قسط: ٥
تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭
(٢٢) سوال:
چلیٔے مان لیا کہ صرف ایک پیر سے تعلق رکھنا ہی بہتر ہے لیکن خدانخواستہ کوئی سادہ آدمی کسی غلط پیر سے بیعت ہوجائے تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟
جواب:
اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے آپ نے بہت اہم اور علمی سوال کیا ہے۔ اس بات کی اہمیت اپنی جگہ ہے کہ پیر کو ایک ہونا چاہیئے لیکن اس کا لازمی نتیجہ پھر یہ ہونا چاہیئے کہ وہ پیر صحیح ہو، شیخ کامل بھی ہو اور مرید کو اس کے ساتھ مناسبت بھی ہو ورنہ وہی ہوگا جو اناڑی ڈاکٹر کے ہاتھ پھنسنے والوں کا ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ پیر انتہائی سوچ سمجھ کر چُنا جائے۔ لہٰذا پیر کامل کی نشانیوں کو اچھی طرح سمجھنا چاھئیے۔ اپنے آپ کا اس کے ساتھ مناسبت کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے۔ اس میں جلدی نہ کی جائے۔ جس پیر کا عقیدہ خراب ہو یا وہ مستند نہ ہو یا صریح فسق و فجور میں مبتلا ہو اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہیئے اور اگر کوئی اس سے بیعت ہوگیا تو اس کا نبھانا ضروری نہیں چپکے سے کسی اور مستند پیر کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرنا چاہیئے، لیکن اپنے گزشتہ پیر کی بے ادبی نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ وہ ابتدائی محسن ہے اس لیے باقی لوگ بے شک اس کے بارے میں کچھ بھی کہیں خود اس کے حق میں بے ادبی نہیں کرنی چاہیئے۔ اس وقت اس کا معاملہ والد کی طرح ہوجاتا ہے کہ اس کی بات ماننی تو نہیں کیونکہ وہ شریعت کی خلاف ورزی ہوگی لیکن اس کے ساتھ عرف کے مطابق اچھا برتاؤ کرنا چاہیئے۔
(٢٣) سوال:
اگر وہ پیر فسق و فجور میں مبتلا ہو اور لوگوں کو اس سے نقصان پہنچ رہا ہو پھر بھی چپ رہے؟
جواب:
میں نے صرف یہ کہا تھا کہ اس کی بے ادبی نہیں کرنی چاہیئے تاہم لوگوں کو یہ سمجھانا کہ بدعقیدہ اور فاسق فاجر شیخ سے بیعت نہیں ہونا چاہیے ضروری ہے۔ اس طرح عام بات کرنا لوگوں کو بچانے کے لیے کافی ہوسکتا ہے بالخصوص ایسے شخص کی بات جو اس بات میں مبتلا رہ چکا ہو لوگوں کی ہدایت کے لیے زیادہ مفید ہوگی کیونکہ وہ دل سے کہے گا تاہم اپنے گزشتہ شیخ کے بارے میں اشد ضرورت کے بغیر کچھ نہ کہے اگر کوئی پوچھے تو اس کو اس چیز کے جاننے والوں کی طرف راغب کیا جائے۔
(٢٤) سوال:
اگر کسی پیر کے ساتھ اس کے مرید کی مناسبت نہیں اور اس کا پیر نہ تو بدعقیدہ ہے اور نہ ہی بدعمل ہے تو اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب:
کوشش کرنی چاہیئے کہ اس کے ساتھ مناسبت پیدا ہوجائے۔ بعض دفعہ مناسبت محسوس نہیں ہوتی لیکن ہوتی ہے۔ اس وقت اس کی کوشش کرنی چاہیئے کہ اگر ہو تو واضح ہوجائے لیکن اگر بالکل مناسبت نہیں تو دل میں اس کا انتہائی احترام رکھتے ہوئے اپنا تعلق کسی اور کے ساتھ قائم کیا جائے لیکن اس دفعہ مزید احتیاط کے ساتھ کہ پہلے دوسرے شیخ کے ساتھ مناسبت کا یقین کرلیا جائے تاکہ پھر وہ صورت حال واقع نہ ہو۔
(٢٥) سوال:
بعض حضرات تصوف اور بیعت کو آپس میں لازم و ملزوم سمجھتے ہیں کیا بیعت کرنا واقعی اتنا ضروری ہے؟
جواب:
مفید تو یقیناً ہے لیکن اس کی حیثیت سنت مستحبہ کی ہے جبکہ اپنی اصلاح فرض عین ہے اس لیے کسی سے اپنی اصلاح کے لیے اگر بیعت کے بغیر بھی تعلق قائم کیا اور اپنی اصلاح کروائی تو مقصد تو پورا ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اگر کسی نے ایک بڑے شیخ کی بیعت کرلی لیکن اس سے اپنی اصلاح نہیں کروائی تو اس کو مقصود حاصل نہیں ہوا۔
(٢٦) سوال:
تو پھر بیعت کے تردد میں کیوں پڑے، بس اپنی اصلاح کرائے اور ختم؟
جواب:
ٹھیک لیکن اگر واقعی ایسا ہو تو ورنہ بیعت کے ثمرات سے انکار نہیں۔
(٢٧) سوال:
بیعت کے ثمرات کیا ہوتے ہیں؟
جواب:
پیر کی توجہ ہوجاتی ہے اور مرید کو اپنا سمجھنے لگتا ہے اور اس کے بارے میں فکر مند ہوجاتا ہے۔ مرید اپنے مقصود کو ایک شخص کے ساتھ وابستہ کرلیا ہے اور ہرجائی پن ختم ہوجاتا ہے جو طریق میں انتہائی نقصان دہ چیز ہے۔ سلسلے کی اپنی برکات ہوتی ہیں وہ الگ حاصل ہوتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر اس کا فائدہ یہ ہے کہ صحیح پیر کے ساتھ تعلق ہو تو ایمان محفوظ ہوجاتا ہے۔
(٢٨) سوال:
کیا خواتین کو بھی بیعت کیا جاسکتا ہے؟
جواب:
کیوں نہیں۔ قُرآن میں بیعت کی جو آیت ہے وہ خواتین کی بیعت کا ہے۔ مردوں کی بیعت تو حدیث پاک سے ثابت ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اس میں شرعی پابندیوں مثلاً پردے کا خیال رکھنا (نامحرم پیر نامحرم ہوتا ہے) اور گھر کے مَردوں کا اعتماد ضروری ہے۔
(جاری ہے)
📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٤ تا ١٦ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ
No comments:
Post a Comment