قسط: ٤
تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭
(١٧) سوال:
کیا کسی شخص کو بھی پیر بنایا جاسکتا ہے؟
جواب:
نہیں، جیسے ہر ایک سے علاج نہیں کروایا جاتا اس طرح ہر ایک کو پیر بھی نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کے لیے کچھ شرائط ہیں جن کا جاننا ضروری ہے ورنہ فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوسکتا ہے۔
(١٨) سوال:
ہم تو کسی بھی ڈاکٹر سے علاج کرواسکتے ہیں یہاں ایسا کیوں نہیں؟
جواب:
آپ شاید میرا جواب نہیں سمجھے۔ڈاکٹروں میں تو آپ کسی کو بھی اپنا ڈاکٹر بناسکتے ہیں لیکن جو ڈاکٹر نہیں ان سے تو آپ علاج نہیں کرواتے! اسی طرح پیروں میں سے تو کوئی بھی پیر ہوسکتا ہے لیکن جو پیر ہی نہیں اس کو کیسے پیر بنایا جاسکتا ہے؟
(١٩) سوال:
کیا پیر کا ایک ہونا ضروری ہے؟ اس سوال کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ آپ نے پیر کی مثال ایک استاد کی دی ہے تو جیسے استاد کئی ہوسکتے ہیں اس طرح پیر بھی تو کئی ہوسکتے ہوں گے؟
جواب:
بڑا شاندار علمی سوال ہے لیکن اس کا جواب سمجھنے کی کوشش کریں تو سمجھ میں آنا مشکل نہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا کہ مرید کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک مریض ہونا، اس صورت میں پیر معالج ہوتا ہے اور ایک شاگرد ہونا، اس صورت میں پیر استاد ہوتا ہے۔ طریقت کی بنیادی تعریف سے مرید کا مریض ہونا زیادہ اہم ہے کہ مرید نفس کے رذائل کو دور کرنے کے لیے پیر کی خدمات حاصل کرتا ہے۔ پیر کا مرید کو بعض علوم تصوف کے سمجھانا محض اس کا تبرع اور احسان ہے اور یہ لازمی نہیں۔ اس لیے بعض اوقات کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جاتی۔ اس کی مثال بعض ڈاکٹروں میں بھی ملتی ہے کہ وہ مریضوں کو ان کے امراض کے بارے میں کچھ سمجھاتے بھی رہتے ہیں جبکہ بعض ڈاکٹر بالکل نہیں بتاتے۔ تو اصل چیز علاج ہوا کہ وہ تو سب کے ہاں مشترک ہے اور کبھی کبھی تعلیم بھی ساتھ ہوجاتی ہے۔ اب اگر پیر کا معالج ہونا سمجھ میں آگیا تو پھر پیر کا ایک ہونا بھی سمجھ میں آجائے گا۔
(٢٠) سوال:
مجھے اب بھی یہ واضح نہیں ہو سکا۔ ہم ڈاکٹروں کو بدلتے بھی رہتے ہیں تو اس طرح تو ہمارا کئی ڈاکٹروں کے ساتھ واسطہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے میں پہلے جواب سے مطمئن نہیں ہوسکا؟
جواب:
کسی ایک بیماری کے علاج کے دوران ڈاکٹروں کا بدلنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ اس صورت میں مرض کے بڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ ایک ڈاکٹر کے پاس آنے جانے سے جب اس ڈاکٹر کو مریض کا مرض کچھ سمجھ میں آنا شروع ہوجائے تو اگر اس وقت کسی نئے ڈاکٹر سے علاج شروع کردیا جائے تو پھر اس کو نئے تجربات سے گزرنا ہوگا۔ اس لیے کسی بھی ڈاکٹر کو مرض سمجھنے کا مناسب وقت نہیں مل سکے گا اور مرض بعض دفعہ خطرناک صورت اختیار کرلے گا۔
(٢١) سوال:
تو کیا ہم ہر ایک رذیلے کو دور کرنے کیلیے علیحدہ پیر منتخب کرسکتے ہیں؟
جواب:
نہیں، لیکن اس بات کو سمجھنے کے لیے کچھ تمہید کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ جب دو چیزوں کو آپس میں تشبیہ دی جارہی ہو تو ضروری نہیں کہ وہ دو چیزیں بالکل ایک جیسی ہوں بلکہ درمیان میں کسی ایک صفت کے شریک ہونے کی وجہ سے بھی ان کو تشبیہ دی جارہی ہوتی ہے جبکہ حقیقت میں وہ ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ یہاں سمجھانے کے لیے یہ عرض کروں کہ طب میں تو مختلف امراض کے مختلف ڈاکٹروں اور حکیموں سے رجوع مشاہد ہے کیونکہ مختلف امراض کے مختلف تخصص ہوتے ہیں لیکن طب روحانی یعنی تصوف میں اصل مرض ایک ہوتا ہے اور وہ دنیا کی محبت ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”حب الدنیا رأس کل خطیئۃ“ اور اس کا علاج ایک ہے اور وہ ہے ﷲ کی محبت پس اصل تصوف دل سے دنیا کی محبت کو نکال کر اس میں ﷲ کی محبت کو پیدا کرنا ہے باقی تمام طریقے اس کے فروعات ہیں اس لیے ایک ہی پیر پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے مشاہدے سے ہم یکسر کیسے انکار کرسکتے ہیں؟ اس لیے اسی میں بہتری ہے کہ ایک ہی پیر کے ساتھ تعلق قائم کیا جائے۔
(جاری ہے)
📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٢ تا ١٤ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ
No comments:
Post a Comment