Thursday, August 25, 2022

اگر ہم اسکے ہیں تو جواب ہی جواب ہے سوال سے پہلے جواب ہے

اگر ہم اس کے ہیں تو وہ ہمارا ہے، جواب ہی جواب۔  اگر ہم صرف اپنے لئے ہیں، تو ہم پر عذاب ہے۔ علم کا عذاب، ذہن کا عذاب، سوال ہی سوال۔

کیا خالق نے مخلوق کو مخلوق کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق سے ناراض ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق کو معاف نہیں کر سکتا۔۔۔؟
کیا اس کی رحمت اس کے غضب سے زیادہ وسیع نہیں ہے۔۔۔؟

اہلِ ظاہر کو ان سوالات کے جوابات سوچنے پڑتے ہیں۔
اہل باطن پر جواب پہلے آشکار ہوتا ہے، سوال بعد میں بنتا ہے۔
اگر جواب معلوم نہ ہو تو سوال گستاخی ہے اور اگر جواب معلوم ہو تو سوال بیباکی ہے، بیباکی میں تعلق قائم رہتا ہے اور گستاخی میں تعلق ختم ہو جاتا ہے۔
اگر ہم ذہن سے سوچیں تو سوال ہی سوال ہیں اور اگر دل سے محسوس کریں تو جواب ہی جواب۔


سوال دراصل ذہن کا نام ہے اور جواب دل کا نام۔۔۔

کتاب: قطرہ قطرہ قلزم۔
حضرت واصف علی واصف ؓ
کیا خالق نے مخلوق کو مخلوق کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق سے ناراض ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق کو معاف نہیں کر سکتا۔۔۔؟
کیا اس کی رحمت اس کے غضب سے زیادہ وسیع نہیں ہے۔۔۔؟

اہلِ ظاہر کو ان سوالات کے جوابات سوچنے پڑتے ہیں۔
اہل باطن پر جواب پہلے آشکار ہوتا ہے، سوال بعد میں بنتا ہے۔
اگر جواب معلوم نہ ہو تو سوال گستاخی ہے اور اگر جواب معلوم ہو تو سوال بیباکی ہے، بیباکی میں تعلق قائم رہتا ہے اور گستاخی میں تعلق ختم ہو جاتا ہے۔
اگر ہم ذہن سے سوچیں تو سوال ہی سوال ہیں اور اگر دل سے محسوس کریں تو جواب ہی جواب۔

اگر ہم اس کے ہیں تو وہ ہمارا ہے، جواب ہی جواب۔  اگر ہم صرف اپنے لئے ہیں، تو ہم پر عذاب ہے۔ علم کا عذاب، ذہن کا عذاب، سوال ہی سوال۔
سوال دراصل ذہن کا نام ہے اور جواب دل کا نام۔۔۔

کتاب: قطرہ قطرہ قلزم۔
حضرت واصف علی واصف ؓ

No comments: