Monday, August 22, 2022

تصوف کیا ہے قسط 12 سوال 78-70

قسط: ١٢

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٧٠) سوال:
آج کل کے دور میں مجاہدہ کیسے کرایا جاتا ہے؟

جواب:
یہ شیخ کے اجتہاد پر موقوف ہے اس لئے اس کا عام قاعدہ سمجھانا ممکن نہیں۔ ہر شخص کے مجاہدے کا معیار الگ ہے۔ حالات کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہر ایک کا مجاہدہ مختلف ہوتا ہے بہرحال مجاہدے کی ضرورت ہر دور میں ہے اور ہوتا ہے۔ اور یہ شیخ کی بصیرت پر ہوتا ہے کہ وہ کسی کو کونسا مجاہدہ دیتا ہے البتہ؛ اس میں ایک چیز میں آپ کو بتاؤں کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم مجاہدہ کریں (گے) لیکن جب مجاہدہ آتا ہے تو پھر اس سے بھاگتے ہیں۔ گویا ان کا جی چاہتا ہے کہ ہمیں اپنی مرضی کے مجاہدے کے لئے کہا جائے تو پھر یہ تو مجاہدہ نہیں۔ جس چیز میں اپنی مرضی شامل ہو وہ مجاہدہ نہیں ہوتا۔ مجاہدہ تو وہی ہے جو آپ کی طبیعت کے خلاف ہو۔ نفس کے خلاف ہوتو تبھی وہ مجاہدہ ہوتا ہے۔ بعض دفعہ کسی کے لئے جو مجاہدہ ہوتا ہے وہ دوسرے کیلئے مجاہدہ نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کا فیصلہ شیخ پر چھوڑنا چاہیئے۔

(٧١) سوال:
آجکل کے دور میں خلوت کا کیا طریقہ ہے؟

جواب:
خلوت کا مطلب آنکھوں، کانوں اور زبان کو عمومی ماحول سے منقطع کرنا ہوتاہے۔ یہ جس وقت جس طرح بھی میسر آئے، خلوت ہے بشرطیکہ اس سے شہرت اور خشکی نہ ہو۔ آج کل کے دور میں اس پر عمل یوں ہوسکتا ہے کہ یا تو کسی باشرع شیخ کی رہنمائی میں خانقاہ میں قیام کرے یا کسی مسجد میں بنیتِ خلوت وعبادت اعتکاف کرے یا پھر جہاں خلوت گاہیں ہوں وہاں وقت گزارے اور یہ آج کل بہت کم ہیں البتہ موجود ہیں تلاش پر مل سکتی ہیں۔

(٧٢) سوال:
نفلی روزےرکھنا کیا کم کھانے کے مجاہدے کا بدل ہوسکتا ہے؟

جواب:
کیوں نہیں! تاہم اس کو مجاہدے کی نیت سے جب کرنا ہوتو سحری اور افطار میں مستی کے کھانے کی بجائے ضرورت کے درجے میں کھانا کھایا جائے۔

(٧٣) سوال:
آپ نے ذرائع میں فاعلہ کا ذکر بھی کیا تھا یہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:
انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے عجیب قوتیں رکھی ہیں۔ چنداعمال ایسے ہوتے ہیں جن سے یہ قوتیں برانگیختہ ہوجاتی ہیں مثلاً مسمریزم (Hypnotism) وغیرہ سے انسان عجیب عجیب کام لے سکتا ہے۔ اس طرح کسی چیز کا تکرار اور تصور بھی ایسی قوتیں ہیں جن کو نفسیات اور کیفیات میں بڑا دخل ہے۔ ذکر، شغل اور مراقبہ ان ہی دو قوتوں کے استعمال کے نمونے ہیں جن سے انسان کیفیات حاصل کرسکتا ہے۔ ذکر شغل اور مراقبہ اختیاری اعمال ہیں اور کیفیات غیر اختیاری لیکن؛ یہی غیر اختیاری کیفیات بعض اختیاری اعمال کے لیے ذریعہ بن جاتی ہیں اس لیے ذکر، شغل اور مراقبہ خود ان مقاصد کے ذرائع بن گئے۔ ان اعمال کو فاعلہ کہتے ہیں۔

(٧٤) سوال:
ذکر کا کیا مطلب ہے؟

جواب:
اللہ تعالیٰ کی یاد کو ذکر کہتے ہیں۔

(٧٥) سوال:
کیا مسنون تسبیحات بھی ذکر ہیں؟

جواب:
مسنون تسبیحات بھی ذکر ہی ہیں۔ اس کی مثال غذا کی ہے البتہ اس کے علاوہ بعض اذکار ہیں جو علاج کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی مثال دوا کی ہے۔ یہاں ذریعہ کے طور پر جس ذکر کے بارے میں کہا گیا وہ یہی علاج والا ذکر ہے۔

(٧٦) سوال:
ذکر سے علاج کیسے ہوتا ہے؟

جواب:
ذکر سے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کی جاتی ہے اور محبت تمام فضائل کی کنجی ہے۔ نفی اثبات میں تمام بُری محبتوں کی نفی کی جاتی ہے۔جتنا جتنا یہ ذکر دل و دماغ میں رچے گا اتنی اتنی غیر کی محبت دل سے نکلے گی اور اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں آئے گی اور بندے کی اصلاح ہوتی رہے گی۔

(٧٧) سوال:
ذکر کیسے کرنا چاہیئے؟

جواب:
اس کا جواب یہاں مشکل ہے کیونکہ یہ ہر شخص کی حالت پر منحصر ہوتا ہے اس لیے کوئی عام قانون اس کے بارے میں نہیں بتایا جاسکتا۔ اسی لیے تو شیخ کا ہاتھ پکڑا جاتا ہے۔ ذکر زبان سے بھی ہوتا ہے دل سے بھی ہوتا ہے، سانس سے بھی ہوتا ہے اور خیال سے بھی۔ جس کے لیے جو اور جیسے مناسب ہو وہ بتایا جاتا ہے اور پھر اس کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ اس کے ثمرات حاصل ہوسکیں۔

(٧٨) سوال:
بعض لوگ ذکر بالجہر کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ تو ہر ایک کی خاموش بات بھی سنتا ہے تو زور سے ذکر کیوں کیا جاتا ہے؟

جواب:
جب ذکر ثواب کے لیے کیا جائے تو اس کے لیے بیشک خاموشی کے ساتھ ذکر کیا جائے کہ آدمی اپنی آواز کو صرف خود سنے تاکہ دوسرے کے کسی ضروری کام میں حرج نہ ہو یا کسی کو تکلیف نہ ہو۔ کیونکہ اس کو ہر وقت کرنا چاہیئے اور ہر وقت ایسی جگہ کا ملنا کہ اس کے ذکر جہر سے لوگوں کو حرج نہ ہو عملاً بہت مشکل ہے۔ تلاوت قُرآن بھی اسی حکم میں ہے البتہ؛ جو ذکر علاج کے لیے کیا جاتا ہے اس میں جہر، ثواب کے لیے نہیں بلکہ وساوس کو دفع کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ نیز اچھی آواز دل کو متاثر کرتی ہے پس خوش آوازی کے ساتھ ذکر جہر دل کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے اگر اس کو ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٢٩ تا ٣٢ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  

https://t.me/tasawwufkiahy

No comments: