Saturday, August 20, 2022

تصوف کیا ہے قسط 11 سوال 71-63

قسط: ١١

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٦٣) سوال:
مجاہدہ کیسے کیا جاتا ہے؟

جواب:
مجاہدہ میں مندرجہ ذیل چار چیزوں پر کنٹرول کیا جاتا ہے:
١- کھانا پینا
٢- سونا
٣- بولنا
٤- ناجنس (جن لوگوں سے ملنے جلنے سے دل کا نقصان ہوتا ہو) سے ملنا جلنا

ان میں کمی بیشی سالک کی حالت اور قوت کے مطابق کی جاتی ہے۔ تاہم آج کل قوت کی کمی کی وجہ سے یہ دونوں مجاہدات یعنی کم سونا اور کم کھانا تقریباً متروک ہوچکے ہیں۔ البتہ بعض لوگوں کے لیے اس کو برقرار بھی رکھا جاسکتا ہے۔ یہ اصل میں شیخ کی تشخیص اور صوابدید پر منحصر ہے۔ البتہ یہ جو دو باقی مجاہدات ہیں یعنی کم بولنا اور ناجنس سے کم ملنا جلنا یہ برقرار ہیں بلکہ آج کل ان کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے۔

(٦٤) سوال:
کم کھانے اور کم سونے کا مجاہدہ متروک ہوچکا ہے؟ کیا مطلب؟

جواب:
پہلے یہ دو مجاہدے کافی کرائے جاتے ہیں اب اس پر باوجوہ زور نہیں دیا جاتا لیکن اس میں تفصیل ہے۔ اگر کسی کے کھانے کی طلب اتنی ہو کہ وہ اس کی صحت کے لئے نقصان دہ ہو یا شریعت کے حکم کو تڑوا سکتی ہو تو اس کے لئے متروک نہیں ہے بلکہ لازم ہے تاہم اس کے لئے یہی مجاہدہ کافی ہوگا کہ وہ اس کو اعتدال پر لے آئے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوں میں ایک مرید کی شکایت کی گئی کہ یہ زیادہ کھانا کھاتا ہے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے پوچھا تو جواب دیاکہ حضرت میں گھر میں چار روٹیاں کھاتا ہوں لیکن خانقاہ میں دو پر گزارہ کرتا ہوں۔

حضرت نے فرمایا کہ پھر تو ٹھیک کرتے ہو۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ ہماری جسم کی ضرورت تو بہت کم کھانے سے بھی پوری ہوجاتی ہے باقی تو ہم مستی کرتے ہیں۔ بس اس مستی سے نکلنے والا مجاہدہ باقی ہے۔ اس طرح ہم ضرورت سے زیادہ سونے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس کو ضرورت تک سونے کو محدود کرنا مجاہدہ ہوگا۔ اعتدال پر لانے کے لئے اگر تربیتی مجاہدے کی ضرورت ہو تو کم کھانے کا مجاہدہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ ایک ہفتہ کھایا جائے اور ایک ہفتہ مجاہدہ کیا جائے۔ یہ صوم داؤدی کے مشابہ ہے اور انتہائی مفید ہے کیونکہ اس میں مجاہدہ بڑھ جاتا ہے لیکن کمزوری نہیں ہوتی تو مجاہدے کا فائدہ تو حاصل ہوجاتا ہے لیکن نقصان سے بچ جاتا ہے۔

(٦٥) سوال:
یہ کم بولنے کا مجاہدہ سمجھ میں نہیں آیا؟ نہ بولنے میں کیا مشکل ہے؟

جواب:
کمال ہے! آپ دیکھتے نہیں یہ جھوٹ بولنا اور غیبت کرنا آخر کیوں ہوتا ہے؟ اگر آدمی بغیر شرعی ضرورت کے نہ بولے تو پھر جھوٹ اور غیبت کا وجود ہی ختم ہوجائے لیکن یہی بولنے کی جو خواہش ہے بعض دفعہ گناہ پر مائل کردیتی ہے اس لیے اس مجاہدے کی ضرورت ہے۔ جن کو بولنے کی خواہش ہو ان کے لیے یہی مجاہدہ سب سے مشکل ہوتا ہے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ شعراء اپنی شاعری سنانے کے لیے کتنے جتن کرتے ہیں؟ آخر وہ بھی تو یہی بولنے کا شوق ہے نا...!

(٦٦) سوال:
کیا مجاہدات صرف یہی ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا ہے یا ان کے علاوہ اور بھی ہیں؟

جواب:
اوپر جن مجاہدات کا ذکر ہے وہ اختیاری ہیں البتہ غیر اختیاری یا اضطراری مجاہدہ بھی ہوتا ہے اور یہ فائدہ میں اختیاری مجاہدہ سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ کیونکہ اختیاری مجاہدہ انسان کی تجویز سے ہوتا ہے اور غیر اختیاری مجاہدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو خود انسان سے زیادہ جانتا ہے اس لیے اس میں فائدہ زیادہ ہے۔

(٦٧) سوال:
اگر غیر اختیاری مجاہدہ زیادہ مفید ہے تو کیا اس کے لیے دعا بھی کی جاسکتی ہے؟

جواب:
نہیں! اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرنی چاہیئے۔ اسی میں عاجزی ہے اور عاجزی اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے۔

(٦٨) سوال:
اگر کسی صاحب پر غیر اختیاری مجاہدہ آجائے تو اس وقت وہ کیا کرے؟

جواب:
اگر اللہ تعالیٰ خود کسی پر غیر اختیاری مجاہدہ بھیج دیں تو اس کو پھر صبر کرنا چاہیئے۔ اگر وہ تکلیف قابل دفع ہو تو اس کو دفع کرنے کی جائز کوشش کی جائے اور اس کے لیے دل سے دعا کی جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے۔ البتہ زبان سے کوئی حرف شکایت ادا نہ ہو ”اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡن“ کی تلاوت اس وقت کی دعا ہے اور اگر وہ مصیبت قابل دفع نہ ہو تو اس پر صبر کرنا ہی اس وقت کا تقاضا ہے۔ اس وقت استقامت کی دعا کرنی چاہیئے اور مندرجہ بالا دعا اس وقت کی بھی دعا ہے۔

(٦٩) سوال:
اختیاری مجاہدہ اور رہبانیت میں کیا فرق ہے؟

جواب:
اختیاری مجاہدہ کو دین نہیں سمجھا جاتا ہے صرف بضرورت کیا جاتا ہے جب ضرورت نہ رہے ترک کردیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں رہبانیت میں اپنے آپ کو ایذا دینا دین سمجھا جاتا ہے۔ یہ اسلام میں نہیں ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٢٧ تا ٢٩ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  

https://t.me/tasawwufkiahy

No comments: