Saturday, August 20, 2022

تصوف کیا ہے قسط 9 56-48سوال

قسط: ٩

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٤٩) سوال:
کیا سلوک کی قسمیں بھی ہوتی ہیں؟

جواب:
جی ہاں! دو ہیں۔
سلوک ولایت اور سلوک نبوت۔

(٥٠) سوال:
نبوت تو ختم ہوچکی ہے۔ سلوک نبوت سے پھر کیا مراد ہے؟

جواب:
جی ہاں!
نبوت ختم ہوچکی ہے لیکن اس کا ذوق بعض کو حاصل ہوسکتا ہے۔ جن کا یہ ذوق ہو وہ سلوک نبوت پر چلتے ہیں۔ سلوک ولایت پر نہیں چل سکتے۔

(٥١) سوال:
ان میں فرق کیا ہے؟

جواب:
سلوک ولایت والے پہلے فناء فی الشیخ ہوتے ہیں پھر فناء فی الرسول اور پھر فناء فی اللہ۔ یہ اپنے شیخ پر فریفتہ ہوتے ہیں۔ خلق سے طبعاً دور بھاگتے ہیں۔ لذات سے مجتنب رہتے ہیں۔ اپنے مکاشفات اور تحقیقات پر اطمینان ہوتا ہے اور ان کو حب طبعی حاصل ہوتا ہے۔ مقام توکل میں اسباب ظاہری کو ترک کردیتے ہیں حتیٰ کے بعض اوقات غلبہ حال کی وجہ سے دعا بھی انہماک سے نہیں مانگتے۔ حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی طرف طبعی رحجان ہوتا ہے اور غلبہ حال میں کبھی کبھی شرع کو چھوڑ بھی دیتے ہیں جس میں یہ معذور مگر ناقابل تقلید ہوتے ہیں یہ فناءالفناء اور رضاء کو سب سے اعلیٰ مقام سمجھتے ہیں۔ جبکہ سلوک نبوت والے”لا الہ الا ﷲ محمد الرسول ﷲ“ کی عملی تفسیر ہوتے ہیں۔ اللہ کی محبت کو فقط طریقۂ رسول ﷺ میں ڈھونڈتے ہیں۔ اپنے شیخ کی فضیلت کا دعویٰ نہیں کرتے لیکن اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ ان پر حب عقلی غالب ہوتی ہے اور شریعت کی اتباع میں عقل سے خوب کام لیتے ہیں۔ شریعت پر بڑی پختگی سے عمل کرتے ہیں۔ لذات کو ٹھکراتے نہیں بلکہ شریعت کے دائرے میں استعمال کرکے اس پر شکر ادا کرتے ہیں۔ شیخین کی طرف ان کا طبعی رحجان زیادہ ہوتا ہے۔ خدا کا حکم سمجھ کر دعا میں الحاح کرتے ہیں لیکن اللہ کے فیصلے پر دل سے راضی ہوتے ہیں۔ خلق خدا کو مستفید کرنے پر حریص ہوتے ہیں لیکن اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے۔ یہ سب سے اونچا مقام عبدیت محض (خالص بندگی) کو سمجھتے ہیں۔

(٥٣) سوال:
غلبہ حال میں شرع کو چھوڑ دینے سے معذور ہونے کی وضاحت کریں؟

جواب:
اچھا سوال ہے۔ بعض دفعہ کسی حال مثلاً محبت، خوف وغیرہ کا دل پر ایسا غلبہ ہوجاتا ہے کہ وقتی طور پر عقل کام نہیں کرتی۔ چونکہ انسان شریعت کا اس وقت مکلف ہوتا ہے جب عقل کام کرتی ہو اس لیے ایسی حالت میں ممکن ہے کہ وہ شریعت پر مکمل عمل نہ کرسکے۔ پس اگر وہ اس حالت میں کہ اس کی عقل کام کر رہی ہوتی اور شریعت پر عمل نہ کر رہا ہوتا تو گنہگار ہوتا لیکن اب چونکہ عارضی طور پر اس کی عقل جزوی طور پر کام نہیں کررہی ہے اس لیے اس وقت وہ گنہگار تو نہیں ہے لیکن قابل اقتداء بھی نہیں ہے۔

(٥٤) سوال:
تصوف کے ذرائع میں مجاہدہ کو بھی ایک ذریعہ بتایا جاتا ہے یہ مجاہدہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:
نفس جن خواہشات کی وجہ سے اعمال میں رکاوٹ بنتا ہے ان کے توڑ کے لیے ان کو ضرورت کے درجے تک لانے کے لیے مناسب وقت تک ان خواہشات کی تکمیل سے نفس کو اس حد تک روکنا کہ وہ اعمال کے کرنے میں رکاوٹ نہ بنے، مجاہدہ کہلاتا ہے۔ یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک مجاہدہ جسمانی کہ نفس کو مشقت کا عادی کیا جائے مثلاً تکثیر نوافل سے نماز کا عادی ہونا اور روزہ کی کثرت سے حرص طعام کو کم کرنا دوسری قسم ہے معصیت کے تقاضے کی مخالفت۔ اصل مجاہدہ یہی دوسرا ہے اور پہلا اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

(٥٥) سوال:
وہ کونسی خواہشات ہیں جن کے لیے نفس اعمال میں رکاوٹ بنتا ہے؟

جواب:
ویسے تو بہت سی ہیں لیکن علماء نے ان کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے:
١- حب جاہ: 
یعنی بڑا اور ممتاز ہونے کی خواہش۔
٢- حب باہ: 
یعنی لذات حاصل کرنے کی خواہش۔ 
٣- حب مال: 
یعنی بہت مالدار ہونے کی خواہش۔

(٥٦) سوال:
مال تو اس لیے جمع کیا جاتا ہے کہ آدمی بڑا بنے اور لذتوں کو حاصل کرے تو پھر حب مال کا الگ شعبہ کیوں بنا؟

جواب:
جی نہیں! ہر دفعہ ایسا نہیں ہوتا اس لیے بعض لوگ مال کو جمع کرنے کی کوشش میں اپنی عزت کو بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں مثلاً ڈوم وغیرہ اور بعض اوقات مال کے ساتھ اتنی محبت ہوجاتی ہے کہ اس کو اپنے آرام کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جاتا جیسے بنیئے کا یہ عمل کہ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٢٢ تا ٢٤ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  

https://t.me/tasawwufkiahy

No comments: