کوشش کی جاتی ہے کہ مذموم اعمال ختم ہوجائیں اور محمود اعمال پیدا ہوجائیں۔ پہلے کو تخلیہ یا تجلیہ کہتے ہیں اور دوسرے کو تحلیہ کہتے ہیں۔

(٨) سوال: 
تصوف سے کیا حاصل ہوتا ہے؟

جواب:
ظاہراً دو قسم کے ثمرات اس سے حاصل ہوجاتے ہیں۔ (١) بندے کے دل کی درستگی یعنی محمود اعمال کے لیے دل کا تیار ہوجانا اور نفس کا رذائل سے پاک ہوجانا۔ دوسرے لفظوں میں بندہ فی الحقیقت بندہ بن جاتا ہے (٢) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی قبولیت یعنی بندے کا اللہ والا بن جانا۔ اسی کو وصول کہتے ہیں اور اسی کو نسبت کہتے ہیں۔

(٩) سوال:
کیا وصول اختیاری ہے؟

جواب:
نہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔

(١٠) سوال:
اگر یہ اختیاری نہیں تو ہم اس کے لیے کیسے کوشش کر سکتے ہیں؟

جواب:
اچھا اور موقع کا سوال ہے لیکن جواب ذرا غور سے سنیے! ہم جانتے ہیں کہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے اعمال پر نہیں لیکن پھر بھی ہمیں اعمال کا حکم دیا جاتا ہے اور جیسا کہ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم بے فائدہ نہیں اس لیے ہمارا کام عمل کرنا ہے نتیجہ خدا کے حوالے ہے۔ تو جس طرح باوجود اس کے کہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے ہم اس کو اپنے لیے مقصد سمجھتے ہیں اور اس کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح ہمارا کام باطنی اعمال کی درستگی ہے جو اختیاری ہے اور اس کا حکم ہے لیکن اس پر نسبت کا حاصل ہونا اگرچہ غیر اختیاری ہے لیکن ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے بھروسہ پر بلا چوں و چرا عمل جاری رکھیں گے۔اللہ تعالیٰ کی جب حکمت ہوگی نسبت عطا فرمادیں گے۔

(جاری ہے) 

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٧ تا ١٠ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


No comments: