🤝 مقصدِ بیعت 🤝
╮•┅═══ـ❁🏕❁ـ═══┅•╭
بعض حضرات کم علمی کی وجہ سے اس میں بہت سی غیر ضروری اور غیر متعلق باتیں شامل کردیتے ہیں جن سے عقیدوں میں بگاڑ، گمراہی اور بے دینی وجود میں آتی ہے- بیعت کا مقصد کشف و کرامات اور بزرگی حاصل کرنا نہیں ہوتا نہ ہی اس میں قیامت میں بخشوائے جانے کی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے- یہ بھی ضروری نہیں کہ ذکر وشغل میں انوارات وغیرہ نظر آئیں اور نہ ہی اس میں عمدہ عمدہ خوابوں کا نظر آنا اور الہامات کا صحیح آنا لازم ہے ـ بعض حضرات بیعت صرف شیخ کی دعاؤں کی برکتوں کے حصول کے لئے کرتے ہیں، ان کا مقصد اصلاح نہیں بلکہ صرف حصولِ دنیا ہوتا ہے- تحفے تحائف اور نذرانے دے کر کوشش کرتے ہیں کہ شیخ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چوبیس گھنٹے حالتِ سجدہ میں گر کر ان کے لئے دعائیں مانگتا رہے- ان کے تحفے گئے، شیخ کی دعائیں گئیں- یہ کھلّم کھلّا کاروبار ہے- شیخ کے بتائے ہوئے طور طریقوں پر چلنے کے بجائے شیخ کو اپنے پیچھے چلانے کی کوشش کرتے ہیں اور محنت مشقت اور عمل سے دور بھاگتے ہیں- ایسے بیعتوں کا انجام کیسے اچھا ہوسکتا ہے- بیعت کا مقصد اپنا سارا اختیار اپنے شیخ کے سامنے بے بس کرکے اور اپنی تمام خواہشات کو اپنے شیخ کے حکم کے تابع کرکے اپنے نفس کی غلامی سے نکل کر اللہ پاک کی غلامی میں جانا ہوتا ہے- یہ اصلاح ظاہر وباطن کا سب سے افضل طریقہ ہے- اس کا مقصد اپنے اندر بندگی کا پیدا کرنا ہے- اللہ پاک کی رضا حاصل کرنا ہے ....الخ
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
📚طریق السّالکین ص۸-۹📚
✍پیر طریقت حضرت شیخ صادق بھیّات صاحب مدظلہ العالی بولٹن
No comments:
Post a Comment