[8/21 Ahmed: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کسی اللہ والے سے جہاں آپ کو مناسبت ہو ضرور تعلق قائم کریں !
🌷🌷🌷🌷🌷۔🌷🌷🌷🌷🌷
ارشاد فرمایا کہ اللہ والوں نے ہمیشہ کسی اللہ والے سے تعلق قائم کیا ہے اور ان کا یہ عمل بھی حدیث کی اتباع ہے۔ لہذا اہل اللہ میں سے جس کس اللہ والے سےآپ کو مناسبت ہواس سے ضرور اصلاحی وتربیتی تعلق قائم کریں، یہ ہمارے بزرگوں کا سرمایہ ہے۔ ہمارے بزرگوں کی سیرت، ہمارے بزرگوں کی دولت ہمارے بزرگوں کی تاریخ ہے کہ جو بڑے بڑے علماء تھے انہوں نے اہل اللہ کے سامنے زانوئے ادب طئے کیا ہے۔
مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، ان حضرات نے ایک غیر عالم لیکن متقی ولی اللہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے رجوع کیا ہے۔ ان سے اپنی اصلاح تربیت کرائی ان کی رہبری وسرپرستی میں نفسانی مکاریوں چالبازیوں شیطانی دھوکہ بازیوں کو خوب سمجھا
حضرت شاہ ابرارالحق صاحب دامت برکاتھم فرماتے ہیں کہ ایسے جلیل القدر علماء نے غیر عالم کو پیر بنایا لیکن آج عالم کو عالم پیر بناتے ہوئے شرم آرہی ہے، یہ کیا بات ہے؟ طلب اور پیاس نہیں ہے۔
رسید بک پر چندہ لینے کے لئے نام رکھیں گے جامعہ قاسمیہ، جامعہ رشیدیہ ، جامعہ اشرفیہ تاکہ امت کو ان بزرگوں کے نام پر حسن ظن ہو اور خوب پیسہ آئے لیکن ان بزرگوں نے صرف چندہ نہیں کیا تھا، کچھ کام بھی کیا تھا۔ اہل اللہ کے سامنے اپنے نفس کو مٹایا تھا۔
مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے شرم نہیں کی کہ میں بخاری پڑھاتا ہوں ، میں معقول (عقلی علوم) اور منقول(نقلی علوم) کا جامع اتنا بڑا عالم ہوں، میں کیوں کسی اللہ والے کی جوتیاں اٹھاوں ؟ مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو شرم نہیں آئی ، مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو حیا نہیں آئی، حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور الله مرقده کو شرم نہیں آئی حاجی امداد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جوتیاں اٹھاتے ہوئے۔ آج جوشرح جامی اور کنز الدقائق پڑھ لیتا ہے وہ بھی اللہ والوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔
یہی وجہ ہے کہ قربانی کی کھال کے پیچھے ان کو گالیاں مل رہی ہیں ۔
میں پوچھتا ہوں کہ مولانا قاسم نانوتوی قربانی کی کھال لینے گئے تھے؟
کیا مولانا اشرف علی تھانوی کسی کے دروازے گئے تھے؟
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی گئے تھے ؟
جن علماء نے اللہ والوں کی جوتیاں اٹھائیں اللہ تعالٰی نے ان کو ایسی عزت دی کہ امیروں کو ان کے دروازے پر بھیجا، وہ کسی کے دروازے پر نہیں گئے۔
🌹مخلوق کی خدمت فرض کفایہ اور تقوی فرض عین ہے.🌹
ارشاد فرمایا کہ الله کو ناراض کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے، تقویٰ ہم پر فرض عین ہے اور مخلوق کی خدمت وغیرہ یہ سب فرض کفایہ ہے۔ کوئی دوسرا بھی کرسکتا ہے۔ فرض کفایہ کی خاطر سے کسی بھی فرض عین کو ضائع نہیں کیا جاسکتا، کیسا زبردست اصول ہے؟ لوہے سے زیادہ مضبوط اصول ہے۔ جیسے عالم ہونا، حافظ ہونا بھی فرض کفایہ ہے لیکن تقویٰ اور اللہ کی محبت سیکھنا اور
گناہ سے بچنا فرض عین ہے۔ آج مولوی بھی فرض کفایہ سیکھنے کے لئے مدرسوں میں تو چلا جائے گا لیکن تقویٰ اورفرض عین سیکھنے کے لئے بزرگوں اور الله والوں کے پاس جاتے ہوئے اس کو شرم آتی ہے کہ کون ان کے ناز اٹھائے؟ شروحات اور کتابیں پڑھ کر خوب لچھے دار تقریریں کر رہے ہیں اور اسی میں مست ہیں؛ مگر شاعر ”جگر“ کیا کہتا ہے؟ سنیے!
واعظ کا ہر اک ارشاد بجا تقریر بہت دلچسپ مگر
آنکھوں میں سُرورِ عشق نہیں چہرہ پہ یقیں کا نور نہیں
منبروں پرخوب چیخ کرتقریر کریں گے لیکن ان کی تنہائیوں میں دیکھو تو دنیاکی محبت بھری ہوئی ہے۔ جس رئیس مالدار نے چندہ دے دیا اس کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں ، ہوائی جہاز کا ٹکٹ مانگ رہے ہیں، اس کی خاطر مدارات میں بچھے جارہے ہیں اور اگر کوئی اللہ والا آجائے تو اس کے سامنے ان پر تواضع حرام ہے، اس پر جلال الدین رومی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔
اے تواضع بردہ پیش ابلہاں
اے تکبر کردہ تو پیش شہاں
بے وقوفوں کے سامنے تواضع کریں گے، جو بے نمازی اور بے دین ہے، کھڑے ہو کر پیشاب کرتا ہے لیکن اس کے پاس پیسہ ہے تو دنیادار مولوی اس کے پیچھے پیچھے ناچتا پھرتا ہے اور اللہ والوں کے سامنے، جو اصلی شاہ ہیں ، اکڑا ہوا کھڑا ہے۔
کیا کہیں! بس دل سے آہ نکل جاتی ہے۔ آنکھوں سے بعض خشک مولویوں کو میں نے دیکھا کہ بڑے سے بڑا الله والا آیا تو اس کی طرف دیکھا بھی نہیں، قیامت کے دن پتہ چلے گا جب حساب دینا ہوگا ۔
(چندہ، ہدیہ اور مشورہ آداب و احکام ص ۹۱-۹۲)
▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
[8/21, 14:47] Ahmed: *میرا جواب تھا:*👇
بہت عمدہ مگر ہزاروں مسلمانوں کو اللہ والوں کی تلاش رہتی ہے۔
No comments:
Post a Comment