Saturday, August 20, 2022

تصوف کیا ہے قسط قسط 7 سوال 41-36

قسط: ٧

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٣٦) سوال:
کیا شیخ کا اسی طرح ادب کرنا چاہیئے جیسے صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) آپ ﷺ کا کیا کرتے تھے؟

جواب:
ہم ﷲ تعالیٰ کا تعلق چاہتے ہیں جو سنت نبوی ﷺ کے بغیر ممکن نہیں۔ عِلماً سنت ہمیں علماء کرام سے حاصل ہوسکتا ہے لیکن عَملاً مشائخ سے حاصل ہوتا ہے بالخصوص اپنے شیخ سے۔ پس شیخ سنتِ رسول حاصل کرنے کا وسیلہ ہوا اور سنت رسول، ﷲ تعالیٰ کے تعلق کا۔ اس طرح بالواسطہ شیخ ﷲ تعالیٰ کے تعلق کا وسیلہ ہوا۔ پس جو ادب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کا اس مقصد کے لئے کیا تو چونکہ ہمارے سامنے اپنا شیخ ہی ہے، ہم صحابہ کی اتباع میں اسی طرح اس وسیلے کا ادب کریں گے ۔فرق صرف یہ ہے صحابہ پیغمبر کا ادب کرتے تھے جن سے اختلاف کفر تھا جبکہ شیخ پیغمبر نہیں ہے اس لئے ان سے علمی اختلاف کفر نہیں اور اگر اجتہادی طور پر حق پر ہو تو گناہ بھی نہیں تاہم تربیت چونکہ اسی وسیلے کے ذریعے ہورہی ہے اس لئے اس میں شیخ سے اختلاف محرومی اور سلوک کے اعلیٰ موانع میں سے ہے۔ اختلاف جیسے منفی طور پر سب سے اعلیٰ مانع ہے اسی طرح ادب مثبت طور پر تعلق مع ﷲ کا بڑا ذریعہ ہے خوب سمجھنا چاہیئے۔ بلکہ آپ ﷺ کے مقام کے پہچاننے کا یہ سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ جو لوگ ان سلاسل میں نہیں آئے ہوتے وہ آپ ﷺ کا مقام نہیں پہچان سکتے۔ آپ ﷺ کا مقام وہی پہچانتے ہیں جو کسی سلسلے میں بیعت ہوچکے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنا تعلق اور محبت شیخ کے ساتھ دیکھا ہوتا ہے۔ تو پھر وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس تعلق اور اس محبت کو محسوس کرسکتے ہیں۔ ان کو پھر پتہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کیسے شیدائی ہوتے تھے۔ جتنا جتنا تعلق کسی کا شیخ کے ساتھ بڑھ رہا ہوتا ہے، اتنا اتنا ان کو صحابہ کی پہچان ہوتی جائے گی۔ تو یہ گویا اتباع صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جس کا حکم ہے۔ اس کے لئے زینہ ہے۔

(٣٧) سوال:
شیخ کے کام اور شیخ کی صحبت میں کس چیز کو ترجیح دینی چاہیئے؟

جواب:
شیخ کی صحبت زیادہ پیاری ہونی چاہیئے اور شیخ کے کام کو اس پر ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ الامر فوق الادب۔

(٣٨) سوال:
یہاں مستند سلسلے کا ذکر آیا ہے یہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:
یہ آپ ﷺ کے وقت سے صحبت کے سلسلے ہیں جیسا کہ حدیث کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔ پس جو آپ ﷺ سے تربیت حاصل کرچکا۔ پھر اس سے جو تربیت حاصل کرچکا اور اس طرح ہوتے ہوتے موجودہ دور تک بات آجائے تو اس کو سلسلہ کہتے ہیں۔

(٣٩) سوال:
آپ فرما رہے تھے کہ سارے سلسلے حضور ﷺ کی طرف سے آئے ہیں تو پھر تو سب کا سلسلہ ایک ہونا چاہیئے ان سلسلوں میں فرق کیوں ہے؟

جواب:
جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تصوف فقہ الباطن ہے تو جیسا کہ فقہ الظاہر میں ہے کہ گو سب سلسلے آپ ﷺ سے شروع ہوئے ہیں لیکن جن جن اکابرین نے ان فقہوں کی تدوین کی ان کے نام سے ان کی فقہ چلی۔ مثلاً فقہ حنفی، فقہ شافعی وغیرہ۔ اسی طرح فقہ الباطن میں بھی جو جو اپنے اپنے سلسلوں کی تدوین میں نمایاں ثابت ہوئے ان کے نام سے ان کے سلسلے موسوم ہوئے مثلاً چشتیہ، نقشبندیہ، قادریہ اور سہروردیہ وغیرہ۔

(٤٠) سوال:
ان کے اندر فرق کیا ہے؟

جواب:
ان میں اصل فرق اصلاح کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع میں ہے۔ طب میں اس کی مثال حکمت، ایلوپیتھی، ہومیو پیتھی وغیرہ ہے یعنی جس طرح علاج کے ان مختلف طریقوں سے ایک ہی چیز یعنی صحت مطلوب ہے لیکن اس صحت کو حاصل کرنے کے طریقوں میں پھر فرق ہوتا ہے۔ ہر ایک کے اپنے ذرائع اور اپنے اصول ہیں اسی طرح ان سلسلوں میں مطلوب تو ایک ہی ہے یعنی روحانی صحت لیکن ان کے لیے ذرائع میں ہر ایک کی اپنی تفصیل ہے اور بعض اصولوں میں بھی اختلاف ہوسکتا ہے۔

(٤١) سوال:
اصولوں میں؟ مثلاً کیا اختلاف ہوسکتا ہے؟

جواب:
ایک اصول مثلاً یہ ہے کہ جب روشنی آجاتی ہے تو ظلمت بھاگ جاتی ہے اس لیے اگر اچھی چیزیں سالک میں آئیں گی تو ان کے متضاد یعنی بری چیزیں ختم ہوجائیں گی۔ یہ اصول تو نقشبندیہ کا ہے اس لیے یہ حضرات پہلے سے ہی ذکر پر لگا دیتے ہیں کہ اس کے نور سے رذائل ختم ہوجائیں دوسرا اصول یہ ہے کہ برتن اگر میلا ہو تو اس میں دودھ بھی ڈالا جائے گا تو وہ خراب ہوجائے گا۔ یہ اصول چشتیہ کا ہے کہ وہ پہلے مجاہدات کے ذریعے تکبر کو زائل کرا دیتے ہیں۔ آخر میں جب تکبر ختم ہوجاتا ہے تو تھوڑی سی توجہ اور ذکر سے بھی سالک واصل ہوجاتا ہے۔ دونوں اصول بڑے کام کے ہیں بات صرف مناسبت کی ہے جس کو جس طریقے سے مناسبت ہو اس کو اسی طریقے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٨ تا ٢٠ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


No comments: