Saturday, August 20, 2022

تصوف کیا ہے قسط 8 سوال 48-42

قسط: ٨

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٤٢) سوال:
یہ اویسی سلسلہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:
اویسی سلسلہ تو کوئی نہیں ہوتا البتہ اویسی نسبت ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ کسی بزرگ کی روح سے براہ راست روحانی استفادہ کیا جائے۔ ایسا ممکن ہے لیکن یہ آگے کسی اور کو منتقل نہیں کی جاسکتی۔ ہاں اگر کسی کو کسی سلسلہ میں نسبت علیحدہ حاصل ہو تو وہ نسبت اویسی نسبت کی وجہ سے قوی ہوجاتی ہے۔ اس کی مثال حدیث اور خواب میں آپ ﷺ کی زیارت کا ہے۔ آپ ﷺ کی خواب میں زیارت تو ہوسکتی ہے لیکن اس سے اس صاحب خواب کو تو فائدہ ہوتا ہے لیکن اس خواب میں اگر اس نے آپ ﷺ سے کچھ سنا ہے تو اس کا حدیث شریف کا درجہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ متعدی نہیں ہے۔

(٤٣) سوال:
یہ سالک اور واصل کیا ہوتا ہے؟

جواب:
سلوک راستے کو کہتے ہیں لیکن اصطلاح میں سلوک سے مراد تصوف کا طریقہ ہے۔ سالک راستے پر چلنے والے کو کہتے ہیں لیکن یہاں اصطلاح میں سالک سے مراد راہِ طریقت پر قدم رکھنے والا ہے۔ واصل سے مراد سیر الی اللہ کو ختم کرنے والا ہوتا ہے۔

(٤٤) سوال:
یہ ایک اور نئی بات آگئی سیر الی اللہ کی۔ اس کے بارے میں بھی جاننا چاہتا ہوں۔

جواب:
جب رذائل یعنی روحانی بیماریوں سے قلب شفایاب ہوجائے اور ضروری فضائل سے قلب آراستہ ہوجائے تو اس سے سیر الی اللہ کا ختم ہونا مراد لیا جاتا ہے۔

(٤٥) سوال:
کیا اس کے بعد کام ختم ہوجاتا ہے؟

جواب:
نہیں! کام کہاں ختم ہوتا ہے بلکہ اس کے بعد تو کام شروع ہوتا ہے۔ جس طرح بیماری سے جب انسان شفایاب ہوجاتا ہے تو اس کے بعد کام کرنے کے قابل ہوجاتا ہے اور پھر وہ کام کرنا شروع کردیتا ہے۔ اسی طرح سیر الی اللہ ختم ہونے کے بعد اصل کام شروع ہوجاتا ہے یعنی اس وظیفے کا پورا کرنا جس کے لیے جن اور انسان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی عبادت اخلاص کے ساتھ۔ اس کو سیر فی اللہ کہتے ہیں جس کی کوئی حد نہیں ہوتی۔

(٤٦) سوال:
کیا مریداپنے شیخ سے درجات میں بڑھ سکتا ہے؟

جواب:
جی ہاں! سیر فی اللہ میں جو جتنا آگے بڑھے، اللہ کا فضل ہے اور بندے کی ہمت۔ آخر شیخ عبد القادر جیلانی (رحمۃ اللہ علیہ) اور حضرت مجدد الف ثانی (رحمۃ اللہ علیہ) بھی تو کسی کے مرید تھے۔

(٤٧) سوال:
تصوف میں جو مقاصد ہیں ان کو حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب:
دو قسم کے ذرائع ہیں جن سے کام لیا جاتا ہے: 
١- مجاہدہ کا استعمال کرنا
٢- فاعلہ کا استعمال کرنا 
ان میں بعض فاعلات ایسے ہیں کہ ان سے نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا اور بعض میں نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔

(٤٨) سوال:
فاعلہ کی بعض اقسام میں اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو پھر یہ طریقہ اختیار ہی کیوں کیاجائے؟ بالفاظ دیگر یہ خطرہ مول ہی کیوں لیا جائے؟

جواب:
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ تصوف طب کی طرح ہے پس جس طرح طب میں پہلے علاج کے بے خطر طریقے اختیار کئے جاتے ہیں اگر ان سے کام ہوجائے تو بات ختم، نہیں تو بعض اوقات علاج کی خطرناک صورتوں کو بھی اختیار کرنا پڑتا ہے لیکن؛ اس صورت میں ڈاکٹر کمال ہوشیاری سے اس خطرے کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسے 'Steroids' سٹیرائڈز کا استعمال۔ اسی طرح سلوک میں بھی سالک کی حالت ایسی ہو کہ اس کے لیے ایسے طریقوں کی ضرورت پڑے جن میں نقصان کا اندیشہ ہو تو ان کو احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٢٠ تا ٢٢ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


No comments: