Monday, August 22, 2022

تصوف کیا ہے قسط 13 سوال 84-79

قسط: ١٣

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٧٩) سوال:
تو کیا اونچی آواز سے ذکر کرنے میں ریاء کا اندیشہ نہیں ہوتا؟

جواب:
لیکن اس اندیشے کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔ دل میں ریاء کی نیت نہ ہو یہ کافی ہے۔ باقی ریاء کا وسوسہ ریاء نہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تم اتنا ذکر کرو اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں ریاکار کہہ دیں اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اتنا ذکر کرو اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں مجنون کہیں۔ بعض بزرگوں نے لکھا ہے کہ اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے ذکر سے رک جانا بھی ریاء ہے۔

(٨٠) سوال:
انفرادی طور پر ذکر بالجہر کی گنجائش تو نکل آئی لیکن کیا اجتماعی طور پر بھی ذکر بالجہر کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
جو دلائل انفرادی ذکر بالجہر کے لیے قابل سماعت ہیں وہ اجتماعی کے لیے بھی ہیں۔ آپ ذرا غور فرمایئے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کو اگر دل کی صفائی کا ذریعہ سمجھا جائے تو چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی نہ صرف جائز بلکہ مفید ہے۔

(٨١) سوال:
ایسا اجتماعی ذکر کہ لوگ اپنا اپنا ذکر کررہے ہوں یہ تو ہمارے اکابر کا طریقہ رہا ہے لیکن ایسا اجتماعی ذکر جس میں ایک آدمی سب کو ایک آواز میں ذکر کرا رہا ہو اس کا اپنے اکابر میں ثبوت نظر نہیں آتا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کی مثال نماز کی طرح ہوجاتی ہے کہ ایک امام ہو اور باقی مقتدی اس لیے یہ دین میں زیادتی ہے؟

جواب:
نہیں، ایسی کوئی بات نہیں! حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بڑے ہیں۔ ان کے ہاں اجتماعی ذکر بصوت واحد ہوتا تھا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء میں حضرت مولانا فقیر محمد رحمۃ اللہ علیہ یہی ذکر کراتے تھے۔ یہ صرف ایک ذریعہ ہے۔ اس کا مقصد دل کو متاثر کرنا ہے جس میں اجتماعی صوت (آواز) کے اثر سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ جہاد میں بھی جب ٹریننگ دی جاتی ہے تو اس میں بھی ایک امیر ہوتا ہے باقی لوگ اس کے مامور ہوتے ہیں اور وہ سب کو ایک آواز سے سب کچھ کرارہا ہوتا ہے جس طرح وہ فقط ایک ذریعہ ہے اور غلط نہیں ہے اس طرح یہاں بھی ذکر اگر ایک آواز سے کرایاجائے اور اس کو مقصد نہ سمجھا جائے اور جو نہ کرے اس پر نکیر نہ کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

(٨٢) سوال:
کیا ذکر بالجہر مسجد میں درست ہے؟

جواب:
مسجد میں ذکر بالجہر کی مثال بچوں کو مسجد میں قُرآن پڑھانے کی سی ہے۔ پس اگر کوئی اس وقت نماز نہیں پڑھ رہا ہو یا کوئی اور اجتماعی کام نہ ہو رہا ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں۔

(٨٣) سوال:
اگر کوئی ایک شخص بھی نماز پڑھ رہا ہوتو کیا اس وقت ذکر بالجہر جائز ہوگا؟

جواب:
اگر وہ وقت کی فرض نماز ہے تو ذکر والوں کو اس کی رعایت ضروری ہے اور اگر نفل نماز ہے تو نماز والوں کو اس اجتماعی عمل کی رعایت کرنی چاہیئے۔ کیونکہ نفل نماز کے لیے بہترین جگہ اپنا گھر ہے جیسا کہ بچوں کو قُرآن پڑھانے کے سلسلے میں خیال کیا جاتا ہے۔

(٨٤) سوال:
غذائی ذکر میں قُرآن پاک، عام ذکر، درود شریف میں سے کس کا اثر زیادہ ہے؟

جواب:
یہ سب غذا کی طرح ہے اور سب سے اپنا اپنا فائدہ ہوتا ہے۔ ہمارے اکابر گلدستہ کے قائل ہیں کہ ایک جامع ترتیب اختیار کی جائے۔ قُرآن پاک کی تلاوت روزانہ باقاعدگی کے ساتھ کرنا چاہیئے۔ اس طرح ہر وقت زبان ذکر سے تازہ رکھنے کے لئے بھی فرمایا گیا ہے اور درود شریف کا تو ﷲ تعالیٰ نے براہ راست سارے مؤمنوں کو ایک عجیب انداز سے حکم فرمایا ہے۔ اس لئے سب کا حصّہ ہونا چاہیئے البتہ بعض لوگوں کے لئے بعض مواقع پر ان میں سے کسی کی اہمیت زیادہ ہوجاتی ہے۔اس کا فیصلہ شیخ پر چھوڑنا چاہیئے۔

(٨٥) سوال:
بعض لوگ قُرآن کی مخصوص سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں اور رواں تلاوت کا اہتمام نہیں کرتے کیا یہ کافی ہے؟

جواب:
یہ لوگ اُن لوگوں سے تو یقیناً بہتر ہیں جو بالکل تلاوت نہیں کرتے البتہ ان لوگوں کے برابر نہیں جو رواں تلاوت بھی کرتے ہیں اور مخصوص فوائد کے لئے مخصوص سورتیں بھی پڑھتے ہیں کیونکہ قُرآن پاک کی ہر آیت کے ساتھ ایک مخصوص تجلی ہوتی ہے وہ اس کے بغیر کیسے ملے گی؟

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٣٢ تا ٣٤ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العا

No comments: