قسط: ١٠
تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭
(٥٧) سوال:
آج کل کے دور میں مال کی محبت کو کم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:
کم از کم یہ طریقہ ہے کہ جن کو مال کی محبت ہے ان کی صحبت سے دور رہے متوکلین کی صحبت اور موت کی یاد اس میں زیادہ تر معاون ہوسکتی ہے نیز دنیاداروں کی صحبت سے حتی الوسع اجتناب کرنا چاہیئے، رفاہی کاموں میں مخلصین کے مشورے سے ریا سے بچتے ہوئے حصہ لینا بھی مفید ہے۔ ایسے لوگوں کے واقعات زیادہ پڑھیں جو مال کی محبت سے بچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال کو خرچ کرتے ہیں اور مال کی محبت سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور پھر سلوک سب سے بڑا راستہ ہے جب یہ طے ہوجاتا ہے اور انسان کا دل اللہ کے ساتھ لگ جاتا ہے تو مال کی محبت دور ہوجاتی ہے۔
(٥٨) سوال:
آجکل کے دور میں گھر، گاڑی اور دوسری چیزوں کی محبت کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟
جواب:
ضرورت کے درجہ میں ان کا حصول ممنوع نہیں ہے، ضرورت سے زیادہ ہو تو اس بات کو سوچا کرے کہ کتنے لوگ ہیں کہ ان کی ضروریات بھی پورے نہیں ہیں بجائے اس کے میں اپنے آپ کو غیر ضروری چیزوں میں پھنساؤں مجھے لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہیئے تاکہ ﷲ تعالیٰ مجھ سے راضی ہوجائے اور یہ بھی سوچے کہ دنیا ارمان پورے کرنے کے لئے نہیں ہے، اعمال پورے کرنے کے لئے ہے، ہمارے ارمان تو جنت میں پورے ہوں گے ان شاء ﷲ یہاں تو گزارہ کرنا ہے اس لئے یہ سوچے کہ جو چیزیں میں یہاں چاہتا ہوں اور وہ مجھے میسر نہیں ان کی وہاں حصول کے لئے جو میرے پاس یہاں میسر ہیں یعنی اعمال کرنے کی صلاحیتیں ان کو بروئے کار لاکر ان نعمتوں کو وہاں حاصل کرنے کی کوشش کروں۔
(٥٩) سوال:
کیا مجاہدات میں ان خواہشات کی تکمیل سے بالکل روکاجاتا ہے؟
جواب:
نہیں! ضرورت کے درجے میں اجازت دی جاتی ہے اور ضرورت ہر ایک کی مختلف ہوتی ہے جس کی اصلاح نہیں ہوئی اس کو تو بعض اوقات جائز خواہشات کی تکمیل سے بھی روکا جاسکتا ہے۔
(٦٠) سوال:
جائز خواہشات کی تکمیل سے کیوں؟ کیا یہ شریعت میں مداخلت نہیں؟
جواب:
ہر گز نہیں! یہ اصلاح کے لیے ایک عارضی عمل ہے جیسا کہ فوج کی تربیت میں بعض دفعہ فوجیوں کو عام کھانا بھی نہیں دیا جاتا یا ناکافی دیا جاتا ہے یا معیاری نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ آرمی کے پاس کھانے کو کیا نہیں ہوتا؟ بلکہ یہ اس لیے کہ جنگ میں اگر ناخوشگوار حالات پیش آئیں تو اس کے لیے یہ تیار ہوجائیں۔ شریعت میں بھی اس کی نظیر موجود ہے روزہ میں جائز کھانا پینا اور نفسانی خواہش کی تکمیل ایک معین وقت کے لیے روکی جاتی ہے تاکہ اس سے تقویٰ حاصل ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سب اسی لیے کرایا جاتا ہے کہ شریعت پر عمل کرنا آسان ہوجائے۔ دوسری تشریح اس کی یوں ہے کہ جیسے ایک کاغذ کو لپیٹا جائے اب اس کو سیدھا رکھنے کی کوشش کی جائے گی تو ناکامی ہوگی۔ اس کے لیے کاغذ کو دوسری سمت میں لپیٹنا پڑتا ہے جس سے کاغذ بالکل سیدھا ہوسکتا ہے۔ اسی طرح جو نفسانی خواہشات میں پوری طرح گھرا ہوا ہو، عارضی طور پر اسے جائز خواہشات کی تکمیل سے بھی بغرض علاج روکا جاتا ہے۔
(٦١) سوال:
اس مجاہدہ کو پھر کب ساقط کیا جاتا ہے؟
جواب:
جب اصلاح ہوجائے تو پھر صرف ناجائز سے روکا جاتا ہے جائز خواہشات کی تکمیل پر کوئی پابندی نہیں رہتی جیسے افطار کے وقت ہوتا ہے۔
(٦٢) سوال:
آجکل کے دور میں مجاہدے کی ضرورت کس حد تک ہے؟
جواب:
ہر دور میں اس حد تک مجاہدے کی ضرورت رہتی ہے کہ نفس کی خواہش شریعت کے حکم پر غالب نہ آسکے کیونکہ مجاہدے سے نفس کا شریعت سے بغاوت کو توڑنا ہوتا ہے۔بغیر مجاہدے کے نفس کی اصلاح نہیں ہوسکتی دل کی اصلاح البتہ ذکر کے ذریعے ہوسکتی ہے لیکن ذکر سے نفس کی اصلاح نہیں ہوتی۔ تو نفس کی اصلاح کے لئے تو مجاہدے کی ضرورت ہے اور آج کل نفس ہی زیادہ بے لگام ہے اس وجہ سے مجاہدے کی ضرورت ہے دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آجکل مجاہدے کے لئے مشکل سے آمادہ ہوتا ہے۔ اس لئے مجاہدے پر زور مسلسل کم ہورہا ہے نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ میرے پاس ایک سالک آئے اور کہا کہ میں نْقشبندیہ سلوک سارا طے کرچکا ہوں لیکن رمضان میں کیبل سے جان نہیں چھوٹی اور رو پڑا میں نے کہا کہ تو نے ذکر کا سلوک تو طے کیا ہے مجاہدہ کا نہیں کیا اسلئے تیرا دل تو صالح ہے تبھی تو اپنی کیفیت پر روتے ہو لیکن نفس کی چمک ابھی نہیں گئی اس لئے اس کے سامنے بے بس ہو اس سے معلوم ہوا کہ مجاہدے کی ضرورت آج بھی ہے لیکن اس کی کیفیت آج کل کے حالات کے مناسب ہونا چاہیئے۔ اس طرح ہر ایک کا مجاہدہ ایک جیسا ہوتا بھی نہیں ہے مثلاً ایک آدمی ہے جو کبھی بھی بازار سے سودا سلف نہیں لایا۔ اس کے لئے یہی مجاہدہ ہے کہ آپ اس کو بازار بھیج دیں کہ آپ سودا لے آئیں یہ اس کے لئے بہت بڑا مجاہدہ ہوگا اور کسی کو آپ کہہ دیں کہ آپ باہر آجائیں اور گیٹ پر کھڑے رہیں اور جو جو باہر آتا رہے اس کو سلام کریں اور اس کو رخصت کریں یہ بھی بعض کے لئے مجاہدہ ہوتا ہے۔
(جاری ہے)
📚 تصوف کا خلاصہ ص ٢٤ تا ٢٧
No comments:
Post a Comment