Saturday, August 20, 2022

تصوف اور مستشرقین قسط1

١/٦
تصوف    اور   مستشرقین
╮•┅══ـ❁🏕❁ـ══┅•╭

تحریک مستشرقین (Orientalism) کا آغاز اس دور میں ہوا تھا؛ جب کہ تیرہویں صدی عیسوی میں عیسائی دنیا، اسلام کے خلاف برپا کی گئی اپنی صلیبی جنگوں میں پے درپے ناکام ہونے لگی تو اس کے مفکرین اور اس دور کے نظریہ سازوں کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ موجودہ حالات میں طاقت و قوت اور تشدد و جارحیت کے ذریعہ اسلام کو مذہبی اور سیاسی اقتدار سے بے دخل کیا جانا ممکن نہیں ہے؛ چنانچہ اس مرحلہ پر غور و فکر کے بعد انھوں نے یہ لائحہ عمل طے کیا کہ سرِدست اپنی جارحانہ مہم اور جنگ جو پالیسی کو ختم یا کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کرکے علم و تحقیق کے عنوان سے اسلام کو نشانۂ افکار باطلہ بنانا چاہیے اور تلوار کے بجائے قلم کے ذریعہ اسلام کی بیخ کنی کی جائے-

چنانچہ اس مقصد سے دشمنانِ اسلام مغربی مفکرین نے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اپنی فطری عیاری سے کام لیتے ہوئے یہودی ربّی اور عیسائی مبلغین (Missionary) کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اسلامیات کے منفی مطالعہ کے لیے یورپ میں تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں اور ان میں ”ریسرچ اسکالرس“ کے نام سے ذہین عیسائی عالم اور یہود ربی کارکن متعین کیے جائیں جو اسلام کے بنیادی سرچشموں یعنی قرآن واحادیث نبوی اور دیگر اسلامی لٹریچر کے معروضی مطالعہ کے بعد تعلیماتِ اسلامی کے خدوخال مسخ کرکے دنیاکے سامنے ”تحقیق“ (Research) کے نام سے مقالات اور کتابوں کی صورت میں پیش کریں اور ان میں اسے خود ساختہ ”شواہد“ مہیّا کریں جن سے یہودیت کی برتری اور دین مسیح کی حقانیت اور ترجیح خود بخود ثابت ہوجائے اور جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں میں اپنے دین کی نسبت سے احساسِ کمتری (Inferiority Complex) اور اپنے مسلمان ہونے پر شرمندگی کا جذبہ پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ مسیحیت کا تفوّق اور یہودی افکار ونظریات کی برتری کا تصور ان کے ذہنوں پر حاوی ہوجائے۔ پروفیسر آرنلڈ کی کتاب ”پریچنگ آف اسلام“ اس کی زندہ مثال اور واضح ثبوت ہے...!

مدت دراز سے یہ مستشرقین یورپ (Orientalists) قرآن واحادیث، سیرت نبوی، فقہ اسلامی اور اخلاق وتصوّف یا ”احسان اسلامی“ کا مطالعہ اسی مقصد سے کرتے رہے ہیں کہ ان میں خامیاں نکالی جائیں اور پھر انھیں اپنے سازشی مقصود کے مطابق اسلام کو سبوتاژ کرنے اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے- ان کا طریقۂ کار یہ ہے کہ پہلے وہ اسلام کے خلاف ایک باطل نظریۂ فکر اور شرانگیز بات اپنے ذہن میں طے کر لیتے ہیں اور پھر اس کے اثبات کے لیے تاریخ، حدیث، سیرتِ نبوی، فقہ اور اسلامی لٹریچر میں سے ہر طرح کی غیرمستند اور رطب و یابس باتیں اکٹھی کر لیتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ افسانہ طرازی کرنے اور جھوٹ کا طومار باندھنے سے بھی نہیں شرماتے؛ غرض جہاں کہیں بھی ان کی مقصد براری ہوتی ہو، خواہ علمی اصول کی رُو سے یا صحت واستناد کے اعتبار سے وہ بات کتنی ہی مشکوک و بے تکی کیوں نہ ہو وہ اس کو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اور پوری جسارت سے ”سائنٹفک“ بتا کر بڑی آب وتاب اور کرّوفر کے ساتھ پیش کرتے ہیں- چنانچہ قرآن وحدیث، فن تفسیر، فقہ، کلام، سیرت صحابہ، تابعین کرام، ائمہ مجتہدین، اکابر محدثین، فقہاء امت، قضاة، رواة حدیث، اسماء الرجال، فن جرح و تعدیل، جمع قرآن، تدوین حدیث، حجیت حدیث اور مشائخ سلوک و تصوف وغیرہ غرض ہر موضوع پر ان مستشرقین کی تصانیف اور نام نہاد تحقیقاتی مقالوں میں اس قدر مواد پایا جاتا ہے جو کہ ایک ذہین اور حساس تعلیم یافتہ انسان کو جو ان موضوعات پر وسیع اور گہری نظر نہ رکھتا ہو، اسلام کے بارے میں اس کے ذہن میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور سلف صالحین و علماء راسخین کی شخصیتوں کو مجروح کردینے اور ان پر سے اعتماد ختم کردینے کے لیے کافی ہے- سطحی علم رکھنے والا اور کچے ذہن کے لوگ ان کے خیالات سے بآسانی مرعوب ہوجاتے ہیں، خصوصاً جدید تعلیم کے مراکز جیسے یونیورسٹی، کالج اور اسکول میں پڑھنے والے طالب علم یا مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے ان ”مستشرقین“ کے دام فریب میں بہت جلد پھنس جاتے ہیں...

(جاری ہے)

📚ماہنامہ دارالعلوم، شمارہ ۱۱ ج۹۷📚
✍ڈاکٹر ابو عدنان سہیل صاحب

No comments: