Monday, August 29, 2022

حضرت عمر بن عبدالعزیز سے قبر کا بات کرنا



*حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک مرتبہ ایک جنازے کے ساتھ تشریف لے گئے اور قبرستان میں پہنچ کر علیحدہ ایک جگہ بیٹھ کر کچھ سوچنے لگے ۔*

*کسی نے عرض کیا :*

*امیرالمؤمنین ! آپ اس جنازے کے ولی تھے ، آپ ہی علیحدہ بیٹھ گئے ؟*

*فرمایا : ہاں ، مجھے ایک قبر نے آواز دے دی اور مجھ سے یُوں کہا کہ اے عمر بن عبدالعزیز ! تو مجھ سے نہیں پوچھتا کہ میں ان آنے والوں کے ساتھ کیا کیا کر دیتی ہوں ، خون سارا چُوس لیتی ہوں ، گوشت کھا لیتی ہوں اور بتاؤں کہ آدمی کے جوڑوں کے ساتھ کیا کرتی ہوں ، مونڈھوں کو بانہوں سے جدا کر دیتی ہوں اور بانہوں کو پہنچوں سے جدا کر دیتی ہوں اور سرینوں کو بدن سے جدا کر دیتی ہوں اور سرینوں سے رانوں کو جدا کر دیتی ہوں اور رانوں کو گھٹنوں سے اور گھٹنوں کو پنڈلیوں سے ۔*

*دنیا کا قیام بہت ہی تھوڑا ہے اور اس کا دھوکہ بہت زیادہ ہے ، اس میں جو عزیز ( عزت والا ) ہے ، وہ آخرت میں ذلیل ہے ، اس میں جو دولت والا ہے ، وہ آخرت میں فقیر ہے ، اس کا جوان بہت جلد بوڑھا ہو جائے گا ، اس کا زندہ بہت جلد مر جائے گا ۔*

*اِس کا تمہاری طرف متوجہ ہونا تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے ، حالانکہ تم دیکھ رہے ہو کہ یہ کتنی جلدی مُنہ پھیر لیتی ہے اور بیوقوف وہ ہے ، جو اس کے دھوکے میں پھنس جائے ، باغ لگائے اور بہت تھوڑے دن رہ کر سب کو چھوڑ کر چل دے ۔ وہ اپنی صحت اور تندرستی سے دھوکے میں پڑے کہ صحت کے بہتر ہونے سے ان میں نشاط پیدا ہوا اور اس سے گناہوں میں مبتلا ہوجائے ۔*

*وہ لوگ خدا کی قسم ! دنیا میں مال کی کثرت کی وجہ سے قابل رشک تھے ، باوجودیکہ مال کے کمانے میں ان کو رکاوٹیں پیش آتی تھیں ، مگر پھر بھی خوب کماتے تھے ، ان پر لوگ حسد کرتے تھے ، لیکن وہ بے فکر مال کو جمع کرتے رہتے تھے اور اس کے جمع کرنے میں ہر قسم کی تکلیف کو خوشی سے برداشت کرتے تھے ، لیکن اب دیکھ لو کہ مٹی نے ان کے بدنوں کا کیا حال کر دیا اور خاک نے ان کے بدنوں کو کیا بنا دیا ، کیڑوں نے ان کے جوڑوں اور ان کی ہڈیوں کا کیا حال کر دیا ۔*

*وہ لوگ دنیا میں اونچی اونچی مسہریوں ( بیڈس ) پر اونچے اونچے فرش اور نرم نرم گدوں پر نوکروں اور خادموں کے درمیان آرام کرتے تھے ، عزیز و اقارب ، رشتہ دار اور پڑوسی ، ہر وقت دلداری کو تیار رہتے تھے ، لیکن اب کیا ہو رہا ہے ، آواز دے کر ان سے پوچھ کہ کیا گذر رہی ہے ۔ غریب امیر سب ایک میدان میں پڑے ہوئے ہیں ، ان کے مالدار سے پوچھ کہ اس کے مال نے کیا کام دیا ، ان کے فقیر سے پوچھ کہ اس کے فقر ( غریبی ) نے کیا نقصان دیا ۔ ان کی زبان کا حال پوچھ جو بہت چہکتی تھی ، ان کی آنکھوں کو دیکھ جو ہر طرف دیکھتی تھیں ، ان کی نرم نرم کھالوں کا حال دریافت کر ، ان کے خوبصورت اور دلربا چہروں کا حال پوچھ کیا ہوا ، ان کے نازک بدن کو معلوم کر ، کیا کیا کیڑوں نے ، ان سب کا کیا حشر بتایا ، ان کے رنگ کالے کر دیئے ، ان کا گوشت کھالیا ، ان کے مُنہ پر مٹی ڈال دی ، اعضاء کو الگ الگ کر دیا ، جوڑوں کو توڑ دیا ، آہ کہاں ہیں ان کے وہ خدام جو ہر وقت حاضر ، "ہوں جی" کہتے تھے ، کہاں ہیں ان کے وہ خیمے اور کمرے جن میں آرام کرتے تھے ، کہاں گئے ان کے وہ مال اور خزانے جن کو جوڑ جوڑ کر رکھتے تھے ، ان حشم خدم نے اس کو قبر میں کھانے کے لئے کوئی توشہ ( سامان) بھی نہ دیا اور اس کی قبر میں کوئی بسترا بھی نہ بچھا دیا ، کوئی تکیہ بھی نہ رکھ دیا ، زمین ہی پر ڈال دیا ، کوئی درخت ، پھول بھلواری بھی نہ لگا دی ، آہ ! اب وہ بالکل اکیلے پڑے ہیں ، اندھیرے میں پڑے ہیں ، ان کے لئے اب رات دن برابر ہے ، دوستوں سے مل نہیں سکتے ، کسی کو اپنے پاس بُلا نہیں سکتے ، کتنے نازک بدن مرد ، نازک بدن عورتیں ، آج ان کے بدن بوسیدہ ہیں ، ان کے اعضاء ایک دوسرے سے جدا ہیں ، آنکھیں گل کی مُنہ پر گر گئیں ، گردن جدا ہوئی پڑی ہے ، مُنہ میں پانی پیپ وغیرہ بھرا ہوا ہے اور سارے بدن میں کیڑے چل رہے ہیں ، وہ اس حال میں پڑے ہیں اور ان کی جوڑوں نے دوسرے نکاح کر لئے ، وہ مزے آڑا رہی ہیں ، بیٹوں نے مکانوں پر قبضہ کرلیا ، وارثوں نے مال تقسیم کر لیا ، مگر بعض خوش نصیب ایسے بھی ہیں ، جو اپنی قبروں میں بھی لذتیں آڑا رہے ہیں ، تر و تازہ چہروں کے ساتھ راحت و آرام میں ہیں ، لیکن یہ وہی لوگ ہیں ، جنہوں نے اِس دھوکے کے گھر میں اُس گھر کو یاد رکھا ، اِس کی امیدوں سے اُس کی امیدوں کو مقدم کیا اور اپنے لئے توشہ جمع کر دیا اور اپنے پہنجنے سے پہلے اپنے جانے کا سامان کردیا ۔ اے وہ شخص جو کل کو قبر میں ضرور جائے گا ۔ تجھے اس دنیا کے ساتھ آخر کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ھے ، کیا تجھے یہ امید ھے کہ تُو اس کُوچ کے گھر میں ھمیشہ رہے گا ، تیرے یہ وسیع مکان ، تیرے باغوں کے پکے ہوئے پھل ، تیرے نرم بسترے ، تیرے گرمی سردی کے جوڑے ، یہ سب کے سب ایک دم رکھے رہ جائیں گے ، جب ملک الموت آ کر مسلط ہو جائے گا ، کوئی چیز اس کو نہ ہٹا سکے گی ، پسینوں پر پسینے آنے لگیں گے ، پیاس کی شدت بڑھ جائے گی اور جان کنی کی سختی میں کروٹیں بدلتا رہ جائے گا ، افسوس صد افسوس ! اے وہ شخص جو آ ج مرتے وقت اپنے بھائی کی آنکھ بند کر رہا ہے ، اپنے بیٹے کی آنکھ بند کر رہا ہے ، اپنے باپ کی آنکھ بند کر رہا ہے ، ان میں سے کسی کو نہلا رہا ہے ، کسی کو کفن دے رہا ہے ، کسی کے جنازے کے ساتھ جا رہا ہے ، کسی کو قبر کے گڑھے میں ڈال رہا ہے ، کل کو تجھے بھی یہ سب کچھ پیش آنا ہے اور بھی اس قسم کی باتیں فرمائیں ۔ پھر دوشعر پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ آدمی ایسی چیز کے ساتھ خوش ہوتا ہے ، جو عنقریب فنا ہونے والی ہے اور لمبی لمبی آرزوؤں اور دنیا کی امیدوں میں مشغول رہتا ہے ، ارے بیوقوف خواب کی لذتوں سے دھوکے میں نہیں پڑا کرتے ، تیرا دن سارا غفلت میں گذرتا ہے اور تیری رات سونے سے گذرتی ہے اور موت تیرے اوپر سوار ہو رہی ہے ۔ آج تو وہ کام کر رہا ہے کہ کل کو ان پر رنج کرے گا ، دنیا میں چوپائے اسی طرح زندگی گزارتے ہیں ، جس طرح تو گذار رہا ہے ۔*

*کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ایک ہفتہ بھی نہ گذرا تھا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وصال ہو گیا ۔ رضی اللہ عنہ و ارضاہ ۔ ( مسامرات )*

*فضائل صدقات حصہ دوم ص : 221_219*

*شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا قَدَّسَ اللّٰہُ سِرہٗ۔۔۔🌹*

Saturday, August 27, 2022

پیر اور مرید کے کیا معنی،

سوال نمبر: 604344

عنوان:
پیر اور مرید كی تعریف؟

سوال:
پیر اور مرید کیا ہے، یہ سب شریعت میں ہے؟ یہ نہیں تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔

جواب نمبر: 604344
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa : 952-714/H=08/1442

 جس شخص کے اخلاقِ رذیلہ (تکبر، حسد، بغض، ریا و نمود حب جاہ وحب مال وغیرہ) کی اصلاح ہوگئی اور اخلاقِ فاضلہ (سخاوت، شجاعت، اخلاص، توکل وغیرہ) نیز اعمال صالحہ میں رسوخ کا درجہ اس کو حاصل ہوگیا اتباع سنت و احکام شرع کا پابند ہوگیا اور اس پر کسی متبع سنت شیخ کامل نے اعتماد کیا اور اس کو اجازت دیدی کہ اخلاق رذیلہ کی اصلاح اور اخلاق فاضلہ کے حصول میں مسلمانوں کی خدمت انجام دیا کرو ایسا شخص پیر ہے اور جس کی اصلاح اس سے متعلق ہے وہ مرید ہے اور یہ امور قرآن کریم اور حدیث شریف سے ثابت ہیں۔ تعلیم الدین ایک چھوٹی سی کتاب ہے کتب خانوں میں قیمتاً دستیاب حضرت اقدس مولانا اشرف علی صاحب رحمہ اللہ کی تصنیف ہے اس میں تفصیل ملاحظہ فرمالیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


تصوف کیا ہے قسط14 سوال 93-86

قسط: ١٤

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٨٦) سوال:
آپ نے فرمایا تھا کہ ذکر دل سے بھی ہوتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے ؟

جواب:
جی ہاں! یہ ممکن ہے اور انتہائی لذیذ اور مفید ذکر ہے۔

(٨٧) سوال:
اس کی کچھ مزید تفصیل بتا سکتے ہیں؟

جواب:
جی ہاں! اس کو حاصل کرنے کے طریقے ہیں۔ نقشبندیہ میں یہ ابتدا میں تلقین کیا جاتا ہے جبکہ چشتیہ میں کچھ تیاری کے بعد یہ تلقین کیا جاتا ہے اور بعض کو ذکر لسانی کثرت سے کرنے سے یہ نعمت حاصل ہوجاتی ہے اور یہ زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہر وقت اور ہر جگہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے ذکر قلبی سے آدمی دائم الذکر بن سکتا ہے۔ یہی ذکر قلبی جب مزید راسخ ہوجاتا ہے تو اس کا اثر جسم کے دوسرے حصوں میں سرایت کرجاتا ہے اور مختلف مقامات پر اس کا اثر محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس وقت ان کو لطائف کا جاری ہونا کہتے ہیں۔

(٨٨) سوال:
کیا یہ لطائف خود بخود جاری ہوتے ہیں یا ان کو کوشش سے بھی جاری کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
جی ہاں! یہ کوشش کی جاسکتی ہے۔نقشبندیہ حضرات ان کو یکے بعد دیگرے ایک ترتیب سے جاری کرتے ہیں اور چشتی حضرات صرف قلب کو اصل لطیفہ سمجھتے ہیں اور باقی لطائف کو اس کی فروعات مانتے ہیں جو کہ قلب پر محنت سے خود بخود حاصل ہوجاتے ہیں۔

(٨٩) سوال:
اس چیز کا پتہ کیسے چلتا ہے کہ لطائف جاری ہوئے ہیں یا نہیں؟

جواب:
ہر ہر لطیفہ کی اپنی جگہ ہے۔ لطیفہ قلب دل کی جگہ، لطیفہ روح دائیں پستان کے نیچے قلب کے محاذ میں ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان لطیفہ سِر ہوتا ہے۔ ہونٹوں اور بعض کی تحقیق کے مطابق پیشانی کے مقام پر لطیفہ خفی ہوتا ہے اور ام الدماغ یعنی سَر کے بیچ لطیفہ اخفیٰ ہوتا ہے۔ لطیفہ نفس ناف کے مقام پر ہوتا ہے۔ ” ان کے مقامات میں بعض کشفی اختلافات بھی ہیں۔“ ان مقامات پر سالک کو ذکر محسوس ہوتا ہے جو کہ اللہ، اللہ، اللہ ہو یا لا الہ الا اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ ان مقامات کے اپنے انوارات بھی ہوتے ہیں جو اہل کشف کو نظر آتے ہیں۔ اس لیے بعض حضرات نے ان کے انوارات کے بارے میں بھی تحریر فرمایا ہے لیکن ان انوارات کا سب کو نظر آنا ضروری نہیں۔ کیونکہ یہ کشفی ہیں اور بعض کو کشف سے مناسبت نہیں ہوتی۔ لیکن کشف کوئی مقصود نہیں ہے۔

(٩٠) سوال:
کشف تو بڑی مفید چیز ہے تو پھر یہ مقصود کیوں نہیں؟

جواب:
ہمارا مقصد چونکہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے جس کے لیے کشف کا ہونا ضروری نہیں۔ اس لیے مقصود کیسے ہوسکتا ہے؟ جہاں تک اس کے مفید ہونے کا تعلق ہے تو وہ اس کے استعمال پر موقوف ہے بعض کے لیے نعمت ہوتا ہے بعض کے لیے آزمائش۔ اس لیے جن کو خود بخود حاصل ہوجائے وہ تو اس کی قدر کریں اور اس کا صحیح استعمال کریں اور جن کو نہ دیا جائے وہ اس پر شکر کریں اور اس کے نہ ملنے کی کوئی پرواہ نہ کریں۔

(٩١) سوال:
کشف ہوتا کیا ہے؟

جواب:
کشف کا مطلب کسی چیز کا پردہ سے باہر آجانا۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم تکوینی، یعنی ماضی، حال، مستقبل کی کسی بات یا کام کا پتہ چلے یا دور و نزدیک کسی بات یا چیز کا پتہ چلے جس کو عام لوگ اپنے عام حواس سے معلوم نہ کرسکیں۔ دوسری قسم علمی، جس میں کسی بات کے صحیح اور درست ہونے کا پتہ چلے۔ یہ دوسری قسم کا کشف بہت مفید ہے اس کی دعا بھی کرنی چاہیئے۔ اس کو شرح صدر کہا گیا ہے۔ قُرآن میں اس کی دعا ”رب الشرح لی صدری...“ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ثابت ہے۔

(٩٢) سوال:
یہ آخری کشف تو پھر مقصود ہوا نا پھر اس کو غیر مقصود کیسے کہہ سکتے ہیں؟

جواب:
میں نے یہ کہا ہے کہ اس کے لیے دعا کی جاسکتی ہے یہ مفید ہے پھر اللہ تعالیٰ جس کے لیے جو مناسب سمجھے اس پر راضی رہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہونا تصوف کے مقاصد میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ساتھ اس کے احوال کے مطابق معاملہ کرتا ہے اس لیے جس کو جتنے وسائل دیئے گئے ہیں اس سے اتنا ہی پوچھا جائے گا۔

(٩٣) سوال:
آپ نے مراقبہ کے بارے میں بھی فرمایا تھا یہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:
مراقبہ دل کی سوچ کو کہتے ہیں۔ کسی مطلوب بات کا اس طریقے سے سوچنا کہ وہ مطلوب حاصل ہوجائے مراقبہ کہلاتا ہے۔ انسان کی قوت تصور بہت عجیب ہے اگر اس سے کام لیا جائے تو بڑے بڑے کام ہوسکتے ہیں۔ بعض حضرات اس چیز کو بہت ہلکا سمجھتے ہیں کہ سوچنے سے کیا ہوتا ہے۔ وہ حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ مذہب میں تو سب کچھ تصور سے ہوتا ہے۔ عقائد سب تصورات ہیں جو کہ دین کی اساس ہیں۔ محبت کے ہونے نہ ہونے میں تصور کو بہت دخل ہے۔ فکر تصور ہی کی ایک قسم ہے جس سے اعمال وجود میں آتے ہیں۔ اس لیے دل کی سوچ کو ترتیب دینے کے لیے مشائخ اس قوت سے کام لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں بندہ کے گمان کے ساتھ ہوں۔ مراقبہ سے اچھے گمان کا حصول ممکن ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٣٤ تا ٣٦ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ

Thursday, August 25, 2022

اگر ہم اسکے ہیں تو جواب ہی جواب ہے سوال سے پہلے جواب ہے

اگر ہم اس کے ہیں تو وہ ہمارا ہے، جواب ہی جواب۔  اگر ہم صرف اپنے لئے ہیں، تو ہم پر عذاب ہے۔ علم کا عذاب، ذہن کا عذاب، سوال ہی سوال۔

کیا خالق نے مخلوق کو مخلوق کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق سے ناراض ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق کو معاف نہیں کر سکتا۔۔۔؟
کیا اس کی رحمت اس کے غضب سے زیادہ وسیع نہیں ہے۔۔۔؟

اہلِ ظاہر کو ان سوالات کے جوابات سوچنے پڑتے ہیں۔
اہل باطن پر جواب پہلے آشکار ہوتا ہے، سوال بعد میں بنتا ہے۔
اگر جواب معلوم نہ ہو تو سوال گستاخی ہے اور اگر جواب معلوم ہو تو سوال بیباکی ہے، بیباکی میں تعلق قائم رہتا ہے اور گستاخی میں تعلق ختم ہو جاتا ہے۔
اگر ہم ذہن سے سوچیں تو سوال ہی سوال ہیں اور اگر دل سے محسوس کریں تو جواب ہی جواب۔


سوال دراصل ذہن کا نام ہے اور جواب دل کا نام۔۔۔

کتاب: قطرہ قطرہ قلزم۔
حضرت واصف علی واصف ؓ
کیا خالق نے مخلوق کو مخلوق کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق سے ناراض ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق کو معاف نہیں کر سکتا۔۔۔؟
کیا اس کی رحمت اس کے غضب سے زیادہ وسیع نہیں ہے۔۔۔؟

اہلِ ظاہر کو ان سوالات کے جوابات سوچنے پڑتے ہیں۔
اہل باطن پر جواب پہلے آشکار ہوتا ہے، سوال بعد میں بنتا ہے۔
اگر جواب معلوم نہ ہو تو سوال گستاخی ہے اور اگر جواب معلوم ہو تو سوال بیباکی ہے، بیباکی میں تعلق قائم رہتا ہے اور گستاخی میں تعلق ختم ہو جاتا ہے۔
اگر ہم ذہن سے سوچیں تو سوال ہی سوال ہیں اور اگر دل سے محسوس کریں تو جواب ہی جواب۔

اگر ہم اس کے ہیں تو وہ ہمارا ہے، جواب ہی جواب۔  اگر ہم صرف اپنے لئے ہیں، تو ہم پر عذاب ہے۔ علم کا عذاب، ذہن کا عذاب، سوال ہی سوال۔
سوال دراصل ذہن کا نام ہے اور جواب دل کا نام۔۔۔

کتاب: قطرہ قطرہ قلزم۔
حضرت واصف علی واصف ؓ

سلطان نور الدین زنگی ر۔ہ کا خواب

سلطان نور الدین زنگی رحمتہ اللّه علیہ عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے کہ اچانک اٹھ بیٹھے۔
اور نم آنکھوں سے فرمایا میرے ہوتے ہوئے میرے آقا دو عالم ﷺ کو کون ستا رہا ہے .
آپ اس خواب کے بارے میں سوچ رہے تھے جو مسلسل تین دن سے انہیں آ رہا تھا اور آج پھر چند لمحوں پہلے انہیں آیا جس میں سرکار دو عالم ﷺ نے دو افراد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ مجھے ستا رہے ہیں.
اب سلطان کو قرار کہاں تھا انہوں نے چند ساتھی اور سپاہی لے کر دمشق سے مدینہ جانے کا ارادہ فرمایا .
اس وقت دمشق سے مدینہ کا راستہ ٢٠-٢٥ دن کا تھا مگر آپ نے بغیر آرام کیئے یہ راستہ ١٦ دن میں طے کیا. مدینہ پہنچ کر آپ نے مدینہ آنے اور جانے کے تمام راستے بند کرواے اور تمام خاص و عام کو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا.
اب لوگ آ رہے تھے اور جا رہے تھے ، آپ ہر چہرہ دیکھتے مگر آپکو وہ چہرے نظر نہ آے اب سلطان کو فکر لاحق ہوئی اور آپ نے مدینے کے حاکم سے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو اس دعوت میں شریک نہیں .جواب ملا کہ مدینے میں رہنے والوں میں سے تو کوئی نہیں مگر دو مغربی زائر ہیں جو روضہ رسول کے قریب ایک مکان میں رہتے ہیں . تمام دن عبادت کرتے ہیں اور شام کو جنت البقیح میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں ، جو عرصہ دراز سے مدینہ میں مقیم ہیں.
سلطان نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، دونوں زائر بظاہر بہت عبادت گزار لگتے تھے. انکے گھر میں تھا ہی کیا ایک چٹائی اور دو چار ضرورت کی اشیاء.کہ یکدم سلطان کو چٹائی کے نیچے کا فرش لرزتا محسوس ہوا. آپ نے چٹائی ہٹا کے دیکھا تو وہاں ایک سرنگ تھی.
آپ نے اپنے سپاہی کو سرنگ میں اترنے کا حکم دیا .وہ سرنگ میں داخل ہویے اور واپس اکر بتایا کہ یہ سرنگ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف جاتی ہے،
یہ سن کر سلطان کے چہرے پر غیظ و غضب کی کیفیت طاری ہو گئی .آپ نے دونوں زائرین سے پوچھا کے سچ بتاؤ کہ تم کون ہوں.
حیل و حجت کے بعد انہوں نے بتایا کے وہ یہودی ہیں اور اپنے قوم کی طرف سے تمہارے پیغمبر کے جسم اقدس کو چوری کرنے پر مامور کے گئے ہیں. سلطان یہ سن کر رونے لگے ، اسی وقت ان دونوں کی گردنیں اڑا دی گئیں.
سلطان روتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ
💞"میرا نصیب کہ پوری دنیا میں سے اس خدمت کے لئے اس غلام کو چنا گیا"💞
اس ناپاک سازش کے بعد ضروری تھا کہ ایسی تمام سازشوں کا ہمیشہ کہ لیے خاتمہ کیا جاۓ سلطان نے معمار بلاۓ اور قبر اقدس کے چاروں طرف خندق کھودنے کا حکم دیا یہاں تک کے پانی نکل آے.سلطان کے حکم سے اس خندق میں پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا گیا
بعض کے نزدیک سلطان کو سرنگ میں داخل ہو کر قبر انور پر حاضر ہو کر قدمین شریفین کو چومنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی،،

Monday, August 22, 2022

اللہ کو دل میں بسا لو ، اللہ، اللہ کرنے والا طوطا کا دلچسپ واقعہ

اللہ  کو  دل  میں  بسا  لو! 
اللہ،اللہ کرنے ولا طوطا کا دلچسپ واقعہ
╮•┅══ـ❁🏕❁ـ══┅•╭

ایک صاحب نے طوطا پالا ہوا تھا اور اس طوطے کو ”اللہ اللہ“ کہنا سکھایا ہوا تھا، وہ طوطا ”اللہ اللہ“ کہتا تو ان کو بڑی خوشی ہوتی، ایک دن پنجرہ کھلا رہ گیا، ایک بلی ادھر آنکلی، اس نے طوطے کو دبوچا اور لے کر بھاگی تو طوطا ”ٹیں ٹیں“ کرنے لگ گیا- وہ بڑے حیراں ہوئے کہ میں نے تو اسے ”اللہ اللہ“ کہنا سکھایا تھا اب یہ ”ٹیں ٹیں“ کر رہا ہے- اتنے میں ایک بزرگ انہیں ملنے آئے، انہوں نے سارا واقعہ ان کو کہہ سنایا، وہ فرمانے لگے چونکہ آپ نے طوطے کو ”اللہ اللہ“ کہنا سکھایا تھا، اس لیے طوطے کی زبان پر تو ”اللہ اللہ“ تھا، مگر اس کے دل میں ”ٹیں ٹیں“ تھی... یہی وجہ ہے کہ جب اس کو موت آنے لگی اور بلی نے اسے پکڑا تو وہی کچھ اس کی زبان سے نکلا جو اس کے دل میں بھرا ہوا تھا- آج ہمارے دل میں کیا بھرا ہوا ہے؟ ؎
بر زبان تسبیح دَر دِل گاؤ خر
ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر
لہٰذا آج اگر دل میں اللہ نہیں سمائے گا، ہم اپنے دل میں اللہ کو نہیں بسائیں گے، اس کے انوارات کو نہیں بھریں گے، ہمارے اندر سچ نہیں اترے گا تو پھر موت کے وقت ہماری زبان سے اللہ کا نام کیسے نکلے گا؟ اس کے لیے تو محنت کرنا پڑتی ہے اور اسی محنت کے لیے پوری زندگی دی گئی ہے-

📚موت کی تیاری ص۸۴-۸۵📚
✍محبوب العلماء والصلحاء حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی دامت برکاتہم

http://t.me/tasawwufkiahy
ــــــــــــــــــــــــــــ
فارسی شعر مع ترجمہ ؎
بر زبان تسبیح دَر دِل گاؤ خر
ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر
اردو ترجمہ:
زبان پر اللہ اللہ اور دِل میں گائے گدھے (مال ودولت) کا تصور ہے
اگر اس قسم کی تسبیح ہے تو اس کا اثر کیا ہوگا-

تصوف کیا ہے قسط 13 سوال 84-79

قسط: ١٣

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٧٩) سوال:
تو کیا اونچی آواز سے ذکر کرنے میں ریاء کا اندیشہ نہیں ہوتا؟

جواب:
لیکن اس اندیشے کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔ دل میں ریاء کی نیت نہ ہو یہ کافی ہے۔ باقی ریاء کا وسوسہ ریاء نہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تم اتنا ذکر کرو اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں ریاکار کہہ دیں اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اتنا ذکر کرو اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں مجنون کہیں۔ بعض بزرگوں نے لکھا ہے کہ اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے ذکر سے رک جانا بھی ریاء ہے۔

(٨٠) سوال:
انفرادی طور پر ذکر بالجہر کی گنجائش تو نکل آئی لیکن کیا اجتماعی طور پر بھی ذکر بالجہر کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
جو دلائل انفرادی ذکر بالجہر کے لیے قابل سماعت ہیں وہ اجتماعی کے لیے بھی ہیں۔ آپ ذرا غور فرمایئے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کو اگر دل کی صفائی کا ذریعہ سمجھا جائے تو چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی نہ صرف جائز بلکہ مفید ہے۔

(٨١) سوال:
ایسا اجتماعی ذکر کہ لوگ اپنا اپنا ذکر کررہے ہوں یہ تو ہمارے اکابر کا طریقہ رہا ہے لیکن ایسا اجتماعی ذکر جس میں ایک آدمی سب کو ایک آواز میں ذکر کرا رہا ہو اس کا اپنے اکابر میں ثبوت نظر نہیں آتا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کی مثال نماز کی طرح ہوجاتی ہے کہ ایک امام ہو اور باقی مقتدی اس لیے یہ دین میں زیادتی ہے؟

جواب:
نہیں، ایسی کوئی بات نہیں! حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بڑے ہیں۔ ان کے ہاں اجتماعی ذکر بصوت واحد ہوتا تھا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء میں حضرت مولانا فقیر محمد رحمۃ اللہ علیہ یہی ذکر کراتے تھے۔ یہ صرف ایک ذریعہ ہے۔ اس کا مقصد دل کو متاثر کرنا ہے جس میں اجتماعی صوت (آواز) کے اثر سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ جہاد میں بھی جب ٹریننگ دی جاتی ہے تو اس میں بھی ایک امیر ہوتا ہے باقی لوگ اس کے مامور ہوتے ہیں اور وہ سب کو ایک آواز سے سب کچھ کرارہا ہوتا ہے جس طرح وہ فقط ایک ذریعہ ہے اور غلط نہیں ہے اس طرح یہاں بھی ذکر اگر ایک آواز سے کرایاجائے اور اس کو مقصد نہ سمجھا جائے اور جو نہ کرے اس پر نکیر نہ کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

(٨٢) سوال:
کیا ذکر بالجہر مسجد میں درست ہے؟

جواب:
مسجد میں ذکر بالجہر کی مثال بچوں کو مسجد میں قُرآن پڑھانے کی سی ہے۔ پس اگر کوئی اس وقت نماز نہیں پڑھ رہا ہو یا کوئی اور اجتماعی کام نہ ہو رہا ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں۔

(٨٣) سوال:
اگر کوئی ایک شخص بھی نماز پڑھ رہا ہوتو کیا اس وقت ذکر بالجہر جائز ہوگا؟

جواب:
اگر وہ وقت کی فرض نماز ہے تو ذکر والوں کو اس کی رعایت ضروری ہے اور اگر نفل نماز ہے تو نماز والوں کو اس اجتماعی عمل کی رعایت کرنی چاہیئے۔ کیونکہ نفل نماز کے لیے بہترین جگہ اپنا گھر ہے جیسا کہ بچوں کو قُرآن پڑھانے کے سلسلے میں خیال کیا جاتا ہے۔

(٨٤) سوال:
غذائی ذکر میں قُرآن پاک، عام ذکر، درود شریف میں سے کس کا اثر زیادہ ہے؟

جواب:
یہ سب غذا کی طرح ہے اور سب سے اپنا اپنا فائدہ ہوتا ہے۔ ہمارے اکابر گلدستہ کے قائل ہیں کہ ایک جامع ترتیب اختیار کی جائے۔ قُرآن پاک کی تلاوت روزانہ باقاعدگی کے ساتھ کرنا چاہیئے۔ اس طرح ہر وقت زبان ذکر سے تازہ رکھنے کے لئے بھی فرمایا گیا ہے اور درود شریف کا تو ﷲ تعالیٰ نے براہ راست سارے مؤمنوں کو ایک عجیب انداز سے حکم فرمایا ہے۔ اس لئے سب کا حصّہ ہونا چاہیئے البتہ بعض لوگوں کے لئے بعض مواقع پر ان میں سے کسی کی اہمیت زیادہ ہوجاتی ہے۔اس کا فیصلہ شیخ پر چھوڑنا چاہیئے۔

(٨٥) سوال:
بعض لوگ قُرآن کی مخصوص سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں اور رواں تلاوت کا اہتمام نہیں کرتے کیا یہ کافی ہے؟

جواب:
یہ لوگ اُن لوگوں سے تو یقیناً بہتر ہیں جو بالکل تلاوت نہیں کرتے البتہ ان لوگوں کے برابر نہیں جو رواں تلاوت بھی کرتے ہیں اور مخصوص فوائد کے لئے مخصوص سورتیں بھی پڑھتے ہیں کیونکہ قُرآن پاک کی ہر آیت کے ساتھ ایک مخصوص تجلی ہوتی ہے وہ اس کے بغیر کیسے ملے گی؟

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٣٢ تا ٣٤ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العا

تصوف کیا ہے قسط 12 سوال 78-70

قسط: ١٢

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٧٠) سوال:
آج کل کے دور میں مجاہدہ کیسے کرایا جاتا ہے؟

جواب:
یہ شیخ کے اجتہاد پر موقوف ہے اس لئے اس کا عام قاعدہ سمجھانا ممکن نہیں۔ ہر شخص کے مجاہدے کا معیار الگ ہے۔ حالات کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہر ایک کا مجاہدہ مختلف ہوتا ہے بہرحال مجاہدے کی ضرورت ہر دور میں ہے اور ہوتا ہے۔ اور یہ شیخ کی بصیرت پر ہوتا ہے کہ وہ کسی کو کونسا مجاہدہ دیتا ہے البتہ؛ اس میں ایک چیز میں آپ کو بتاؤں کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم مجاہدہ کریں (گے) لیکن جب مجاہدہ آتا ہے تو پھر اس سے بھاگتے ہیں۔ گویا ان کا جی چاہتا ہے کہ ہمیں اپنی مرضی کے مجاہدے کے لئے کہا جائے تو پھر یہ تو مجاہدہ نہیں۔ جس چیز میں اپنی مرضی شامل ہو وہ مجاہدہ نہیں ہوتا۔ مجاہدہ تو وہی ہے جو آپ کی طبیعت کے خلاف ہو۔ نفس کے خلاف ہوتو تبھی وہ مجاہدہ ہوتا ہے۔ بعض دفعہ کسی کے لئے جو مجاہدہ ہوتا ہے وہ دوسرے کیلئے مجاہدہ نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کا فیصلہ شیخ پر چھوڑنا چاہیئے۔

(٧١) سوال:
آجکل کے دور میں خلوت کا کیا طریقہ ہے؟

جواب:
خلوت کا مطلب آنکھوں، کانوں اور زبان کو عمومی ماحول سے منقطع کرنا ہوتاہے۔ یہ جس وقت جس طرح بھی میسر آئے، خلوت ہے بشرطیکہ اس سے شہرت اور خشکی نہ ہو۔ آج کل کے دور میں اس پر عمل یوں ہوسکتا ہے کہ یا تو کسی باشرع شیخ کی رہنمائی میں خانقاہ میں قیام کرے یا کسی مسجد میں بنیتِ خلوت وعبادت اعتکاف کرے یا پھر جہاں خلوت گاہیں ہوں وہاں وقت گزارے اور یہ آج کل بہت کم ہیں البتہ موجود ہیں تلاش پر مل سکتی ہیں۔

(٧٢) سوال:
نفلی روزےرکھنا کیا کم کھانے کے مجاہدے کا بدل ہوسکتا ہے؟

جواب:
کیوں نہیں! تاہم اس کو مجاہدے کی نیت سے جب کرنا ہوتو سحری اور افطار میں مستی کے کھانے کی بجائے ضرورت کے درجے میں کھانا کھایا جائے۔

(٧٣) سوال:
آپ نے ذرائع میں فاعلہ کا ذکر بھی کیا تھا یہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:
انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے عجیب قوتیں رکھی ہیں۔ چنداعمال ایسے ہوتے ہیں جن سے یہ قوتیں برانگیختہ ہوجاتی ہیں مثلاً مسمریزم (Hypnotism) وغیرہ سے انسان عجیب عجیب کام لے سکتا ہے۔ اس طرح کسی چیز کا تکرار اور تصور بھی ایسی قوتیں ہیں جن کو نفسیات اور کیفیات میں بڑا دخل ہے۔ ذکر، شغل اور مراقبہ ان ہی دو قوتوں کے استعمال کے نمونے ہیں جن سے انسان کیفیات حاصل کرسکتا ہے۔ ذکر شغل اور مراقبہ اختیاری اعمال ہیں اور کیفیات غیر اختیاری لیکن؛ یہی غیر اختیاری کیفیات بعض اختیاری اعمال کے لیے ذریعہ بن جاتی ہیں اس لیے ذکر، شغل اور مراقبہ خود ان مقاصد کے ذرائع بن گئے۔ ان اعمال کو فاعلہ کہتے ہیں۔

(٧٤) سوال:
ذکر کا کیا مطلب ہے؟

جواب:
اللہ تعالیٰ کی یاد کو ذکر کہتے ہیں۔

(٧٥) سوال:
کیا مسنون تسبیحات بھی ذکر ہیں؟

جواب:
مسنون تسبیحات بھی ذکر ہی ہیں۔ اس کی مثال غذا کی ہے البتہ اس کے علاوہ بعض اذکار ہیں جو علاج کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی مثال دوا کی ہے۔ یہاں ذریعہ کے طور پر جس ذکر کے بارے میں کہا گیا وہ یہی علاج والا ذکر ہے۔

(٧٦) سوال:
ذکر سے علاج کیسے ہوتا ہے؟

جواب:
ذکر سے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کی جاتی ہے اور محبت تمام فضائل کی کنجی ہے۔ نفی اثبات میں تمام بُری محبتوں کی نفی کی جاتی ہے۔جتنا جتنا یہ ذکر دل و دماغ میں رچے گا اتنی اتنی غیر کی محبت دل سے نکلے گی اور اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں آئے گی اور بندے کی اصلاح ہوتی رہے گی۔

(٧٧) سوال:
ذکر کیسے کرنا چاہیئے؟

جواب:
اس کا جواب یہاں مشکل ہے کیونکہ یہ ہر شخص کی حالت پر منحصر ہوتا ہے اس لیے کوئی عام قانون اس کے بارے میں نہیں بتایا جاسکتا۔ اسی لیے تو شیخ کا ہاتھ پکڑا جاتا ہے۔ ذکر زبان سے بھی ہوتا ہے دل سے بھی ہوتا ہے، سانس سے بھی ہوتا ہے اور خیال سے بھی۔ جس کے لیے جو اور جیسے مناسب ہو وہ بتایا جاتا ہے اور پھر اس کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ اس کے ثمرات حاصل ہوسکیں۔

(٧٨) سوال:
بعض لوگ ذکر بالجہر کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ تو ہر ایک کی خاموش بات بھی سنتا ہے تو زور سے ذکر کیوں کیا جاتا ہے؟

جواب:
جب ذکر ثواب کے لیے کیا جائے تو اس کے لیے بیشک خاموشی کے ساتھ ذکر کیا جائے کہ آدمی اپنی آواز کو صرف خود سنے تاکہ دوسرے کے کسی ضروری کام میں حرج نہ ہو یا کسی کو تکلیف نہ ہو۔ کیونکہ اس کو ہر وقت کرنا چاہیئے اور ہر وقت ایسی جگہ کا ملنا کہ اس کے ذکر جہر سے لوگوں کو حرج نہ ہو عملاً بہت مشکل ہے۔ تلاوت قُرآن بھی اسی حکم میں ہے البتہ؛ جو ذکر علاج کے لیے کیا جاتا ہے اس میں جہر، ثواب کے لیے نہیں بلکہ وساوس کو دفع کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ نیز اچھی آواز دل کو متاثر کرتی ہے پس خوش آوازی کے ساتھ ذکر جہر دل کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے اگر اس کو ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٢٩ تا ٣٢ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  

https://t.me/tasawwufkiahy

Sunday, August 21, 2022

ہزاروں کو مرشد کامل کی تلاش ہے مگر جعلی پیروں کے بازار میں۔۔۔۔

[8/21 Ahmed: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کسی اللہ والے سے جہاں آپ کو مناسبت ہو ضرور تعلق قائم کریں !
🌷🌷🌷🌷🌷۔🌷🌷🌷🌷🌷
ارشاد فرمایا کہ اللہ والوں نے ہمیشہ کسی اللہ والے سے تعلق قائم کیا ہے اور ان کا یہ عمل بھی حدیث کی اتباع ہے۔ لہذا اہل اللہ میں سے جس کس اللہ والے  سےآپ کو مناسبت ہواس سے  ضرور اصلاحی وتربیتی تعلق  قائم کریں، یہ ہمارے بزرگوں کا سرمایہ ہے۔ ہمارے بزرگوں کی سیرت، ہمارے بزرگوں کی دولت ہمارے بزرگوں کی تاریخ ہے کہ جو بڑے بڑے علماء تھے انہوں نے اہل اللہ کے سامنے زانوئے ادب طئے کیا ہے۔

مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، ان حضرات نے ایک غیر عالم لیکن متقی ولی اللہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے رجوع کیا ہے۔ ان سے اپنی اصلاح تربیت  کرائی ان کی رہبری وسرپرستی  میں  نفسانی مکاریوں چالبازیوں شیطانی دھوکہ بازیوں کو خوب سمجھا
حضرت شاہ ابرارالحق صاحب دامت برکاتھم فرماتے ہیں کہ ایسے جلیل القدر علماء نے غیر عالم کو پیر بنایا لیکن آج عالم کو عالم پیر بناتے ہوئے شرم آرہی ہے، یہ کیا بات ہے؟ طلب اور پیاس نہیں ہے۔

رسید بک پر چندہ لینے کے لئے نام رکھیں گے جامعہ قاسمیہ، جامعہ رشیدیہ ، جامعہ اشرفیہ تاکہ امت کو ان بزرگوں کے نام پر حسن ظن ہو اور خوب پیسہ آئے لیکن ان بزرگوں نے صرف چندہ نہیں کیا تھا، کچھ کام بھی کیا تھا۔ اہل اللہ کے سامنے اپنے نفس کو مٹایا تھا۔

مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے شرم نہیں کی کہ میں بخاری پڑھاتا ہوں ، میں معقول (عقلی علوم) اور منقول(نقلی علوم) کا جامع اتنا بڑا عالم ہوں، میں کیوں کسی اللہ والے کی جوتیاں اٹھاوں ؟ مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو شرم نہیں آئی ، مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو حیا نہیں آئی، حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور الله مرقده کو شرم نہیں آئی حاجی امداد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی  جوتیاں اٹھاتے ہوئے۔ آج جوشرح جامی اور کنز الدقائق پڑھ لیتا ہے وہ بھی اللہ والوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔

یہی وجہ ہے کہ قربانی کی کھال کے پیچھے ان کو گالیاں مل رہی ہیں ۔
میں پوچھتا ہوں کہ مولانا قاسم نانوتوی قربانی کی کھال لینے گئے تھے؟ 
کیا مولانا اشرف علی تھانوی کسی کے دروازے گئے تھے؟
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی گئے تھے ؟
جن علماء نے اللہ والوں کی جوتیاں اٹھائیں اللہ تعالٰی نے ان کو ایسی عزت دی کہ امیروں کو ان کے دروازے پر بھیجا، وہ کسی کے دروازے پر نہیں گئے۔

🌹مخلوق کی خدمت فرض کفایہ اور تقوی فرض عین ہے.🌹
ارشاد فرمایا کہ الله کو ناراض کرنا کسی  طرح بھی جائز نہیں ہے، تقویٰ ہم پر فرض عین ہے اور مخلوق کی خدمت وغیرہ یہ سب فرض کفایہ ہے۔ کوئی دوسرا بھی کرسکتا ہے۔ فرض کفایہ کی خاطر سے کسی بھی فرض عین کو ضائع نہیں کیا جاسکتا، کیسا زبردست اصول ہے؟ لوہے سے زیادہ مضبوط اصول ہے۔ جیسے عالم ہونا، حافظ ہونا بھی فرض کفایہ ہے لیکن تقویٰ اور اللہ کی محبت سیکھنا اور
گناہ سے بچنا فرض عین ہے۔ آج مولوی بھی فرض کفایہ سیکھنے کے لئے مدرسوں میں تو چلا جائے گا لیکن تقویٰ اورفرض عین سیکھنے کے لئے بزرگوں اور الله والوں کے پاس جاتے ہوئے اس کو شرم آتی ہے کہ کون ان کے ناز اٹھائے؟ شروحات اور کتابیں پڑھ کر خوب لچھے دار تقریریں کر رہے ہیں اور اسی میں مست ہیں؛ مگر شاعر ”جگر“ کیا کہتا ہے؟ سنیے!

واعظ کا ہر اک ارشاد بجا تقریر بہت دلچسپ مگر 
آنکھوں میں سُرورِ عشق نہیں چہرہ پہ یقیں کا نور نہیں

منبروں پرخوب چیخ کرتقریر کریں گے لیکن ان کی تنہائیوں میں دیکھو تو دنیاکی محبت بھری ہوئی ہے۔ جس رئیس مالدار نے چندہ دے دیا اس کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں ، ہوائی جہاز کا ٹکٹ مانگ رہے ہیں، اس کی خاطر مدارات میں بچھے جارہے ہیں اور اگر کوئی اللہ والا آجائے تو اس کے سامنے ان پر تواضع حرام ہے، اس پر جلال الدین رومی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔

اے تواضع بردہ پیش ابلہاں
اے تکبر کردہ تو پیش شہاں

بے وقوفوں کے سامنے تواضع کریں گے، جو بے نمازی اور بے دین ہے، کھڑے ہو کر پیشاب کرتا ہے لیکن اس کے پاس پیسہ ہے تو دنیادار مولوی اس کے پیچھے پیچھے ناچتا پھرتا ہے اور اللہ والوں کے سامنے، جو اصلی شاہ ہیں ، اکڑا ہوا کھڑا ہے۔
کیا کہیں!  بس دل سے آہ نکل جاتی ہے۔ آنکھوں سے بعض خشک مولویوں کو میں نے دیکھا کہ بڑے سے بڑا الله والا آیا تو اس کی طرف دیکھا بھی نہیں، قیامت کے دن پتہ چلے گا جب حساب دینا ہوگا ۔

(چندہ، ہدیہ اور مشورہ آداب و احکام ص ۹۱-۹۲)
▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
[8/21, 14:47] Ahmed: *میرا جواب تھا:*👇
بہت عمدہ مگر ہزاروں مسلمانوں کو اللہ والوں کی تلاش رہتی ہے۔

Saturday, August 20, 2022

مقصد بیعت

🤝        مقصدِ بیعت       🤝
╮•┅═══ـ❁🏕❁ـ═══┅•╭

بعض حضرات کم علمی کی وجہ سے اس میں بہت سی غیر ضروری اور غیر متعلق باتیں شامل کردیتے ہیں جن سے عقیدوں میں بگاڑ، گمراہی اور بے دینی وجود میں آتی ہے- بیعت کا مقصد کشف و کرامات اور بزرگی حاصل کرنا نہیں ہوتا نہ ہی اس میں قیامت میں بخشوائے جانے کی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے- یہ بھی ضروری نہیں کہ ذکر وشغل میں انوارات وغیرہ نظر آئیں اور نہ ہی اس میں عمدہ عمدہ خوابوں کا نظر آنا اور الہامات کا صحیح آنا لازم ہے ـ بعض حضرات بیعت صرف شیخ کی دعاؤں کی برکتوں کے حصول کے لئے کرتے ہیں، ان کا مقصد اصلاح نہیں بلکہ صرف حصولِ دنیا ہوتا ہے- تحفے تحائف اور نذرانے دے کر کوشش کرتے ہیں کہ شیخ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چوبیس گھنٹے حالتِ سجدہ میں گر کر ان کے لئے دعائیں مانگتا رہے- ان کے تحفے گئے، شیخ کی دعائیں گئیں- یہ کھلّم کھلّا کاروبار ہے- شیخ کے بتائے ہوئے طور طریقوں پر چلنے کے بجائے شیخ کو اپنے پیچھے چلانے کی کوشش کرتے ہیں اور محنت مشقت اور عمل سے دور بھاگتے ہیں- ایسے بیعتوں کا انجام کیسے اچھا ہوسکتا ہے- بیعت کا مقصد اپنا سارا اختیار اپنے شیخ کے سامنے بے بس کرکے اور اپنی تمام خواہشات کو اپنے شیخ کے حکم کے تابع کرکے اپنے نفس کی غلامی سے نکل کر اللہ پاک کی غلامی میں جانا ہوتا ہے- یہ اصلاح ظاہر وباطن کا سب سے افضل طریقہ ہے- اس کا مقصد اپنے اندر بندگی کا پیدا کرنا ہے- اللہ پاک کی رضا حاصل کرنا ہے ....الخ

 زندگی آمد برائے بندگی
          زندگی بے بندگی شرمندگی

📚طریق السّالکین ص۸-۹📚
✍پیر طریقت حضرت شیخ صادق بھیّات صاحب مدظلہ العالی بولٹن 

تصوف اور مستشرقین قسط2

٢/٦
تصوف    اور   مستشرقین
╮•┅══ـ❁🏕❁ـ══┅•╭

 مستشرقین یورپ نے جن میں اکثریت یہودی اور درپردہ صہیونیت کے علم برداروں کی ہے ”تصوّف“ پر جو ”احسانِ اسلامی“ کا مظہر اور اس کی شبیہ ثانی ہے- جو نظر عنایت کی ہے اور اس کے خصوصی مطالعہ اور تحقیق و جستجو کے نام پر اس کی اقدار ونظریات کو سبوتاژ (Sabutage) کرنے کے لیے انھوں نے جس قدر محنت اور لگاتار کوششیں کی ہیں، ان کا اندازہ لگانے کے لیے ہم سطور ذیل میں ان کی تصوف کے موضوع پر تصنیف وتالیف اور تصوف کی قدیم امہات کتب کی یورپ کی سرزمین سے توزیع واشاعت کی بھرپور جدوجہد کا ایک مختصر سا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے- ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ انھوں نے محض ”اسلام کی خدمت“ کے جذبہ سے تو کیا نہیں ہے، اور نہ وہ حالت کفر میں رہتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے لیے کبھی مخلص ثابت ہوسکتے ہیں- ان کی ان تمام مساعی اور تگ وتاز کا واحد مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اس طرح تصوف کے افکار ونظریات اور اسلامی معتقدات میں دراندازی اور ان کتب تصوف میں تدسیس کے ذریعہ اپنے اسلام دشمنی کے مشن کو پورا کرسکیں- تصوف کی نایاب یا کم یاب امہات کتب کے مسودوں کو تلاش کرکے اور زرکثیر صرف کرنے کے بعد ان کی اشاعت اور ان کے مندرجات کی تشہیر وتوضیح کی کوششیں مغرب کے ان مادہ پرست دشمنانِ اسلام کی کس ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں، اس کا جائزہ لینے کے لیے ہم سطور ذیل میں ان کتابوں کی ایک مختصر سی فہرست درج کر رہے ہیں جو ان یورپین مستشرقین کی یا تو اپنی تالیفات ہیں، یا پھر انھوں نے تصوف کی قدیم امہات کتب میں سے کچھ مخصوص کتابوں کو خود Edit کرکے یورپ کے مختلف ملکوں سے شائع کیا ہے- ان میں سے کچھ کتابیں انگریزی زبان (English) میں ہیں- جو موجودہ دور میں ”بین الاقوامی زبان“ کا درجہ رکھتی ہے- اور کچھ کتابیں جرمن زبان (German Language) میں اور کچھ کتابیں فرانسیسی زبان (Franch Language) میں شائع کی گئی ہیں...

(جاری ہے)

(ماہنامہ دارالعلوم، شمارہ ۱۱ ج۹۷)
✍ڈاکٹر ابو عدنان سہیل صاحب


تصوف اور مستشرقین قسط1

١/٦
تصوف    اور   مستشرقین
╮•┅══ـ❁🏕❁ـ══┅•╭

تحریک مستشرقین (Orientalism) کا آغاز اس دور میں ہوا تھا؛ جب کہ تیرہویں صدی عیسوی میں عیسائی دنیا، اسلام کے خلاف برپا کی گئی اپنی صلیبی جنگوں میں پے درپے ناکام ہونے لگی تو اس کے مفکرین اور اس دور کے نظریہ سازوں کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ موجودہ حالات میں طاقت و قوت اور تشدد و جارحیت کے ذریعہ اسلام کو مذہبی اور سیاسی اقتدار سے بے دخل کیا جانا ممکن نہیں ہے؛ چنانچہ اس مرحلہ پر غور و فکر کے بعد انھوں نے یہ لائحہ عمل طے کیا کہ سرِدست اپنی جارحانہ مہم اور جنگ جو پالیسی کو ختم یا کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کرکے علم و تحقیق کے عنوان سے اسلام کو نشانۂ افکار باطلہ بنانا چاہیے اور تلوار کے بجائے قلم کے ذریعہ اسلام کی بیخ کنی کی جائے-

چنانچہ اس مقصد سے دشمنانِ اسلام مغربی مفکرین نے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اپنی فطری عیاری سے کام لیتے ہوئے یہودی ربّی اور عیسائی مبلغین (Missionary) کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اسلامیات کے منفی مطالعہ کے لیے یورپ میں تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں اور ان میں ”ریسرچ اسکالرس“ کے نام سے ذہین عیسائی عالم اور یہود ربی کارکن متعین کیے جائیں جو اسلام کے بنیادی سرچشموں یعنی قرآن واحادیث نبوی اور دیگر اسلامی لٹریچر کے معروضی مطالعہ کے بعد تعلیماتِ اسلامی کے خدوخال مسخ کرکے دنیاکے سامنے ”تحقیق“ (Research) کے نام سے مقالات اور کتابوں کی صورت میں پیش کریں اور ان میں اسے خود ساختہ ”شواہد“ مہیّا کریں جن سے یہودیت کی برتری اور دین مسیح کی حقانیت اور ترجیح خود بخود ثابت ہوجائے اور جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں میں اپنے دین کی نسبت سے احساسِ کمتری (Inferiority Complex) اور اپنے مسلمان ہونے پر شرمندگی کا جذبہ پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ مسیحیت کا تفوّق اور یہودی افکار ونظریات کی برتری کا تصور ان کے ذہنوں پر حاوی ہوجائے۔ پروفیسر آرنلڈ کی کتاب ”پریچنگ آف اسلام“ اس کی زندہ مثال اور واضح ثبوت ہے...!

مدت دراز سے یہ مستشرقین یورپ (Orientalists) قرآن واحادیث، سیرت نبوی، فقہ اسلامی اور اخلاق وتصوّف یا ”احسان اسلامی“ کا مطالعہ اسی مقصد سے کرتے رہے ہیں کہ ان میں خامیاں نکالی جائیں اور پھر انھیں اپنے سازشی مقصود کے مطابق اسلام کو سبوتاژ کرنے اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے- ان کا طریقۂ کار یہ ہے کہ پہلے وہ اسلام کے خلاف ایک باطل نظریۂ فکر اور شرانگیز بات اپنے ذہن میں طے کر لیتے ہیں اور پھر اس کے اثبات کے لیے تاریخ، حدیث، سیرتِ نبوی، فقہ اور اسلامی لٹریچر میں سے ہر طرح کی غیرمستند اور رطب و یابس باتیں اکٹھی کر لیتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ افسانہ طرازی کرنے اور جھوٹ کا طومار باندھنے سے بھی نہیں شرماتے؛ غرض جہاں کہیں بھی ان کی مقصد براری ہوتی ہو، خواہ علمی اصول کی رُو سے یا صحت واستناد کے اعتبار سے وہ بات کتنی ہی مشکوک و بے تکی کیوں نہ ہو وہ اس کو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اور پوری جسارت سے ”سائنٹفک“ بتا کر بڑی آب وتاب اور کرّوفر کے ساتھ پیش کرتے ہیں- چنانچہ قرآن وحدیث، فن تفسیر، فقہ، کلام، سیرت صحابہ، تابعین کرام، ائمہ مجتہدین، اکابر محدثین، فقہاء امت، قضاة، رواة حدیث، اسماء الرجال، فن جرح و تعدیل، جمع قرآن، تدوین حدیث، حجیت حدیث اور مشائخ سلوک و تصوف وغیرہ غرض ہر موضوع پر ان مستشرقین کی تصانیف اور نام نہاد تحقیقاتی مقالوں میں اس قدر مواد پایا جاتا ہے جو کہ ایک ذہین اور حساس تعلیم یافتہ انسان کو جو ان موضوعات پر وسیع اور گہری نظر نہ رکھتا ہو، اسلام کے بارے میں اس کے ذہن میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور سلف صالحین و علماء راسخین کی شخصیتوں کو مجروح کردینے اور ان پر سے اعتماد ختم کردینے کے لیے کافی ہے- سطحی علم رکھنے والا اور کچے ذہن کے لوگ ان کے خیالات سے بآسانی مرعوب ہوجاتے ہیں، خصوصاً جدید تعلیم کے مراکز جیسے یونیورسٹی، کالج اور اسکول میں پڑھنے والے طالب علم یا مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے ان ”مستشرقین“ کے دام فریب میں بہت جلد پھنس جاتے ہیں...

(جاری ہے)

📚ماہنامہ دارالعلوم، شمارہ ۱۱ ج۹۷📚
✍ڈاکٹر ابو عدنان سہیل صاحب

✍صوفی ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ تعالیٰ شاگردِ رشید شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ

ہم اصحابِ اشارہ ہیں اصحابِ عبارہ نہیں
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

✍صوفی ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ تعالیٰ 

شاگردِ رشید شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ 

تصوف کیا ہے قسط 11 سوال 71-63

قسط: ١١

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٦٣) سوال:
مجاہدہ کیسے کیا جاتا ہے؟

جواب:
مجاہدہ میں مندرجہ ذیل چار چیزوں پر کنٹرول کیا جاتا ہے:
١- کھانا پینا
٢- سونا
٣- بولنا
٤- ناجنس (جن لوگوں سے ملنے جلنے سے دل کا نقصان ہوتا ہو) سے ملنا جلنا

ان میں کمی بیشی سالک کی حالت اور قوت کے مطابق کی جاتی ہے۔ تاہم آج کل قوت کی کمی کی وجہ سے یہ دونوں مجاہدات یعنی کم سونا اور کم کھانا تقریباً متروک ہوچکے ہیں۔ البتہ بعض لوگوں کے لیے اس کو برقرار بھی رکھا جاسکتا ہے۔ یہ اصل میں شیخ کی تشخیص اور صوابدید پر منحصر ہے۔ البتہ یہ جو دو باقی مجاہدات ہیں یعنی کم بولنا اور ناجنس سے کم ملنا جلنا یہ برقرار ہیں بلکہ آج کل ان کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے۔

(٦٤) سوال:
کم کھانے اور کم سونے کا مجاہدہ متروک ہوچکا ہے؟ کیا مطلب؟

جواب:
پہلے یہ دو مجاہدے کافی کرائے جاتے ہیں اب اس پر باوجوہ زور نہیں دیا جاتا لیکن اس میں تفصیل ہے۔ اگر کسی کے کھانے کی طلب اتنی ہو کہ وہ اس کی صحت کے لئے نقصان دہ ہو یا شریعت کے حکم کو تڑوا سکتی ہو تو اس کے لئے متروک نہیں ہے بلکہ لازم ہے تاہم اس کے لئے یہی مجاہدہ کافی ہوگا کہ وہ اس کو اعتدال پر لے آئے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوں میں ایک مرید کی شکایت کی گئی کہ یہ زیادہ کھانا کھاتا ہے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے پوچھا تو جواب دیاکہ حضرت میں گھر میں چار روٹیاں کھاتا ہوں لیکن خانقاہ میں دو پر گزارہ کرتا ہوں۔

حضرت نے فرمایا کہ پھر تو ٹھیک کرتے ہو۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ ہماری جسم کی ضرورت تو بہت کم کھانے سے بھی پوری ہوجاتی ہے باقی تو ہم مستی کرتے ہیں۔ بس اس مستی سے نکلنے والا مجاہدہ باقی ہے۔ اس طرح ہم ضرورت سے زیادہ سونے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس کو ضرورت تک سونے کو محدود کرنا مجاہدہ ہوگا۔ اعتدال پر لانے کے لئے اگر تربیتی مجاہدے کی ضرورت ہو تو کم کھانے کا مجاہدہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ ایک ہفتہ کھایا جائے اور ایک ہفتہ مجاہدہ کیا جائے۔ یہ صوم داؤدی کے مشابہ ہے اور انتہائی مفید ہے کیونکہ اس میں مجاہدہ بڑھ جاتا ہے لیکن کمزوری نہیں ہوتی تو مجاہدے کا فائدہ تو حاصل ہوجاتا ہے لیکن نقصان سے بچ جاتا ہے۔

(٦٥) سوال:
یہ کم بولنے کا مجاہدہ سمجھ میں نہیں آیا؟ نہ بولنے میں کیا مشکل ہے؟

جواب:
کمال ہے! آپ دیکھتے نہیں یہ جھوٹ بولنا اور غیبت کرنا آخر کیوں ہوتا ہے؟ اگر آدمی بغیر شرعی ضرورت کے نہ بولے تو پھر جھوٹ اور غیبت کا وجود ہی ختم ہوجائے لیکن یہی بولنے کی جو خواہش ہے بعض دفعہ گناہ پر مائل کردیتی ہے اس لیے اس مجاہدے کی ضرورت ہے۔ جن کو بولنے کی خواہش ہو ان کے لیے یہی مجاہدہ سب سے مشکل ہوتا ہے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ شعراء اپنی شاعری سنانے کے لیے کتنے جتن کرتے ہیں؟ آخر وہ بھی تو یہی بولنے کا شوق ہے نا...!

(٦٦) سوال:
کیا مجاہدات صرف یہی ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا ہے یا ان کے علاوہ اور بھی ہیں؟

جواب:
اوپر جن مجاہدات کا ذکر ہے وہ اختیاری ہیں البتہ غیر اختیاری یا اضطراری مجاہدہ بھی ہوتا ہے اور یہ فائدہ میں اختیاری مجاہدہ سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ کیونکہ اختیاری مجاہدہ انسان کی تجویز سے ہوتا ہے اور غیر اختیاری مجاہدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو خود انسان سے زیادہ جانتا ہے اس لیے اس میں فائدہ زیادہ ہے۔

(٦٧) سوال:
اگر غیر اختیاری مجاہدہ زیادہ مفید ہے تو کیا اس کے لیے دعا بھی کی جاسکتی ہے؟

جواب:
نہیں! اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرنی چاہیئے۔ اسی میں عاجزی ہے اور عاجزی اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے۔

(٦٨) سوال:
اگر کسی صاحب پر غیر اختیاری مجاہدہ آجائے تو اس وقت وہ کیا کرے؟

جواب:
اگر اللہ تعالیٰ خود کسی پر غیر اختیاری مجاہدہ بھیج دیں تو اس کو پھر صبر کرنا چاہیئے۔ اگر وہ تکلیف قابل دفع ہو تو اس کو دفع کرنے کی جائز کوشش کی جائے اور اس کے لیے دل سے دعا کی جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے۔ البتہ زبان سے کوئی حرف شکایت ادا نہ ہو ”اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡن“ کی تلاوت اس وقت کی دعا ہے اور اگر وہ مصیبت قابل دفع نہ ہو تو اس پر صبر کرنا ہی اس وقت کا تقاضا ہے۔ اس وقت استقامت کی دعا کرنی چاہیئے اور مندرجہ بالا دعا اس وقت کی بھی دعا ہے۔

(٦٩) سوال:
اختیاری مجاہدہ اور رہبانیت میں کیا فرق ہے؟

جواب:
اختیاری مجاہدہ کو دین نہیں سمجھا جاتا ہے صرف بضرورت کیا جاتا ہے جب ضرورت نہ رہے ترک کردیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں رہبانیت میں اپنے آپ کو ایذا دینا دین سمجھا جاتا ہے۔ یہ اسلام میں نہیں ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٢٧ تا ٢٩ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  

https://t.me/tasawwufkiahy

تصوف کیا ہے قسط 10 سوال 62-58

قسط: ١٠

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٥٧) سوال:
آج کل کے دور میں مال کی محبت کو کم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب:
کم از کم یہ طریقہ ہے کہ جن کو مال کی محبت ہے ان کی صحبت سے دور رہے متوکلین کی صحبت اور موت کی یاد اس میں زیادہ تر معاون ہوسکتی ہے نیز دنیاداروں کی صحبت سے حتی الوسع اجتناب کرنا چاہیئے، رفاہی کاموں میں مخلصین کے مشورے سے ریا سے بچتے ہوئے حصہ لینا بھی مفید ہے۔ ایسے لوگوں کے واقعات زیادہ پڑھیں جو مال کی محبت سے بچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال کو خرچ کرتے ہیں اور مال کی محبت سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور پھر سلوک سب سے بڑا راستہ ہے جب یہ طے ہوجاتا ہے اور انسان کا دل اللہ کے ساتھ لگ جاتا ہے تو مال کی محبت دور ہوجاتی ہے۔

(٥٨) سوال:
آجکل کے دور میں گھر، گاڑی اور دوسری چیزوں کی محبت کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
ضرورت کے درجہ میں ان کا حصول ممنوع نہیں ہے، ضرورت سے زیادہ ہو تو اس بات کو سوچا کرے کہ کتنے لوگ ہیں کہ ان کی ضروریات بھی پورے نہیں ہیں بجائے اس کے میں اپنے آپ کو غیر ضروری چیزوں میں پھنساؤں مجھے لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہیئے تاکہ ﷲ تعالیٰ مجھ سے راضی ہوجائے اور یہ بھی سوچے کہ دنیا ارمان پورے کرنے کے لئے نہیں ہے، اعمال پورے کرنے کے لئے ہے، ہمارے ارمان تو جنت میں پورے ہوں گے ان شاء ﷲ یہاں تو گزارہ کرنا ہے اس لئے یہ سوچے کہ جو چیزیں میں یہاں چاہتا ہوں اور وہ مجھے میسر نہیں ان کی وہاں حصول کے لئے جو میرے پاس یہاں میسر ہیں یعنی اعمال کرنے کی صلاحیتیں ان کو بروئے کار لاکر ان نعمتوں کو وہاں حاصل کرنے کی کوشش کروں۔

(٥٩) سوال:
کیا مجاہدات میں ان خواہشات کی تکمیل سے بالکل روکاجاتا ہے؟

جواب:
نہیں! ضرورت کے درجے میں اجازت دی جاتی ہے اور ضرورت ہر ایک کی مختلف ہوتی ہے جس کی اصلاح نہیں ہوئی اس کو تو بعض اوقات جائز خواہشات کی تکمیل سے بھی روکا جاسکتا ہے۔

(٦٠) سوال:
جائز خواہشات کی تکمیل سے کیوں؟ کیا یہ شریعت میں مداخلت نہیں؟

جواب:
ہر گز نہیں! یہ اصلاح کے لیے ایک عارضی عمل ہے جیسا کہ فوج کی تربیت میں بعض دفعہ فوجیوں کو عام کھانا بھی نہیں دیا جاتا یا ناکافی دیا جاتا ہے یا معیاری نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ آرمی کے پاس کھانے کو کیا نہیں ہوتا؟ بلکہ یہ اس لیے کہ جنگ میں اگر ناخوشگوار حالات پیش آئیں تو اس کے لیے یہ تیار ہوجائیں۔ شریعت میں بھی اس کی نظیر موجود ہے روزہ میں جائز کھانا پینا اور نفسانی خواہش کی تکمیل ایک معین وقت کے لیے روکی جاتی ہے تاکہ اس سے تقویٰ حاصل ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سب اسی لیے کرایا جاتا ہے کہ شریعت پر عمل کرنا آسان ہوجائے۔ دوسری تشریح اس کی یوں ہے کہ جیسے ایک کاغذ کو لپیٹا جائے اب اس کو سیدھا رکھنے کی کوشش کی جائے گی تو ناکامی ہوگی۔ اس کے لیے کاغذ کو دوسری سمت میں لپیٹنا پڑتا ہے جس سے کاغذ بالکل سیدھا ہوسکتا ہے۔ اسی طرح جو نفسانی خواہشات میں پوری طرح گھرا ہوا ہو، عارضی طور پر اسے جائز خواہشات کی تکمیل سے بھی بغرض علاج روکا جاتا ہے۔

(٦١) سوال:
اس مجاہدہ کو پھر کب ساقط کیا جاتا ہے؟

جواب:
جب اصلاح ہوجائے تو پھر صرف ناجائز سے روکا جاتا ہے جائز خواہشات کی تکمیل پر کوئی پابندی نہیں رہتی جیسے افطار کے وقت ہوتا ہے۔

(٦٢) سوال:
آجکل کے دور میں مجاہدے کی ضرورت کس حد تک ہے؟

جواب:
ہر دور میں اس حد تک مجاہدے کی ضرورت رہتی ہے کہ نفس کی خواہش شریعت کے حکم پر غالب نہ آسکے کیونکہ مجاہدے سے نفس کا شریعت سے بغاوت کو توڑنا ہوتا ہے۔بغیر مجاہدے کے نفس کی اصلاح نہیں ہوسکتی دل کی اصلاح البتہ ذکر کے ذریعے ہوسکتی ہے لیکن ذکر سے نفس کی اصلاح نہیں ہوتی۔ تو نفس کی اصلاح کے لئے تو مجاہدے کی ضرورت ہے اور آج کل نفس ہی زیادہ بے لگام ہے اس وجہ سے مجاہدے کی ضرورت ہے دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آجکل مجاہدے کے لئے مشکل سے آمادہ ہوتا ہے۔ اس لئے مجاہدے پر زور مسلسل کم ہورہا ہے نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ میرے پاس ایک سالک آئے اور کہا کہ میں نْقشبندیہ سلوک سارا طے کرچکا ہوں لیکن رمضان میں کیبل سے جان نہیں چھوٹی اور رو پڑا میں نے کہا کہ تو نے ذکر کا سلوک تو طے کیا ہے مجاہدہ کا نہیں کیا اسلئے تیرا دل تو صالح ہے تبھی تو اپنی کیفیت پر روتے ہو لیکن نفس کی چمک ابھی نہیں گئی اس لئے اس کے سامنے بے بس ہو اس سے معلوم ہوا کہ مجاہدے کی ضرورت آج بھی ہے لیکن اس کی کیفیت آج کل کے حالات کے مناسب ہونا چاہیئے۔ اس طرح ہر ایک کا مجاہدہ ایک جیسا ہوتا بھی نہیں ہے مثلاً ایک آدمی ہے جو کبھی بھی بازار سے سودا سلف نہیں لایا۔ اس کے لئے یہی مجاہدہ ہے کہ آپ اس کو بازار بھیج دیں کہ آپ سودا لے آئیں یہ اس کے لئے بہت بڑا مجاہدہ ہوگا اور کسی کو آپ کہہ دیں کہ آپ باہر آجائیں اور گیٹ پر کھڑے رہیں اور جو جو باہر آتا رہے اس کو سلام کریں اور اس کو رخصت کریں یہ بھی بعض کے لئے مجاہدہ ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٢٤ تا ٢٧ 

تصوف کیا ہے قسط 9 56-48سوال

قسط: ٩

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٤٩) سوال:
کیا سلوک کی قسمیں بھی ہوتی ہیں؟

جواب:
جی ہاں! دو ہیں۔
سلوک ولایت اور سلوک نبوت۔

(٥٠) سوال:
نبوت تو ختم ہوچکی ہے۔ سلوک نبوت سے پھر کیا مراد ہے؟

جواب:
جی ہاں!
نبوت ختم ہوچکی ہے لیکن اس کا ذوق بعض کو حاصل ہوسکتا ہے۔ جن کا یہ ذوق ہو وہ سلوک نبوت پر چلتے ہیں۔ سلوک ولایت پر نہیں چل سکتے۔

(٥١) سوال:
ان میں فرق کیا ہے؟

جواب:
سلوک ولایت والے پہلے فناء فی الشیخ ہوتے ہیں پھر فناء فی الرسول اور پھر فناء فی اللہ۔ یہ اپنے شیخ پر فریفتہ ہوتے ہیں۔ خلق سے طبعاً دور بھاگتے ہیں۔ لذات سے مجتنب رہتے ہیں۔ اپنے مکاشفات اور تحقیقات پر اطمینان ہوتا ہے اور ان کو حب طبعی حاصل ہوتا ہے۔ مقام توکل میں اسباب ظاہری کو ترک کردیتے ہیں حتیٰ کے بعض اوقات غلبہ حال کی وجہ سے دعا بھی انہماک سے نہیں مانگتے۔ حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی طرف طبعی رحجان ہوتا ہے اور غلبہ حال میں کبھی کبھی شرع کو چھوڑ بھی دیتے ہیں جس میں یہ معذور مگر ناقابل تقلید ہوتے ہیں یہ فناءالفناء اور رضاء کو سب سے اعلیٰ مقام سمجھتے ہیں۔ جبکہ سلوک نبوت والے”لا الہ الا ﷲ محمد الرسول ﷲ“ کی عملی تفسیر ہوتے ہیں۔ اللہ کی محبت کو فقط طریقۂ رسول ﷺ میں ڈھونڈتے ہیں۔ اپنے شیخ کی فضیلت کا دعویٰ نہیں کرتے لیکن اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ ان پر حب عقلی غالب ہوتی ہے اور شریعت کی اتباع میں عقل سے خوب کام لیتے ہیں۔ شریعت پر بڑی پختگی سے عمل کرتے ہیں۔ لذات کو ٹھکراتے نہیں بلکہ شریعت کے دائرے میں استعمال کرکے اس پر شکر ادا کرتے ہیں۔ شیخین کی طرف ان کا طبعی رحجان زیادہ ہوتا ہے۔ خدا کا حکم سمجھ کر دعا میں الحاح کرتے ہیں لیکن اللہ کے فیصلے پر دل سے راضی ہوتے ہیں۔ خلق خدا کو مستفید کرنے پر حریص ہوتے ہیں لیکن اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے۔ یہ سب سے اونچا مقام عبدیت محض (خالص بندگی) کو سمجھتے ہیں۔

(٥٣) سوال:
غلبہ حال میں شرع کو چھوڑ دینے سے معذور ہونے کی وضاحت کریں؟

جواب:
اچھا سوال ہے۔ بعض دفعہ کسی حال مثلاً محبت، خوف وغیرہ کا دل پر ایسا غلبہ ہوجاتا ہے کہ وقتی طور پر عقل کام نہیں کرتی۔ چونکہ انسان شریعت کا اس وقت مکلف ہوتا ہے جب عقل کام کرتی ہو اس لیے ایسی حالت میں ممکن ہے کہ وہ شریعت پر مکمل عمل نہ کرسکے۔ پس اگر وہ اس حالت میں کہ اس کی عقل کام کر رہی ہوتی اور شریعت پر عمل نہ کر رہا ہوتا تو گنہگار ہوتا لیکن اب چونکہ عارضی طور پر اس کی عقل جزوی طور پر کام نہیں کررہی ہے اس لیے اس وقت وہ گنہگار تو نہیں ہے لیکن قابل اقتداء بھی نہیں ہے۔

(٥٤) سوال:
تصوف کے ذرائع میں مجاہدہ کو بھی ایک ذریعہ بتایا جاتا ہے یہ مجاہدہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:
نفس جن خواہشات کی وجہ سے اعمال میں رکاوٹ بنتا ہے ان کے توڑ کے لیے ان کو ضرورت کے درجے تک لانے کے لیے مناسب وقت تک ان خواہشات کی تکمیل سے نفس کو اس حد تک روکنا کہ وہ اعمال کے کرنے میں رکاوٹ نہ بنے، مجاہدہ کہلاتا ہے۔ یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک مجاہدہ جسمانی کہ نفس کو مشقت کا عادی کیا جائے مثلاً تکثیر نوافل سے نماز کا عادی ہونا اور روزہ کی کثرت سے حرص طعام کو کم کرنا دوسری قسم ہے معصیت کے تقاضے کی مخالفت۔ اصل مجاہدہ یہی دوسرا ہے اور پہلا اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

(٥٥) سوال:
وہ کونسی خواہشات ہیں جن کے لیے نفس اعمال میں رکاوٹ بنتا ہے؟

جواب:
ویسے تو بہت سی ہیں لیکن علماء نے ان کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے:
١- حب جاہ: 
یعنی بڑا اور ممتاز ہونے کی خواہش۔
٢- حب باہ: 
یعنی لذات حاصل کرنے کی خواہش۔ 
٣- حب مال: 
یعنی بہت مالدار ہونے کی خواہش۔

(٥٦) سوال:
مال تو اس لیے جمع کیا جاتا ہے کہ آدمی بڑا بنے اور لذتوں کو حاصل کرے تو پھر حب مال کا الگ شعبہ کیوں بنا؟

جواب:
جی نہیں! ہر دفعہ ایسا نہیں ہوتا اس لیے بعض لوگ مال کو جمع کرنے کی کوشش میں اپنی عزت کو بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں مثلاً ڈوم وغیرہ اور بعض اوقات مال کے ساتھ اتنی محبت ہوجاتی ہے کہ اس کو اپنے آرام کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جاتا جیسے بنیئے کا یہ عمل کہ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٢٢ تا ٢٤ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  

https://t.me/tasawwufkiahy

تصوف کیا ہے قسط 8 سوال 48-42

قسط: ٨

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٤٢) سوال:
یہ اویسی سلسلہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:
اویسی سلسلہ تو کوئی نہیں ہوتا البتہ اویسی نسبت ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ کسی بزرگ کی روح سے براہ راست روحانی استفادہ کیا جائے۔ ایسا ممکن ہے لیکن یہ آگے کسی اور کو منتقل نہیں کی جاسکتی۔ ہاں اگر کسی کو کسی سلسلہ میں نسبت علیحدہ حاصل ہو تو وہ نسبت اویسی نسبت کی وجہ سے قوی ہوجاتی ہے۔ اس کی مثال حدیث اور خواب میں آپ ﷺ کی زیارت کا ہے۔ آپ ﷺ کی خواب میں زیارت تو ہوسکتی ہے لیکن اس سے اس صاحب خواب کو تو فائدہ ہوتا ہے لیکن اس خواب میں اگر اس نے آپ ﷺ سے کچھ سنا ہے تو اس کا حدیث شریف کا درجہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ متعدی نہیں ہے۔

(٤٣) سوال:
یہ سالک اور واصل کیا ہوتا ہے؟

جواب:
سلوک راستے کو کہتے ہیں لیکن اصطلاح میں سلوک سے مراد تصوف کا طریقہ ہے۔ سالک راستے پر چلنے والے کو کہتے ہیں لیکن یہاں اصطلاح میں سالک سے مراد راہِ طریقت پر قدم رکھنے والا ہے۔ واصل سے مراد سیر الی اللہ کو ختم کرنے والا ہوتا ہے۔

(٤٤) سوال:
یہ ایک اور نئی بات آگئی سیر الی اللہ کی۔ اس کے بارے میں بھی جاننا چاہتا ہوں۔

جواب:
جب رذائل یعنی روحانی بیماریوں سے قلب شفایاب ہوجائے اور ضروری فضائل سے قلب آراستہ ہوجائے تو اس سے سیر الی اللہ کا ختم ہونا مراد لیا جاتا ہے۔

(٤٥) سوال:
کیا اس کے بعد کام ختم ہوجاتا ہے؟

جواب:
نہیں! کام کہاں ختم ہوتا ہے بلکہ اس کے بعد تو کام شروع ہوتا ہے۔ جس طرح بیماری سے جب انسان شفایاب ہوجاتا ہے تو اس کے بعد کام کرنے کے قابل ہوجاتا ہے اور پھر وہ کام کرنا شروع کردیتا ہے۔ اسی طرح سیر الی اللہ ختم ہونے کے بعد اصل کام شروع ہوجاتا ہے یعنی اس وظیفے کا پورا کرنا جس کے لیے جن اور انسان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی عبادت اخلاص کے ساتھ۔ اس کو سیر فی اللہ کہتے ہیں جس کی کوئی حد نہیں ہوتی۔

(٤٦) سوال:
کیا مریداپنے شیخ سے درجات میں بڑھ سکتا ہے؟

جواب:
جی ہاں! سیر فی اللہ میں جو جتنا آگے بڑھے، اللہ کا فضل ہے اور بندے کی ہمت۔ آخر شیخ عبد القادر جیلانی (رحمۃ اللہ علیہ) اور حضرت مجدد الف ثانی (رحمۃ اللہ علیہ) بھی تو کسی کے مرید تھے۔

(٤٧) سوال:
تصوف میں جو مقاصد ہیں ان کو حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب:
دو قسم کے ذرائع ہیں جن سے کام لیا جاتا ہے: 
١- مجاہدہ کا استعمال کرنا
٢- فاعلہ کا استعمال کرنا 
ان میں بعض فاعلات ایسے ہیں کہ ان سے نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا اور بعض میں نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔

(٤٨) سوال:
فاعلہ کی بعض اقسام میں اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو پھر یہ طریقہ اختیار ہی کیوں کیاجائے؟ بالفاظ دیگر یہ خطرہ مول ہی کیوں لیا جائے؟

جواب:
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ تصوف طب کی طرح ہے پس جس طرح طب میں پہلے علاج کے بے خطر طریقے اختیار کئے جاتے ہیں اگر ان سے کام ہوجائے تو بات ختم، نہیں تو بعض اوقات علاج کی خطرناک صورتوں کو بھی اختیار کرنا پڑتا ہے لیکن؛ اس صورت میں ڈاکٹر کمال ہوشیاری سے اس خطرے کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسے 'Steroids' سٹیرائڈز کا استعمال۔ اسی طرح سلوک میں بھی سالک کی حالت ایسی ہو کہ اس کے لیے ایسے طریقوں کی ضرورت پڑے جن میں نقصان کا اندیشہ ہو تو ان کو احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٢٠ تا ٢٢ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط قسط 7 سوال 41-36

قسط: ٧

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٣٦) سوال:
کیا شیخ کا اسی طرح ادب کرنا چاہیئے جیسے صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) آپ ﷺ کا کیا کرتے تھے؟

جواب:
ہم ﷲ تعالیٰ کا تعلق چاہتے ہیں جو سنت نبوی ﷺ کے بغیر ممکن نہیں۔ عِلماً سنت ہمیں علماء کرام سے حاصل ہوسکتا ہے لیکن عَملاً مشائخ سے حاصل ہوتا ہے بالخصوص اپنے شیخ سے۔ پس شیخ سنتِ رسول حاصل کرنے کا وسیلہ ہوا اور سنت رسول، ﷲ تعالیٰ کے تعلق کا۔ اس طرح بالواسطہ شیخ ﷲ تعالیٰ کے تعلق کا وسیلہ ہوا۔ پس جو ادب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کا اس مقصد کے لئے کیا تو چونکہ ہمارے سامنے اپنا شیخ ہی ہے، ہم صحابہ کی اتباع میں اسی طرح اس وسیلے کا ادب کریں گے ۔فرق صرف یہ ہے صحابہ پیغمبر کا ادب کرتے تھے جن سے اختلاف کفر تھا جبکہ شیخ پیغمبر نہیں ہے اس لئے ان سے علمی اختلاف کفر نہیں اور اگر اجتہادی طور پر حق پر ہو تو گناہ بھی نہیں تاہم تربیت چونکہ اسی وسیلے کے ذریعے ہورہی ہے اس لئے اس میں شیخ سے اختلاف محرومی اور سلوک کے اعلیٰ موانع میں سے ہے۔ اختلاف جیسے منفی طور پر سب سے اعلیٰ مانع ہے اسی طرح ادب مثبت طور پر تعلق مع ﷲ کا بڑا ذریعہ ہے خوب سمجھنا چاہیئے۔ بلکہ آپ ﷺ کے مقام کے پہچاننے کا یہ سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ جو لوگ ان سلاسل میں نہیں آئے ہوتے وہ آپ ﷺ کا مقام نہیں پہچان سکتے۔ آپ ﷺ کا مقام وہی پہچانتے ہیں جو کسی سلسلے میں بیعت ہوچکے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنا تعلق اور محبت شیخ کے ساتھ دیکھا ہوتا ہے۔ تو پھر وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس تعلق اور اس محبت کو محسوس کرسکتے ہیں۔ ان کو پھر پتہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کیسے شیدائی ہوتے تھے۔ جتنا جتنا تعلق کسی کا شیخ کے ساتھ بڑھ رہا ہوتا ہے، اتنا اتنا ان کو صحابہ کی پہچان ہوتی جائے گی۔ تو یہ گویا اتباع صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جس کا حکم ہے۔ اس کے لئے زینہ ہے۔

(٣٧) سوال:
شیخ کے کام اور شیخ کی صحبت میں کس چیز کو ترجیح دینی چاہیئے؟

جواب:
شیخ کی صحبت زیادہ پیاری ہونی چاہیئے اور شیخ کے کام کو اس پر ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ الامر فوق الادب۔

(٣٨) سوال:
یہاں مستند سلسلے کا ذکر آیا ہے یہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:
یہ آپ ﷺ کے وقت سے صحبت کے سلسلے ہیں جیسا کہ حدیث کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔ پس جو آپ ﷺ سے تربیت حاصل کرچکا۔ پھر اس سے جو تربیت حاصل کرچکا اور اس طرح ہوتے ہوتے موجودہ دور تک بات آجائے تو اس کو سلسلہ کہتے ہیں۔

(٣٩) سوال:
آپ فرما رہے تھے کہ سارے سلسلے حضور ﷺ کی طرف سے آئے ہیں تو پھر تو سب کا سلسلہ ایک ہونا چاہیئے ان سلسلوں میں فرق کیوں ہے؟

جواب:
جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تصوف فقہ الباطن ہے تو جیسا کہ فقہ الظاہر میں ہے کہ گو سب سلسلے آپ ﷺ سے شروع ہوئے ہیں لیکن جن جن اکابرین نے ان فقہوں کی تدوین کی ان کے نام سے ان کی فقہ چلی۔ مثلاً فقہ حنفی، فقہ شافعی وغیرہ۔ اسی طرح فقہ الباطن میں بھی جو جو اپنے اپنے سلسلوں کی تدوین میں نمایاں ثابت ہوئے ان کے نام سے ان کے سلسلے موسوم ہوئے مثلاً چشتیہ، نقشبندیہ، قادریہ اور سہروردیہ وغیرہ۔

(٤٠) سوال:
ان کے اندر فرق کیا ہے؟

جواب:
ان میں اصل فرق اصلاح کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع میں ہے۔ طب میں اس کی مثال حکمت، ایلوپیتھی، ہومیو پیتھی وغیرہ ہے یعنی جس طرح علاج کے ان مختلف طریقوں سے ایک ہی چیز یعنی صحت مطلوب ہے لیکن اس صحت کو حاصل کرنے کے طریقوں میں پھر فرق ہوتا ہے۔ ہر ایک کے اپنے ذرائع اور اپنے اصول ہیں اسی طرح ان سلسلوں میں مطلوب تو ایک ہی ہے یعنی روحانی صحت لیکن ان کے لیے ذرائع میں ہر ایک کی اپنی تفصیل ہے اور بعض اصولوں میں بھی اختلاف ہوسکتا ہے۔

(٤١) سوال:
اصولوں میں؟ مثلاً کیا اختلاف ہوسکتا ہے؟

جواب:
ایک اصول مثلاً یہ ہے کہ جب روشنی آجاتی ہے تو ظلمت بھاگ جاتی ہے اس لیے اگر اچھی چیزیں سالک میں آئیں گی تو ان کے متضاد یعنی بری چیزیں ختم ہوجائیں گی۔ یہ اصول تو نقشبندیہ کا ہے اس لیے یہ حضرات پہلے سے ہی ذکر پر لگا دیتے ہیں کہ اس کے نور سے رذائل ختم ہوجائیں دوسرا اصول یہ ہے کہ برتن اگر میلا ہو تو اس میں دودھ بھی ڈالا جائے گا تو وہ خراب ہوجائے گا۔ یہ اصول چشتیہ کا ہے کہ وہ پہلے مجاہدات کے ذریعے تکبر کو زائل کرا دیتے ہیں۔ آخر میں جب تکبر ختم ہوجاتا ہے تو تھوڑی سی توجہ اور ذکر سے بھی سالک واصل ہوجاتا ہے۔ دونوں اصول بڑے کام کے ہیں بات صرف مناسبت کی ہے جس کو جس طریقے سے مناسبت ہو اس کو اسی طریقے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٨ تا ٢٠ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط 6 سوال 35-29

قسط: ٦

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٢٩) سوال:
صحیح پیر کون ہوسکتا ہے اس میں ذرا رہنمائی فرمایئے؟

جواب:
ماشاء اللہ یہ طلب کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے صحیح بات کرنے کی توفیق دے۔ اس سے پہلے آپ تھوڑی سی ہمت کرلیں اور بتائیں کہ آپ کسی ڈاکٹر کا انتخاب کیسے کرتے ہیں؟

(٣٠) سوال:
ہم ڈاکٹر کا انتخاب اس طرح کرتے ہیں کہ دیکھتے ہیں کہ وہ مستند ہے یا نہیں یعنی اس نے کسی میڈیکل کالج سے پڑھا ہے یا نہیں اور اگر پڑھا ہے تو اس کے پاس ڈگری ہے یا نہیں۔ کیا پیر کے انتخاب کے لیے اتنی بات کافی ہے؟

جواب:
نہیں۔ اس کے علاوہ یہاں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ میں اور اس میں مناسبت بھی ہے یا نہیں؟ ورنہ فائدہ نہیں ہوگا۔

(٣١) سوال:
یہ مناسبت کیا ہوتی ہے؟ نیز پیر کے مستند ہونے کا کیا مطلب ہے؟

جواب:
مناسبت سے مراد یہ ہے کہ اس کی مجلس سے، مکاتبت سے، اس کی کتابوں سے آپ کو فائدہ ہونا محسوس ہوتا ہو اور اس کے بارے میں اگر آپ کو وسوسہ آئے تو اس وسوسے کو پالنے کی بجائے آپ اس سے چھٹکارہ پانا چاہتے ہوں۔ جبکہ پیر کے مستند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی مستند سلسلے میں بیعت ہوچکا ہو اور وہاں سے اس کو اجازت یعنی خلافت مل چکی ہو۔

(٣٢) سوال:
اگر کوئی بیعت نہ ہوا ہو اور اس کی اصلاح کسی طرح ہوجائے تو کیا اس کو خلافت مل سکتی ہے؟

جواب:
ماشاء ﷲ بہت اچھا سوال ہے۔ اگر کسی کی اصلاح ہوچکی ہو تو اس کو خلافت دی جاسکتی ہے۔ یہ خلافت اس بات کی ان شاء ﷲ علامت ہوگی کہ اب یہ شخص فتنہ نہیں بنے گا اس لیے جس دینی کام کو مثلاً تدریس، دینی سیاست، تبلیغ وغیرہ کو کرے گا تو سلیم القلبی کے باعث اس کو صحیح نیت سے ان شاء ﷲ کرے گا لیکن؛ اس دینی کام کے مسائل اور فنون کو جاننا اس کے ذمّے الگ ہوگا۔ اس لیے اس کو اس پر علیحدہ محنت کرنی چاہیئے۔ ان کاموں میں سے ایک کام دوسروں کا تزکیہ بھی ہے اور چونکہ تزکیہ بھی ایک فن ہے اس لیے اگر تزکیہ کے میدان میں وہ کام کرنا چاہتا ہو تو اس کو کسی مستند ماہر فن سے اس فن کو حاصل کرنا چاہیئے بصورت دیگر درست نیت کے باوجود غلطی کا امکان باقی رہے گا۔

(٣٣) سوال:
کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ بیعت کسی ایک شیخ سے ہو اور اس کو خلافت کسی اور جگہ سے مل جائے؟

جواب:
جی ہاں! خلافت نسبت کے حصول کی علامت ہوتی ہے۔ پس کسی بھی شیخ سے تربیت پانے کے بعد اگر کسی اور شیخ کی نظر میں اس کو نسبت حاصل ہوچکی ہو تو اس کا اظہار خلافت کی صورت میں وہ کرسکتا ہے تاہم ایک چیز کا خیال رکھنا بہتر ہے کہ اگر دوسرے شیخ کی پہلے شیخ کے ساتھ واقفیت اور مناسبت نہ ہو تو ایسا کرنا پیچیدہ صورت حال کا باعث بن سکتا ہے تو ایسی صورت میں اس سے اعراض مناسب ہے۔ اگر ممکن ہو تو دوسرا شیخ اپنے خیال کی اطلاع اس کے پہلے شیخ کو کرسکتا ہے باقی فیصلہ اس پر چھوڑ دیا جائے۔ یہ بات تجربے سے عرض کی ہے، دوسروں کا اس سے اختلاف ممکن ہے۔

(٣٤) سوال:
کیا یہ ممکن ہے کہ بیعت ایک شیخ سے ہو اور تربیت کوئی اور کرے؟

جواب:
جی ہاں! ایسا ممکن ہے۔ حضرت سید احمد شہید (رحمۃ اللہ علیہ) حضرت شاہ عبد العزیز (رحمۃ اللہ علیہ) سے بیعت تھے لیکن ان کی تربیت حضرت شاہ عبد القادر (رحمۃ اللہ علیہ) نے کی اور ان کو خلافت بھی حضرت شاہ عبدالقادر (رحمۃ اللہ علیہ) سے دلوا دی۔ اس طرح مولانا عبد الماجد دریا آبادی (رحمۃ اللہ علیہ) بیعت تو حضرت مولانا حسین احمد مدنی (رحمۃ اللہ علیہ) سے تھے لیکن تربیت حضرت تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) نے کی اور اجازت بھی حضرت تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) سے حاصل ہوئی۔

(٣٥) سوال:
اگر کوئی شخص کسی بزرگ سے بیعت ہوجائے لیکن رابطہ کسی وجہ سے ان کے ساتھ نہ رکھ سکے تو کیا کسی اور شیخ سے تعلیم کے سلسلے میں رجوع کرسکتا ہے؟

جواب:
اگر جس شیخ سے بیعت کی ہو، ان سے رابطہ ممکن ہو اور شیخ اس کی تربیت کرنا چاہتا بھی ہو تو کسی اور شیخ سے رجوع کرنا مناسب نہیں۔ اس کے برعکس اپنے شیخ کے ساتھ یا تو رابطہ ممکن نہ رہے۔ یا شیخ بہت معذور ہوجائے اور تعلیم و ارشاد کا سلسلہ اب وہ جاری نہ رکھ سکے تو دوسرے شیخ سے بغرض تعلیم رجوع کرسکتا ہے۔ اب وہ دوسرا اس کا شیخ تعلیم ہوجائے گا۔ اب اس کو موجودہ شیخ کے ساتھ وہی معاملہ رکھنا چاہیئے جو وہ اپنے شیخ بیعت کے ساتھ رکھتا تھا لیکن شیخ بیعت کا ادب اس کو ملحوظ رکھنا چاہیئے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٦ تا ١٨ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط 5 سوال28-22

قسط: ٥

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٢٢) سوال:
چلیٔے مان لیا کہ صرف ایک پیر سے تعلق رکھنا ہی بہتر ہے لیکن خدانخواستہ کوئی سادہ آدمی کسی غلط پیر سے بیعت ہوجائے تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟

جواب:
اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے آپ نے بہت اہم اور علمی سوال کیا ہے۔ اس بات کی اہمیت اپنی جگہ ہے کہ پیر کو ایک ہونا چاہیئے لیکن اس کا لازمی نتیجہ پھر یہ ہونا چاہیئے کہ وہ پیر صحیح ہو، شیخ کامل بھی ہو اور مرید کو اس کے ساتھ مناسبت بھی ہو ورنہ وہی ہوگا جو اناڑی ڈاکٹر کے ہاتھ پھنسنے والوں کا ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ پیر انتہائی سوچ سمجھ کر چُنا جائے۔ لہٰذا پیر کامل کی نشانیوں کو اچھی طرح سمجھنا چاھئیے۔ اپنے آپ کا اس کے ساتھ مناسبت کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے۔ اس میں جلدی نہ کی جائے۔ جس پیر کا عقیدہ خراب ہو یا وہ مستند نہ ہو یا صریح فسق و فجور میں مبتلا ہو اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہیئے اور اگر کوئی اس سے بیعت ہوگیا تو اس کا نبھانا ضروری نہیں چپکے سے کسی اور مستند پیر کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرنا چاہیئے، لیکن اپنے گزشتہ پیر کی بے ادبی نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ وہ ابتدائی محسن ہے اس لیے باقی لوگ بے شک اس کے بارے میں کچھ بھی کہیں خود اس کے حق میں بے ادبی نہیں کرنی چاہیئے۔ اس وقت اس کا معاملہ والد کی طرح ہوجاتا ہے کہ اس کی بات ماننی تو نہیں کیونکہ وہ شریعت کی خلاف ورزی ہوگی لیکن اس کے ساتھ عرف کے مطابق اچھا برتاؤ کرنا چاہیئے۔

(٢٣) سوال:
اگر وہ پیر فسق و فجور میں مبتلا ہو اور لوگوں کو اس سے نقصان پہنچ رہا ہو پھر بھی چپ رہے؟

جواب:
میں نے صرف یہ کہا تھا کہ اس کی بے ادبی نہیں کرنی چاہیئے تاہم لوگوں کو یہ سمجھانا کہ بدعقیدہ اور فاسق فاجر شیخ سے بیعت نہیں ہونا چاہیے ضروری ہے۔ اس طرح عام بات کرنا لوگوں کو بچانے کے لیے کافی ہوسکتا ہے بالخصوص ایسے شخص کی بات جو اس بات میں مبتلا رہ چکا ہو لوگوں کی ہدایت کے لیے زیادہ مفید ہوگی کیونکہ وہ دل سے کہے گا تاہم اپنے گزشتہ شیخ کے بارے میں اشد ضرورت کے بغیر کچھ نہ کہے اگر کوئی پوچھے تو اس کو اس چیز کے جاننے والوں کی طرف راغب کیا جائے۔

(٢٤) سوال:
اگر کسی پیر کے ساتھ اس کے مرید کی مناسبت نہیں اور اس کا پیر نہ تو بدعقیدہ ہے اور نہ ہی بدعمل ہے تو اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب:
کوشش کرنی چاہیئے کہ اس کے ساتھ مناسبت پیدا ہوجائے۔ بعض دفعہ مناسبت محسوس نہیں ہوتی لیکن ہوتی ہے۔ اس وقت اس کی کوشش کرنی چاہیئے کہ اگر ہو تو واضح ہوجائے لیکن اگر بالکل مناسبت نہیں تو دل میں اس کا انتہائی احترام رکھتے ہوئے اپنا تعلق کسی اور کے ساتھ قائم کیا جائے لیکن اس دفعہ مزید احتیاط کے ساتھ کہ پہلے دوسرے شیخ کے ساتھ مناسبت کا یقین کرلیا جائے تاکہ پھر وہ صورت حال واقع نہ ہو۔

(٢٥) سوال:
بعض حضرات تصوف اور بیعت کو آپس میں لازم و ملزوم سمجھتے ہیں کیا بیعت کرنا واقعی اتنا ضروری ہے؟

جواب:
مفید تو یقیناً ہے لیکن اس کی حیثیت سنت مستحبہ کی ہے جبکہ اپنی اصلاح فرض عین ہے اس لیے کسی سے اپنی اصلاح کے لیے اگر بیعت کے بغیر بھی تعلق قائم کیا اور اپنی اصلاح کروائی تو مقصد تو پورا ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اگر کسی نے ایک بڑے شیخ کی بیعت کرلی لیکن اس سے اپنی اصلاح نہیں کروائی تو اس کو مقصود حاصل نہیں ہوا۔

(٢٦) سوال:
تو پھر بیعت کے تردد میں کیوں پڑے، بس اپنی اصلاح کرائے اور ختم؟

جواب:
ٹھیک لیکن اگر واقعی ایسا ہو تو ورنہ بیعت کے ثمرات سے انکار نہیں۔

(٢٧) سوال:
بیعت کے ثمرات کیا ہوتے ہیں؟

جواب:
پیر کی توجہ ہوجاتی ہے اور مرید کو اپنا سمجھنے لگتا ہے اور اس کے بارے میں فکر مند ہوجاتا ہے۔ مرید اپنے مقصود کو ایک شخص کے ساتھ وابستہ کرلیا ہے اور ہرجائی پن ختم ہوجاتا ہے جو طریق میں انتہائی نقصان دہ چیز ہے۔ سلسلے کی اپنی برکات ہوتی ہیں وہ الگ حاصل ہوتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر اس کا فائدہ یہ ہے کہ صحیح پیر کے ساتھ تعلق ہو تو ایمان محفوظ ہوجاتا ہے۔

(٢٨) سوال:
کیا خواتین کو بھی بیعت کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
کیوں نہیں۔ قُرآن میں بیعت کی جو آیت ہے وہ خواتین کی بیعت کا ہے۔ مردوں کی بیعت تو حدیث پاک سے ثابت ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اس میں شرعی پابندیوں مثلاً پردے کا خیال رکھنا (نامحرم پیر نامحرم ہوتا ہے) اور گھر کے مَردوں کا اعتماد ضروری ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٤ تا ١٦ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط 4سوال21-17

قسط: ٤

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(١٧) سوال:
کیا کسی شخص کو بھی پیر بنایا جاسکتا ہے؟

جواب:
نہیں، جیسے ہر ایک سے علاج نہیں کروایا جاتا اس طرح ہر ایک کو پیر بھی نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کے لیے کچھ شرائط ہیں جن کا جاننا ضروری ہے ورنہ فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوسکتا ہے۔

(١٨) سوال:
ہم تو کسی بھی ڈاکٹر سے علاج کرواسکتے ہیں یہاں ایسا کیوں نہیں؟

جواب:
آپ شاید میرا جواب نہیں سمجھے۔ڈاکٹروں میں تو آپ کسی کو بھی اپنا ڈاکٹر بناسکتے ہیں لیکن جو ڈاکٹر نہیں ان سے تو آپ علاج نہیں کرواتے! اسی طرح پیروں میں سے تو کوئی بھی پیر ہوسکتا ہے لیکن جو پیر ہی نہیں اس کو کیسے پیر بنایا جاسکتا ہے؟

(١٩) سوال:
کیا پیر کا ایک ہونا ضروری ہے؟ اس سوال کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ آپ نے پیر کی مثال ایک استاد کی دی ہے تو جیسے استاد کئی ہوسکتے ہیں اس طرح پیر بھی تو کئی ہوسکتے ہوں گے؟

جواب:
بڑا شاندار علمی سوال ہے لیکن اس کا جواب سمجھنے کی کوشش کریں تو سمجھ میں آنا مشکل نہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا کہ مرید کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک مریض ہونا، اس صورت میں پیر معالج ہوتا ہے اور ایک شاگرد ہونا، اس صورت میں پیر استاد ہوتا ہے۔ طریقت کی بنیادی تعریف سے مرید کا مریض ہونا زیادہ اہم ہے کہ مرید نفس کے رذائل کو دور کرنے کے لیے پیر کی خدمات حاصل کرتا ہے۔ پیر کا مرید کو بعض علوم تصوف کے سمجھانا محض اس کا تبرع اور احسان ہے اور یہ لازمی نہیں۔ اس لیے بعض اوقات کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جاتی۔ اس کی مثال بعض ڈاکٹروں میں بھی ملتی ہے کہ وہ مریضوں کو ان کے امراض کے بارے میں کچھ سمجھاتے بھی رہتے ہیں جبکہ بعض ڈاکٹر بالکل نہیں بتاتے۔ تو اصل چیز علاج ہوا کہ وہ تو سب کے ہاں مشترک ہے اور کبھی کبھی تعلیم بھی ساتھ ہوجاتی ہے۔ اب اگر پیر کا معالج ہونا سمجھ میں آگیا تو پھر پیر کا ایک ہونا بھی سمجھ میں آجائے گا۔

(٢٠) سوال:
مجھے اب بھی یہ واضح نہیں ہو سکا۔ ہم ڈاکٹروں کو بدلتے بھی رہتے ہیں تو اس طرح تو ہمارا کئی ڈاکٹروں کے ساتھ واسطہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے میں پہلے جواب سے مطمئن نہیں ہوسکا؟

جواب:
کسی ایک بیماری کے علاج کے دوران ڈاکٹروں کا بدلنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ اس صورت میں مرض کے بڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ ایک ڈاکٹر کے پاس آنے جانے سے جب اس ڈاکٹر کو مریض کا مرض کچھ سمجھ میں آنا شروع ہوجائے تو اگر اس وقت کسی نئے ڈاکٹر سے علاج شروع کردیا جائے تو پھر اس کو نئے تجربات سے گزرنا ہوگا۔ اس لیے کسی بھی ڈاکٹر کو مرض سمجھنے کا مناسب وقت نہیں مل سکے گا اور مرض بعض دفعہ خطرناک صورت اختیار کرلے گا۔

(٢١) سوال:
تو کیا ہم ہر ایک رذیلے کو دور کرنے کیلیے علیحدہ پیر منتخب کرسکتے ہیں؟

جواب:
نہیں، لیکن اس بات کو سمجھنے کے لیے کچھ تمہید کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ جب دو چیزوں کو آپس میں تشبیہ دی جارہی ہو تو ضروری نہیں کہ وہ دو چیزیں بالکل ایک جیسی ہوں بلکہ درمیان میں کسی ایک صفت کے شریک ہونے کی وجہ سے بھی ان کو تشبیہ دی جارہی ہوتی ہے جبکہ حقیقت میں وہ ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ یہاں سمجھانے کے لیے یہ عرض کروں کہ طب میں تو مختلف امراض کے مختلف ڈاکٹروں اور حکیموں سے رجوع مشاہد ہے کیونکہ مختلف امراض کے مختلف تخصص ہوتے ہیں لیکن طب روحانی یعنی تصوف میں اصل مرض ایک ہوتا ہے اور وہ دنیا کی محبت ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”حب الدنیا رأس کل خطیئۃ“ اور اس کا علاج ایک ہے اور وہ ہے ﷲ کی محبت پس اصل تصوف دل سے دنیا کی محبت کو نکال کر اس میں ﷲ کی محبت کو پیدا کرنا ہے باقی تمام طریقے اس کے فروعات ہیں اس لیے ایک ہی پیر پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے مشاہدے سے ہم یکسر کیسے انکار کرسکتے ہیں؟ اس لیے اسی میں بہتری ہے کہ ایک ہی پیر کے ساتھ تعلق قائم کیا جائے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٢ تا ١٤ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط 3 سوال 16-11

قسط: ٣

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(١١) سوال:
آپ نے جن چیزوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ تصوف سے حاصل ہوتی ہیں کیا محض تصوف کی کتابیں پڑھ کر ان مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
عالم امکان میں تو ہے لیکن تجربے سے یہی ثابت ہے کہ ایسا بغیر کسی کی رہنمائی کے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ایک شعر ہے:

گر ہوائے ایں سفر داری دلا
دامن رہبر بگیر و پس بیا
بے رفیقے ہر کہ شد در راہ عشق
عمر بگزشت و نشد آگاہ عشق

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس سفر پر جانا ہے تو رہبر کا ہونا لازمی ہے کیونکہ جو اس راستے میں بغیر رہبر کے چلا اس کی عمر گزر گئی اور اس کو مقصود حاصل نہیں ہوا۔ عقلی توجیہ اس کی یہ ہے کہ جو شخص ان مقاصد کو حاصل کرے گا وہ یا تو مخلص ہوگا یا نہیں ہوگا۔ پس اگر مخلص نہیں ہے تو آسانی کی تلاش میں ہوگا اور پہلے ہی قدم پر نفس کے مکر کا شکار ہوجائے گا۔ کیونکہ یہ راستہ ہی نفس کی تربیت کا ہے اور تربیت میں تو مجاہدہ ہوتا ہے اور مجاہدے کی نفس مزاحمت کرے گا اس لیے یہ کبھی منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکے گا۔ دوسری طرف اگر یہ مخلص ہے تو اخلاص کی وجہ سے اپنے نفس کے مکر سے بچنے کے لیے اپنے لیے مشکل راستہ چنے گا۔ اس سے مجاہدہ تحمل سے باہر ہو جائے گا تو یا تو اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھتے ہوئے اس راستے کو خیر باد کہہ دے گا یا پھر اس کو ایسی جسمانی تکالیف پیش آسکتی ہیں جس سے بعد میں خود بخود اعمال ساقط ہوجائیں گے۔ پس دونوں صورتوں میں محرومی ہوگی۔ اس کے برعکس اگر کسی کی نگرانی میں کام کرے گا تو وہ اس سے مجاہدہ تو کرائے گا لیکن بقدر تحمل، نیز تجربے سے اس پر عمل سہل ہوجائے گا اور سب سے بڑی بات کہ غیر یقینی صورت حال سے جو اس پر بے انتہا بوجھ پڑتا ہے وہ نہیں پڑے گا۔

(١٢) سوال:
یہاں رہنمائی اور غیر یقینی صورت حال سے کیا مراد ہے؟

جواب:
رہنمائی سے مراد یہ ہے کہ ہر کام پوچھ پوچھ کے کیا جائے۔ کیونکہ نفس کے امراض کا اول تو خود ادراک ہوجانا مشکل ہے اور اگر ان کا ادراک ہو بھی جائے تو اس کا خود علاج کرنا بہت مشکل ہے۔ غیر یقینی صورت حال سے مراد یہ ہے کہ طالب اگر مخلص ہے تو اس کو اپنی اصلاح کے لیے نفس پر کتنا بوجھ ڈالنا چاہیئے اور اس کی کتنی رعایت کرنی چاہیئے؟

(١٣) سوال:
رہنمائی پھر کس کی ہونی چاہئے؟

جواب:
شیخ کامل کی جس کو بعض لوگ پیر بھی کہتے ہیں۔

(١٤) سوال:
پیر کے بارے میں سنا تو بہت کچھ ہے لیکن پیر ہوتا کیا ہے؟

جواب:
پیر مربی ہوتا ہے۔ جو شخص اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو جیسا کہ پہلے کہا گیا خود اپنی اصلاح بہت مشکل ہوتی ہے اس لیے کسی کو اپنا رہبر بنانا پڑتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنے پیر کے ساتھ ایک تعلق ہوجاتا ہے اور اس کو اپنے بارے میں بتاتا جاتا ہے۔ اس لیے اس کو اس کے بارے میں زیادہ سے زیاد معلومات حاصل ہورہی ہوتی ہیں۔پھر جب وہ کسی چیز کے بارے میں اس سے مشورہ کرتا ہے تو اس کا مشورہ اپنے مرید کے لیے باقی لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

(١٥) سوال:
کیا اس پیری مریدی کی اسلام میں گنجائش ہے؟

جواب:
کیوں نہیں؟ جس طرح استاد شاگرد کی گنجائش ہے یا جس طرح ڈاکٹر اور مریض کی گنجائش ہے اسی طرح پیری مریدی کی گنجائش ہے۔ ہر شخص اپنی اصلاح کے لیے ایک پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دیتا ہے جس سے وہ اصلاح لیتا ہے۔ اپنی اصلاح فرض عین ہے اور پیر کا ہاتھ پکڑنا اس کے لیے ایک ذریعہ ہے۔ اس لیے اس کے جواز میں کیا اختلاف ہوسکتا ہے؟ مرید ایک طرح سے روحانی مریض ہے اور دوسری حیثیت سے تصوف کے علوم کا شاگرد ہے۔ دونوں حیثیتیں چونکہ ثابت ہیں۔ اس لیے مرید ہونا بھی جائز ہے اور پیر کا ہاتھ پکڑنا بھی جائز۔

(١٦) سوال:
ہم نے تو سنا تھا کہ مزاج تبدیل نہیں ہوسکتے جبکہ آپ تو شاید اس کو ممکن سمجھتے ہیں؟

جواب:
جی ہاں! آپ نے ٹھیک سنا ہے طبیعت تبدیل نہیں ہوسکتی لیکن عادت تبدیل ہوسکتی ہے۔ مشائخ کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مرید کی طبیعت کو پہچان لیں اور اس کی طبیعت کے مطابق اس سے کام لیں اور اس کو صحیح راستے پر گامزن کر کے اس کی عادت درست کردیں۔ آخر صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) میں بھی تو ہر قسم کی طبیعتیں تھیں۔ جب ان کی اصلاح ہوگئی تو ہر ایک ہدایت کا مینار بن گیا اور سب کے بارے میں فرمایا گیا کہ جس کے پیچھے بھی جاؤگے ہدایت پالوگے۔ پس طبیعتیں تو تبدیل نہیں ہوسکتیں لیکن ہر طبیعت کی اصلاح ہوسکتی ہے۔ آج کل کی زبان میں اگر طبیعت کو ' Hardware' کہا جائے تو عادت کو ' Software' کہا جاسکتاہے۔ پس 'Hardware' تو ہر ایک ساتھ لے کے آتا ہے لیکن اس میں ' Software ' ماحول، والدین یا مشائخ ڈالتے ہیں۔

(جاری ہے) 

📚 تصوف کا خلاصہ ص ١٠ تا ١٢ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط 2 سوال 1

قسط: ٢

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٥) سوال:
ٹھیک ہے، لیکن صوفیاء کرام تو بعض اوقات ایسی باتیں کرلیتے ہیں یا ایسے کام کرتے ہیں کہ قرون اولیٰ میں ان کی نظیر نہیں ملتی اس لیے بدعت کی تعریف سے ان کو نکالنا مشکل معلوم ہورہا ہے؟

جواب:
بدعت کی سب سے زیادہ واضح تعریف جو میرے ذہن میں ہے وہ یہ ہے کہ کوئی ایسی بات جس کے لیے دلیل شرعی نہ ہو اس کو دین سمجھنا بدعت ہوگا۔ اگر آپ کا اشارہ اس طرف ہے کہ تصوف کو بعض لوگ بدعت سمجھتے ہیں تو میں یہ واضح کردوں کہ وہ غلطی پر ہیں کیونکہ جو تصوف کے مقاصد ہیں وہ قُرآن اور حدیث سے ثابت ہیں جیسے تکبر کی جو مذمت ہے وہ قُرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ اسی طرح عجب، حسد، کینہ، بغض اور ریاء کی مذمت قُرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ اسی طرح تفویض (اپنے آپ کو ﷲ تعالیٰ کے سپرد کرنا)، توکل (ﷲ تعالیٰ پر بھروسا کرنا)، تواضع (اپنے آپ کو کم تر سمجھنا) کی فضیلت اور حکم قُرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ پس اگر کوئی ان کو ہی مقاصد سمجھے اور ان کو حاصل کرنے کے جو طریقے ہیں ان کو محض ذرائع سمجھے تو پھر اس پر بدعت کی تعریف کیسے آسکتی ہے؟ مثلاً آپ ﷺ کے دور میں جو علوم کو حاصل کرنے کا طریقہ تھا، آج کل وہ نہیں لیکن چونکہ علم حاصل کرنا سب لوگ قُرآن اور حدیث سے ثابت سمجھتے ہیں تو علوم کو حاصل کرنے کے جو ذرائع ہیں ان پر کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا۔ اسی طرح جو تصوف کے مقاصد ہیں اگر ان کو کوئی مقاصد سمجھتے ہوئے ان کے حاصل کرنے کے طور طریقوں کو محض ذرائع سمجھے تو پھر تصوف پر بھی کوئی اعتراض یا اس کے بدعت ہونے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

(٦) سوال:
کچھ کچھ بات سمجھ میں آرہی ہے۔ آپ کی بات تو ٹھیک ہے لیکن آج کل بعض لوگ تصوف کے نام پر ایسے ایسے اعمال کرتے ہیں جو کہ صراحتاً شرک و بدعت ہیں اس لیے سدباب کے طور پر اگر لوگوں کو اس سے بچایا جائے تو کیا یہ درست نہیں ہوگا؟

جواب:
سدباب کی تجویز بہت مناسب ہے لیکن یہاں پر اس کو منطبق کرنا بڑا عجیب ہے۔ اگر لوگ اسلام کے نام پر غلط چیزیں شامل کریں تو کیا سدباب کے لیے اسلام کو ہی سلام کردیں گے؟ یہ تو بالکل وہی بات ہے کہ بعض ناواقف لوگ کہتے ہیں کہ داڑھی اب غلط لوگ رکھنے لگے ہیں اس لیے ہم اب داڑھی نہیں رکھ سکتے۔ یاد رکھئے! جو خدا اور رسول ﷺ کا حکم ہو اس کو اگر غلط لوگ غلط طریقے سے کرنے لگیں تو اس کا توڑ یہ نہیں کہ اس کو چھوڑ دیا جائے بلکہ اس کا توڑ یہ ہوگا کہ اس کو صحیح طریقے سے کرنے کو رواج دیا جائے۔ یہی طریقہ ہم تصوف کے ساتھ اختیار کرنا چاہتے ہیں کہ اسکے صحیح طریقوں کو رواج دیا جائے۔ ہماری کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

(٧) سوال:
وہ کونسے کام ہیں جو طریقت میں لازمی طور پر کرنے ہوتے ہیں؟

جواب:
ذرا غور فرمائیے! اعمال باطنی دو قسموں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں۔ ایک محمود ہیں یعنی پسندیدہ اعمال جیسے تواضع، اخلاص وغیرہ اور دوسرے مذموم یعنی ناپسندیدہ اعمال ہیں جیسے تکبر اور ریاء وغیرہ۔ طریقت میں اس کی کوشش کی جاتی ہے کہ مذموم اعمال ختم ہوجائیں اور محمود اعمال پیدا ہوجائیں۔ پہلے کو تخلیہ یا تجلیہ کہتے ہیں اور دوسرے کو تحلیہ کہتے ہیں۔

(٨) سوال: 
تصوف سے کیا حاصل ہوتا ہے؟

جواب:
ظاہراً دو قسم کے ثمرات اس سے حاصل ہوجاتے ہیں۔ (١) بندے کے دل کی درستگی یعنی محمود اعمال کے لیے دل کا تیار ہوجانا اور نفس کا رذائل سے پاک ہوجانا۔ دوسرے لفظوں میں بندہ فی الحقیقت بندہ بن جاتا ہے (٢) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی قبولیت یعنی بندے کا اللہ والا بن جانا۔ اسی کو وصول کہتے ہیں اور اسی کو نسبت کہتے ہیں۔

(٩) سوال:
کیا وصول اختیاری ہے؟

جواب:
نہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔

(١٠) سوال:
اگر یہ اختیاری نہیں تو ہم اس کے لیے کیسے کوشش کر سکتے ہیں؟

جواب:
اچھا اور موقع کا سوال ہے لیکن جواب ذرا غور سے سنیے! ہم جانتے ہیں کہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے اعمال پر نہیں لیکن پھر بھی ہمیں اعمال کا حکم دیا جاتا ہے اور جیسا کہ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم بے فائدہ نہیں اس لیے ہمارا کام عمل کرنا ہے نتیجہ خدا کے حوالے ہے۔ تو جس طرح باوجود اس کے کہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے ہم اس کو اپنے لیے مقصد سمجھتے ہیں اور اس کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح ہمارا کام باطنی اعمال کی درستگی ہے جو اختیاری ہے اور اس کا حکم ہے لیکن اس پر نسبت کا حاصل ہونا اگرچہ غیر اختیاری ہے لیکن ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے بھروسہ پر بلا چوں و چرا عمل جاری رکھیں گے۔اللہ تعالیٰ کی جب حکمت ہوگی نسبت عطا فرمادیں گے۔

(جاری ہے) 

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٧ تا ١٠ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ  


تصوف کیا ہے قسط 1

قسط: ١ 

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(١) سوال: 
تصوف ایک متنازعہ لفظ سمجھا جاتا ہے۔ لوگوں کے اس کے بارے میں بڑے تحفظات ہیں۔ آپ کی تصوف کے بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب: 
جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ تصوف کا لفظ متنازعہ ہے لیکن اس کا متنازعہ ہونا حقیقی نہیں بلکہ بعض حضرات نے ناسمجھی کی وجہ سے اس کے غلط معنی سمجھ لیے لہٰذا اس کی افادیت سے انکار کر بیٹھے۔ حقیقت میں کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جو ظاہر میں کرنے کے ہوتے ہیں جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ... اور کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جو کہ دل کے اعمال ہوتے ہیں جن کا پتہ کسی اور کو نہیں چلتا۔ ان کا پتہ صرف اللہ تعالیٰ کو یا کرنے والے کو ہوتا ہے اور ان ہی اعمال پر ظاہری اعمال منحصر ہوتے ہیں۔ اگر کسی کے یہ دل والے اعمال درست نہ ہوں تو بے شک ان کے ظاہر کے اعمال درست بھی ہوں وہ قبولیت کا درجہ نہیں پاتے یا بعض ظاہری اعمال ان باطنی اعمال کی خرابی کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں۔ پس ان باطنی اعمال کا یعنی دل کے اعمال کا درست کرنا بھی ضروری ہوا بلکہ اشد ضروری ہوا۔ پس وہ طور طریقے اختیار کرنا جس سے یہ دل والے اعمال درست ہوجائیں تصوف کہلاتا ہے۔ شریعت کے طور طریقوں کو چونکہ فقہ بھی کہتے ہیں لہٰذا اس معنی میں تصوف کو فقہ الباطن بھی کہتے ہیں۔

(٢) سوال:
صوفیاء کرام کی اصطلاح میں طریقت، حقیقت اور معرفت کے الفاظ بولے جاتے ہیں آپ ان کی وضاحت فرمائیں گے؟

جواب: 
ظاہری اعمال کو درست کرنے کے طریقوں کو فقہ کہتے ہیں اور باطنی اعمال کو درست کرنے کے طریقوں کو طریقت کہتے ہیں۔ جب دل کی اصلاح اور صفائی ہوجاتی ہے تو اس کی وجہ سے کچھ اعمال اور اشیاء کے خواص اور حقائق منکشف ہوجاتے ہیں۔ اسی انکشاف کو حقیقت کہتے ہیں پھر جب یہ انکشافات ہوجاتے ہیں تو بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق قائم ہوجاتا ہے کہ بندہ اپنے حالات کے مطابق رب کی منشاء کو سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی جو بھی حالت ہے اس میں اللہ تعالیٰ کس کام سے زیادہ راضی ہوں گے مثلاً حضرت ایوب علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ کی منشاء کا یہ اندازہ ہوا کہ ﷲ تعالیٰ کا مجھ سے موجودہ حال میں صبر کا مطالبہ ہے تو انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا اور جب ان کو یہ اندازہ ہوا کہ اب ﷲ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ میں عاجزی اختیار کروں اور عافیت مانگوں تو ﷲ تعالیٰ سے عافیت مانگی اور پھر جب ﷲ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کے گھر میں سونے کی ٹڈیوں کی بارش فرمادی تو جھولیاں بھر بھر کر جمع فرماتے رہے اور اس آواز پر کہ ایوب کیا تیرا پیٹ ابھی نہیں بھرا فرمایا کہ یا ﷲ میرا پیٹ تیری نعمتوں سے کب بھر سکتا ہے۔ یہ سب معرفت الٰہی کے کرشمے ہیں۔

(٣) سوال: 
بحیثیت مسلمان ہم کوئی ایسا عمل نہیں کرسکتے جو قُرآن اور حدیث سے ثابت نہ ہو۔ کیا تصوف قُرآن و حدیث سے ثابت ہے؟

جواب: 
ذرا اس کی تعریف میں غور کیجئے کہ اس میں کونسی چیز قُرآن و حدیث سے خارج ہے؟

(٤) سوال: 
تعریف میں طور طریقوں کا ذکر بھی آیا ہے ان کو قُرآن و حدیث سے کیسے ثابت کریں گے؟

جواب: 
جہاں تک اس کے طور طریقوں کی بات ہے تو اگر ان کو محض ذرائع مانا جائے تو پھر اس پر خلاف شریعت کا حکم نہیں لگایا جاسکتا جیسے کوئی حج کو فرض مانتا ہے اور اس کے لیے جہاز پر سفر کو محض ذریعہ سمجھتا ہے اب گو کہ قرون اولیٰ میں جہاز کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن محض جہاز پر جانے کو کوئی بدعت کہتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ اس کو وہ صرف ذریعہ سمجھ رہا ہے ہاں اگر کوئی جہاز پر جانے کو ہی مقصود قرار دے اور دوسرے ذرائع کو غیر شرعی قرار دے تو یہ دین میں زیادتی اور بدعت ہوگی۔ اس لیے اس سے بچنا ضروری ہوگا۔ بعینہ یہاں بھی اگر ان طریقوں کو محض ذریعہ سمجھا جائے اور ان کو مقاصد میں شامل نہ سمجھا جائے تو پھر کوئی حرج نہیں۔

(جاری ہے) 

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٦-٧ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ


روحانی بیماریوں کی تشخیص *

*روحانی بیماریوں کی تشخیص*
====  *﷽*   ===
*السلام و علیکم و رحمتہ اللہ*
( _جواب ضرور دیجئے گا زبان سے_ )
*

 روحانی بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج کا نام "تصوف " ہے۔ جس کو قرآن کریم میں " تزکیہ نفس" اور حدیث میں لفظ " احسان " سے تعبیر کیا گیا ہے۔*
*عقائد و اعمال کی اصلاح فرض ہے۔ جس کے لیے صحیح والعقیدہ،سنت کے پابند،دنیا سے بے رغبت اور آخرت کے طالب،مجازِ بیعت ،شیخ طریقت سے بیعت ہونا مستحب بلکہ واجب کے قریب ہے۔ 

حوالہ کتب ! صراطِ مستقیم کورس صفحہ نمبر 119