Saturday, August 20, 2022

تصوف کیا ہے قسط 3 سوال 16-11

قسط: ٣

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(١١) سوال:
آپ نے جن چیزوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ تصوف سے حاصل ہوتی ہیں کیا محض تصوف کی کتابیں پڑھ کر ان مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
عالم امکان میں تو ہے لیکن تجربے سے یہی ثابت ہے کہ ایسا بغیر کسی کی رہنمائی کے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ایک شعر ہے:

گر ہوائے ایں سفر داری دلا
دامن رہبر بگیر و پس بیا
بے رفیقے ہر کہ شد در راہ عشق
عمر بگزشت و نشد آگاہ عشق

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس سفر پر جانا ہے تو رہبر کا ہونا لازمی ہے کیونکہ جو اس راستے میں بغیر رہبر کے چلا اس کی عمر گزر گئی اور اس کو مقصود حاصل نہیں ہوا۔ عقلی توجیہ اس کی یہ ہے کہ جو شخص ان مقاصد کو حاصل کرے گا وہ یا تو مخلص ہوگا یا نہیں ہوگا۔ پس اگر مخلص نہیں ہے تو آسانی کی تلاش میں ہوگا اور پہلے ہی قدم پر نفس کے مکر کا شکار ہوجائے گا۔ کیونکہ یہ راستہ ہی نفس کی تربیت کا ہے اور تربیت میں تو مجاہدہ ہوتا ہے اور مجاہدے کی نفس مزاحمت کرے گا اس لیے یہ کبھی منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکے گا۔ دوسری طرف اگر یہ مخلص ہے تو اخلاص کی وجہ سے اپنے نفس کے مکر سے بچنے کے لیے اپنے لیے مشکل راستہ چنے گا۔ اس سے مجاہدہ تحمل سے باہر ہو جائے گا تو یا تو اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھتے ہوئے اس راستے کو خیر باد کہہ دے گا یا پھر اس کو ایسی جسمانی تکالیف پیش آسکتی ہیں جس سے بعد میں خود بخود اعمال ساقط ہوجائیں گے۔ پس دونوں صورتوں میں محرومی ہوگی۔ اس کے برعکس اگر کسی کی نگرانی میں کام کرے گا تو وہ اس سے مجاہدہ تو کرائے گا لیکن بقدر تحمل، نیز تجربے سے اس پر عمل سہل ہوجائے گا اور سب سے بڑی بات کہ غیر یقینی صورت حال سے جو اس پر بے انتہا بوجھ پڑتا ہے وہ نہیں پڑے گا۔

(١٢) سوال:
یہاں رہنمائی اور غیر یقینی صورت حال سے کیا مراد ہے؟

جواب:
رہنمائی سے مراد یہ ہے کہ ہر کام پوچھ پوچھ کے کیا جائے۔ کیونکہ نفس کے امراض کا اول تو خود ادراک ہوجانا مشکل ہے اور اگر ان کا ادراک ہو بھی جائے تو اس کا خود علاج کرنا بہت مشکل ہے۔ غیر یقینی صورت حال سے مراد یہ ہے کہ طالب اگر مخلص ہے تو اس کو اپنی اصلاح کے لیے نفس پر کتنا بوجھ ڈالنا چاہیئے اور اس کی کتنی رعایت کرنی چاہیئے؟

(١٣) سوال:
رہنمائی پھر کس کی ہونی چاہئے؟

جواب:
شیخ کامل کی جس کو بعض لوگ پیر بھی کہتے ہیں۔

(١٤) سوال:
پیر کے بارے میں سنا تو بہت کچھ ہے لیکن پیر ہوتا کیا ہے؟

جواب:
پیر مربی ہوتا ہے۔ جو شخص اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو جیسا کہ پہلے کہا گیا خود اپنی اصلاح بہت مشکل ہوتی ہے اس لیے کسی کو اپنا رہبر بنانا پڑتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنے پیر کے ساتھ ایک تعلق ہوجاتا ہے اور اس کو اپنے بارے میں بتاتا جاتا ہے۔ اس لیے اس کو اس کے بارے میں زیادہ سے زیاد معلومات حاصل ہورہی ہوتی ہیں۔پھر جب وہ کسی چیز کے بارے میں اس سے مشورہ کرتا ہے تو اس کا مشورہ اپنے مرید کے لیے باقی لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

(١٥) سوال:
کیا اس پیری مریدی کی اسلام میں گنجائش ہے؟

جواب:
کیوں نہیں؟ جس طرح استاد شاگرد کی گنجائش ہے یا جس طرح ڈاکٹر اور مریض کی گنجائش ہے اسی طرح پیری مریدی کی گنجائش ہے۔ ہر شخص اپنی اصلاح کے لیے ایک پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دیتا ہے جس سے وہ اصلاح لیتا ہے۔ اپنی اصلاح فرض عین ہے اور پیر کا ہاتھ پکڑنا اس کے لیے ایک ذریعہ ہے۔ اس لیے اس کے جواز میں کیا اختلاف ہوسکتا ہے؟ مرید ایک طرح سے روحانی مریض ہے اور دوسری حیثیت سے تصوف کے علوم کا شاگرد ہے۔ دونوں حیثیتیں چونکہ ثابت ہیں۔ اس لیے مرید ہونا بھی جائز ہے اور پیر کا ہاتھ پکڑنا بھی جائز۔

(١٦) سوال:
ہم نے تو سنا تھا کہ مزاج تبدیل نہیں ہوسکتے جبکہ آپ تو شاید اس کو ممکن سمجھتے ہیں؟

جواب:
جی ہاں! آپ نے ٹھیک سنا ہے طبیعت تبدیل نہیں ہوسکتی لیکن عادت تبدیل ہوسکتی ہے۔ مشائخ کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مرید کی طبیعت کو پہچان لیں اور اس کی طبیعت کے مطابق اس سے کام لیں اور اس کو صحیح راستے پر گامزن کر کے اس کی عادت درست کردیں۔ آخر صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) میں بھی تو ہر قسم کی طبیعتیں تھیں۔ جب ان کی اصلاح ہوگئی تو ہر ایک ہدایت کا مینار بن گیا اور سب کے بارے میں فرمایا گیا کہ جس کے پیچھے بھی جاؤگے ہدایت پالوگے۔ پس طبیعتیں تو تبدیل نہیں ہوسکتیں لیکن ہر طبیعت کی اصلاح ہوسکتی ہے۔ آج کل کی زبان میں اگر طبیعت کو ' Hardware' کہا جائے تو عادت کو ' Software' کہا جاسکتاہے۔ پس 'Hardware' تو ہر ایک ساتھ لے کے آتا ہے لیکن اس میں ' Software ' ماحول، والدین یا مشائخ ڈالتے ہیں۔

(جاری ہے) 

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٠ تا ١٢ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


No comments: