Saturday, August 20, 2022

تصوف کیا ہے قسط 6 سوال 35-29

قسط: ٦

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٢٩) سوال:
صحیح پیر کون ہوسکتا ہے اس میں ذرا رہنمائی فرمایئے؟

جواب:
ماشاء اللہ یہ طلب کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے صحیح بات کرنے کی توفیق دے۔ اس سے پہلے آپ تھوڑی سی ہمت کرلیں اور بتائیں کہ آپ کسی ڈاکٹر کا انتخاب کیسے کرتے ہیں؟

(٣٠) سوال:
ہم ڈاکٹر کا انتخاب اس طرح کرتے ہیں کہ دیکھتے ہیں کہ وہ مستند ہے یا نہیں یعنی اس نے کسی میڈیکل کالج سے پڑھا ہے یا نہیں اور اگر پڑھا ہے تو اس کے پاس ڈگری ہے یا نہیں۔ کیا پیر کے انتخاب کے لیے اتنی بات کافی ہے؟

جواب:
نہیں۔ اس کے علاوہ یہاں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ میں اور اس میں مناسبت بھی ہے یا نہیں؟ ورنہ فائدہ نہیں ہوگا۔

(٣١) سوال:
یہ مناسبت کیا ہوتی ہے؟ نیز پیر کے مستند ہونے کا کیا مطلب ہے؟

جواب:
مناسبت سے مراد یہ ہے کہ اس کی مجلس سے، مکاتبت سے، اس کی کتابوں سے آپ کو فائدہ ہونا محسوس ہوتا ہو اور اس کے بارے میں اگر آپ کو وسوسہ آئے تو اس وسوسے کو پالنے کی بجائے آپ اس سے چھٹکارہ پانا چاہتے ہوں۔ جبکہ پیر کے مستند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی مستند سلسلے میں بیعت ہوچکا ہو اور وہاں سے اس کو اجازت یعنی خلافت مل چکی ہو۔

(٣٢) سوال:
اگر کوئی بیعت نہ ہوا ہو اور اس کی اصلاح کسی طرح ہوجائے تو کیا اس کو خلافت مل سکتی ہے؟

جواب:
ماشاء ﷲ بہت اچھا سوال ہے۔ اگر کسی کی اصلاح ہوچکی ہو تو اس کو خلافت دی جاسکتی ہے۔ یہ خلافت اس بات کی ان شاء ﷲ علامت ہوگی کہ اب یہ شخص فتنہ نہیں بنے گا اس لیے جس دینی کام کو مثلاً تدریس، دینی سیاست، تبلیغ وغیرہ کو کرے گا تو سلیم القلبی کے باعث اس کو صحیح نیت سے ان شاء ﷲ کرے گا لیکن؛ اس دینی کام کے مسائل اور فنون کو جاننا اس کے ذمّے الگ ہوگا۔ اس لیے اس کو اس پر علیحدہ محنت کرنی چاہیئے۔ ان کاموں میں سے ایک کام دوسروں کا تزکیہ بھی ہے اور چونکہ تزکیہ بھی ایک فن ہے اس لیے اگر تزکیہ کے میدان میں وہ کام کرنا چاہتا ہو تو اس کو کسی مستند ماہر فن سے اس فن کو حاصل کرنا چاہیئے بصورت دیگر درست نیت کے باوجود غلطی کا امکان باقی رہے گا۔

(٣٣) سوال:
کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ بیعت کسی ایک شیخ سے ہو اور اس کو خلافت کسی اور جگہ سے مل جائے؟

جواب:
جی ہاں! خلافت نسبت کے حصول کی علامت ہوتی ہے۔ پس کسی بھی شیخ سے تربیت پانے کے بعد اگر کسی اور شیخ کی نظر میں اس کو نسبت حاصل ہوچکی ہو تو اس کا اظہار خلافت کی صورت میں وہ کرسکتا ہے تاہم ایک چیز کا خیال رکھنا بہتر ہے کہ اگر دوسرے شیخ کی پہلے شیخ کے ساتھ واقفیت اور مناسبت نہ ہو تو ایسا کرنا پیچیدہ صورت حال کا باعث بن سکتا ہے تو ایسی صورت میں اس سے اعراض مناسب ہے۔ اگر ممکن ہو تو دوسرا شیخ اپنے خیال کی اطلاع اس کے پہلے شیخ کو کرسکتا ہے باقی فیصلہ اس پر چھوڑ دیا جائے۔ یہ بات تجربے سے عرض کی ہے، دوسروں کا اس سے اختلاف ممکن ہے۔

(٣٤) سوال:
کیا یہ ممکن ہے کہ بیعت ایک شیخ سے ہو اور تربیت کوئی اور کرے؟

جواب:
جی ہاں! ایسا ممکن ہے۔ حضرت سید احمد شہید (رحمۃ اللہ علیہ) حضرت شاہ عبد العزیز (رحمۃ اللہ علیہ) سے بیعت تھے لیکن ان کی تربیت حضرت شاہ عبد القادر (رحمۃ اللہ علیہ) نے کی اور ان کو خلافت بھی حضرت شاہ عبدالقادر (رحمۃ اللہ علیہ) سے دلوا دی۔ اس طرح مولانا عبد الماجد دریا آبادی (رحمۃ اللہ علیہ) بیعت تو حضرت مولانا حسین احمد مدنی (رحمۃ اللہ علیہ) سے تھے لیکن تربیت حضرت تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) نے کی اور اجازت بھی حضرت تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) سے حاصل ہوئی۔

(٣٥) سوال:
اگر کوئی شخص کسی بزرگ سے بیعت ہوجائے لیکن رابطہ کسی وجہ سے ان کے ساتھ نہ رکھ سکے تو کیا کسی اور شیخ سے تعلیم کے سلسلے میں رجوع کرسکتا ہے؟

جواب:
اگر جس شیخ سے بیعت کی ہو، ان سے رابطہ ممکن ہو اور شیخ اس کی تربیت کرنا چاہتا بھی ہو تو کسی اور شیخ سے رجوع کرنا مناسب نہیں۔ اس کے برعکس اپنے شیخ کے ساتھ یا تو رابطہ ممکن نہ رہے۔ یا شیخ بہت معذور ہوجائے اور تعلیم و ارشاد کا سلسلہ اب وہ جاری نہ رکھ سکے تو دوسرے شیخ سے بغرض تعلیم رجوع کرسکتا ہے۔ اب وہ دوسرا اس کا شیخ تعلیم ہوجائے گا۔ اب اس کو موجودہ شیخ کے ساتھ وہی معاملہ رکھنا چاہیئے جو وہ اپنے شیخ بیعت کے ساتھ رکھتا تھا لیکن شیخ بیعت کا ادب اس کو ملحوظ رکھنا چاہیئے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٦ تا ١٨ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


No comments: