Monday, August 29, 2022

حضرت عمر بن عبدالعزیز سے قبر کا بات کرنا



*حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک مرتبہ ایک جنازے کے ساتھ تشریف لے گئے اور قبرستان میں پہنچ کر علیحدہ ایک جگہ بیٹھ کر کچھ سوچنے لگے ۔*

*کسی نے عرض کیا :*

*امیرالمؤمنین ! آپ اس جنازے کے ولی تھے ، آپ ہی علیحدہ بیٹھ گئے ؟*

*فرمایا : ہاں ، مجھے ایک قبر نے آواز دے دی اور مجھ سے یُوں کہا کہ اے عمر بن عبدالعزیز ! تو مجھ سے نہیں پوچھتا کہ میں ان آنے والوں کے ساتھ کیا کیا کر دیتی ہوں ، خون سارا چُوس لیتی ہوں ، گوشت کھا لیتی ہوں اور بتاؤں کہ آدمی کے جوڑوں کے ساتھ کیا کرتی ہوں ، مونڈھوں کو بانہوں سے جدا کر دیتی ہوں اور بانہوں کو پہنچوں سے جدا کر دیتی ہوں اور سرینوں کو بدن سے جدا کر دیتی ہوں اور سرینوں سے رانوں کو جدا کر دیتی ہوں اور رانوں کو گھٹنوں سے اور گھٹنوں کو پنڈلیوں سے ۔*

*دنیا کا قیام بہت ہی تھوڑا ہے اور اس کا دھوکہ بہت زیادہ ہے ، اس میں جو عزیز ( عزت والا ) ہے ، وہ آخرت میں ذلیل ہے ، اس میں جو دولت والا ہے ، وہ آخرت میں فقیر ہے ، اس کا جوان بہت جلد بوڑھا ہو جائے گا ، اس کا زندہ بہت جلد مر جائے گا ۔*

*اِس کا تمہاری طرف متوجہ ہونا تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے ، حالانکہ تم دیکھ رہے ہو کہ یہ کتنی جلدی مُنہ پھیر لیتی ہے اور بیوقوف وہ ہے ، جو اس کے دھوکے میں پھنس جائے ، باغ لگائے اور بہت تھوڑے دن رہ کر سب کو چھوڑ کر چل دے ۔ وہ اپنی صحت اور تندرستی سے دھوکے میں پڑے کہ صحت کے بہتر ہونے سے ان میں نشاط پیدا ہوا اور اس سے گناہوں میں مبتلا ہوجائے ۔*

*وہ لوگ خدا کی قسم ! دنیا میں مال کی کثرت کی وجہ سے قابل رشک تھے ، باوجودیکہ مال کے کمانے میں ان کو رکاوٹیں پیش آتی تھیں ، مگر پھر بھی خوب کماتے تھے ، ان پر لوگ حسد کرتے تھے ، لیکن وہ بے فکر مال کو جمع کرتے رہتے تھے اور اس کے جمع کرنے میں ہر قسم کی تکلیف کو خوشی سے برداشت کرتے تھے ، لیکن اب دیکھ لو کہ مٹی نے ان کے بدنوں کا کیا حال کر دیا اور خاک نے ان کے بدنوں کو کیا بنا دیا ، کیڑوں نے ان کے جوڑوں اور ان کی ہڈیوں کا کیا حال کر دیا ۔*

*وہ لوگ دنیا میں اونچی اونچی مسہریوں ( بیڈس ) پر اونچے اونچے فرش اور نرم نرم گدوں پر نوکروں اور خادموں کے درمیان آرام کرتے تھے ، عزیز و اقارب ، رشتہ دار اور پڑوسی ، ہر وقت دلداری کو تیار رہتے تھے ، لیکن اب کیا ہو رہا ہے ، آواز دے کر ان سے پوچھ کہ کیا گذر رہی ہے ۔ غریب امیر سب ایک میدان میں پڑے ہوئے ہیں ، ان کے مالدار سے پوچھ کہ اس کے مال نے کیا کام دیا ، ان کے فقیر سے پوچھ کہ اس کے فقر ( غریبی ) نے کیا نقصان دیا ۔ ان کی زبان کا حال پوچھ جو بہت چہکتی تھی ، ان کی آنکھوں کو دیکھ جو ہر طرف دیکھتی تھیں ، ان کی نرم نرم کھالوں کا حال دریافت کر ، ان کے خوبصورت اور دلربا چہروں کا حال پوچھ کیا ہوا ، ان کے نازک بدن کو معلوم کر ، کیا کیا کیڑوں نے ، ان سب کا کیا حشر بتایا ، ان کے رنگ کالے کر دیئے ، ان کا گوشت کھالیا ، ان کے مُنہ پر مٹی ڈال دی ، اعضاء کو الگ الگ کر دیا ، جوڑوں کو توڑ دیا ، آہ کہاں ہیں ان کے وہ خدام جو ہر وقت حاضر ، "ہوں جی" کہتے تھے ، کہاں ہیں ان کے وہ خیمے اور کمرے جن میں آرام کرتے تھے ، کہاں گئے ان کے وہ مال اور خزانے جن کو جوڑ جوڑ کر رکھتے تھے ، ان حشم خدم نے اس کو قبر میں کھانے کے لئے کوئی توشہ ( سامان) بھی نہ دیا اور اس کی قبر میں کوئی بسترا بھی نہ بچھا دیا ، کوئی تکیہ بھی نہ رکھ دیا ، زمین ہی پر ڈال دیا ، کوئی درخت ، پھول بھلواری بھی نہ لگا دی ، آہ ! اب وہ بالکل اکیلے پڑے ہیں ، اندھیرے میں پڑے ہیں ، ان کے لئے اب رات دن برابر ہے ، دوستوں سے مل نہیں سکتے ، کسی کو اپنے پاس بُلا نہیں سکتے ، کتنے نازک بدن مرد ، نازک بدن عورتیں ، آج ان کے بدن بوسیدہ ہیں ، ان کے اعضاء ایک دوسرے سے جدا ہیں ، آنکھیں گل کی مُنہ پر گر گئیں ، گردن جدا ہوئی پڑی ہے ، مُنہ میں پانی پیپ وغیرہ بھرا ہوا ہے اور سارے بدن میں کیڑے چل رہے ہیں ، وہ اس حال میں پڑے ہیں اور ان کی جوڑوں نے دوسرے نکاح کر لئے ، وہ مزے آڑا رہی ہیں ، بیٹوں نے مکانوں پر قبضہ کرلیا ، وارثوں نے مال تقسیم کر لیا ، مگر بعض خوش نصیب ایسے بھی ہیں ، جو اپنی قبروں میں بھی لذتیں آڑا رہے ہیں ، تر و تازہ چہروں کے ساتھ راحت و آرام میں ہیں ، لیکن یہ وہی لوگ ہیں ، جنہوں نے اِس دھوکے کے گھر میں اُس گھر کو یاد رکھا ، اِس کی امیدوں سے اُس کی امیدوں کو مقدم کیا اور اپنے لئے توشہ جمع کر دیا اور اپنے پہنجنے سے پہلے اپنے جانے کا سامان کردیا ۔ اے وہ شخص جو کل کو قبر میں ضرور جائے گا ۔ تجھے اس دنیا کے ساتھ آخر کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ھے ، کیا تجھے یہ امید ھے کہ تُو اس کُوچ کے گھر میں ھمیشہ رہے گا ، تیرے یہ وسیع مکان ، تیرے باغوں کے پکے ہوئے پھل ، تیرے نرم بسترے ، تیرے گرمی سردی کے جوڑے ، یہ سب کے سب ایک دم رکھے رہ جائیں گے ، جب ملک الموت آ کر مسلط ہو جائے گا ، کوئی چیز اس کو نہ ہٹا سکے گی ، پسینوں پر پسینے آنے لگیں گے ، پیاس کی شدت بڑھ جائے گی اور جان کنی کی سختی میں کروٹیں بدلتا رہ جائے گا ، افسوس صد افسوس ! اے وہ شخص جو آ ج مرتے وقت اپنے بھائی کی آنکھ بند کر رہا ہے ، اپنے بیٹے کی آنکھ بند کر رہا ہے ، اپنے باپ کی آنکھ بند کر رہا ہے ، ان میں سے کسی کو نہلا رہا ہے ، کسی کو کفن دے رہا ہے ، کسی کے جنازے کے ساتھ جا رہا ہے ، کسی کو قبر کے گڑھے میں ڈال رہا ہے ، کل کو تجھے بھی یہ سب کچھ پیش آنا ہے اور بھی اس قسم کی باتیں فرمائیں ۔ پھر دوشعر پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ آدمی ایسی چیز کے ساتھ خوش ہوتا ہے ، جو عنقریب فنا ہونے والی ہے اور لمبی لمبی آرزوؤں اور دنیا کی امیدوں میں مشغول رہتا ہے ، ارے بیوقوف خواب کی لذتوں سے دھوکے میں نہیں پڑا کرتے ، تیرا دن سارا غفلت میں گذرتا ہے اور تیری رات سونے سے گذرتی ہے اور موت تیرے اوپر سوار ہو رہی ہے ۔ آج تو وہ کام کر رہا ہے کہ کل کو ان پر رنج کرے گا ، دنیا میں چوپائے اسی طرح زندگی گزارتے ہیں ، جس طرح تو گذار رہا ہے ۔*

*کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ایک ہفتہ بھی نہ گذرا تھا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وصال ہو گیا ۔ رضی اللہ عنہ و ارضاہ ۔ ( مسامرات )*

*فضائل صدقات حصہ دوم ص : 221_219*

*شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا قَدَّسَ اللّٰہُ سِرہٗ۔۔۔🌹*

Saturday, August 27, 2022

پیر اور مرید کے کیا معنی،

سوال نمبر: 604344

عنوان:
پیر اور مرید كی تعریف؟

سوال:
پیر اور مرید کیا ہے، یہ سب شریعت میں ہے؟ یہ نہیں تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔

جواب نمبر: 604344
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa : 952-714/H=08/1442

 جس شخص کے اخلاقِ رذیلہ (تکبر، حسد، بغض، ریا و نمود حب جاہ وحب مال وغیرہ) کی اصلاح ہوگئی اور اخلاقِ فاضلہ (سخاوت، شجاعت، اخلاص، توکل وغیرہ) نیز اعمال صالحہ میں رسوخ کا درجہ اس کو حاصل ہوگیا اتباع سنت و احکام شرع کا پابند ہوگیا اور اس پر کسی متبع سنت شیخ کامل نے اعتماد کیا اور اس کو اجازت دیدی کہ اخلاق رذیلہ کی اصلاح اور اخلاق فاضلہ کے حصول میں مسلمانوں کی خدمت انجام دیا کرو ایسا شخص پیر ہے اور جس کی اصلاح اس سے متعلق ہے وہ مرید ہے اور یہ امور قرآن کریم اور حدیث شریف سے ثابت ہیں۔ تعلیم الدین ایک چھوٹی سی کتاب ہے کتب خانوں میں قیمتاً دستیاب حضرت اقدس مولانا اشرف علی صاحب رحمہ اللہ کی تصنیف ہے اس میں تفصیل ملاحظہ فرمالیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


تصوف کیا ہے قسط14 سوال 93-86

قسط: ١٤

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٨٦) سوال:
آپ نے فرمایا تھا کہ ذکر دل سے بھی ہوتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے ؟

جواب:
جی ہاں! یہ ممکن ہے اور انتہائی لذیذ اور مفید ذکر ہے۔

(٨٧) سوال:
اس کی کچھ مزید تفصیل بتا سکتے ہیں؟

جواب:
جی ہاں! اس کو حاصل کرنے کے طریقے ہیں۔ نقشبندیہ میں یہ ابتدا میں تلقین کیا جاتا ہے جبکہ چشتیہ میں کچھ تیاری کے بعد یہ تلقین کیا جاتا ہے اور بعض کو ذکر لسانی کثرت سے کرنے سے یہ نعمت حاصل ہوجاتی ہے اور یہ زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہر وقت اور ہر جگہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے ذکر قلبی سے آدمی دائم الذکر بن سکتا ہے۔ یہی ذکر قلبی جب مزید راسخ ہوجاتا ہے تو اس کا اثر جسم کے دوسرے حصوں میں سرایت کرجاتا ہے اور مختلف مقامات پر اس کا اثر محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس وقت ان کو لطائف کا جاری ہونا کہتے ہیں۔

(٨٨) سوال:
کیا یہ لطائف خود بخود جاری ہوتے ہیں یا ان کو کوشش سے بھی جاری کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
جی ہاں! یہ کوشش کی جاسکتی ہے۔نقشبندیہ حضرات ان کو یکے بعد دیگرے ایک ترتیب سے جاری کرتے ہیں اور چشتی حضرات صرف قلب کو اصل لطیفہ سمجھتے ہیں اور باقی لطائف کو اس کی فروعات مانتے ہیں جو کہ قلب پر محنت سے خود بخود حاصل ہوجاتے ہیں۔

(٨٩) سوال:
اس چیز کا پتہ کیسے چلتا ہے کہ لطائف جاری ہوئے ہیں یا نہیں؟

جواب:
ہر ہر لطیفہ کی اپنی جگہ ہے۔ لطیفہ قلب دل کی جگہ، لطیفہ روح دائیں پستان کے نیچے قلب کے محاذ میں ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان لطیفہ سِر ہوتا ہے۔ ہونٹوں اور بعض کی تحقیق کے مطابق پیشانی کے مقام پر لطیفہ خفی ہوتا ہے اور ام الدماغ یعنی سَر کے بیچ لطیفہ اخفیٰ ہوتا ہے۔ لطیفہ نفس ناف کے مقام پر ہوتا ہے۔ ” ان کے مقامات میں بعض کشفی اختلافات بھی ہیں۔“ ان مقامات پر سالک کو ذکر محسوس ہوتا ہے جو کہ اللہ، اللہ، اللہ ہو یا لا الہ الا اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ ان مقامات کے اپنے انوارات بھی ہوتے ہیں جو اہل کشف کو نظر آتے ہیں۔ اس لیے بعض حضرات نے ان کے انوارات کے بارے میں بھی تحریر فرمایا ہے لیکن ان انوارات کا سب کو نظر آنا ضروری نہیں۔ کیونکہ یہ کشفی ہیں اور بعض کو کشف سے مناسبت نہیں ہوتی۔ لیکن کشف کوئی مقصود نہیں ہے۔

(٩٠) سوال:
کشف تو بڑی مفید چیز ہے تو پھر یہ مقصود کیوں نہیں؟

جواب:
ہمارا مقصد چونکہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے جس کے لیے کشف کا ہونا ضروری نہیں۔ اس لیے مقصود کیسے ہوسکتا ہے؟ جہاں تک اس کے مفید ہونے کا تعلق ہے تو وہ اس کے استعمال پر موقوف ہے بعض کے لیے نعمت ہوتا ہے بعض کے لیے آزمائش۔ اس لیے جن کو خود بخود حاصل ہوجائے وہ تو اس کی قدر کریں اور اس کا صحیح استعمال کریں اور جن کو نہ دیا جائے وہ اس پر شکر کریں اور اس کے نہ ملنے کی کوئی پرواہ نہ کریں۔

(٩١) سوال:
کشف ہوتا کیا ہے؟

جواب:
کشف کا مطلب کسی چیز کا پردہ سے باہر آجانا۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم تکوینی، یعنی ماضی، حال، مستقبل کی کسی بات یا کام کا پتہ چلے یا دور و نزدیک کسی بات یا چیز کا پتہ چلے جس کو عام لوگ اپنے عام حواس سے معلوم نہ کرسکیں۔ دوسری قسم علمی، جس میں کسی بات کے صحیح اور درست ہونے کا پتہ چلے۔ یہ دوسری قسم کا کشف بہت مفید ہے اس کی دعا بھی کرنی چاہیئے۔ اس کو شرح صدر کہا گیا ہے۔ قُرآن میں اس کی دعا ”رب الشرح لی صدری...“ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ثابت ہے۔

(٩٢) سوال:
یہ آخری کشف تو پھر مقصود ہوا نا پھر اس کو غیر مقصود کیسے کہہ سکتے ہیں؟

جواب:
میں نے یہ کہا ہے کہ اس کے لیے دعا کی جاسکتی ہے یہ مفید ہے پھر اللہ تعالیٰ جس کے لیے جو مناسب سمجھے اس پر راضی رہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہونا تصوف کے مقاصد میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ساتھ اس کے احوال کے مطابق معاملہ کرتا ہے اس لیے جس کو جتنے وسائل دیئے گئے ہیں اس سے اتنا ہی پوچھا جائے گا۔

(٩٣) سوال:
آپ نے مراقبہ کے بارے میں بھی فرمایا تھا یہ کیا ہوتا ہے؟

جواب:
مراقبہ دل کی سوچ کو کہتے ہیں۔ کسی مطلوب بات کا اس طریقے سے سوچنا کہ وہ مطلوب حاصل ہوجائے مراقبہ کہلاتا ہے۔ انسان کی قوت تصور بہت عجیب ہے اگر اس سے کام لیا جائے تو بڑے بڑے کام ہوسکتے ہیں۔ بعض حضرات اس چیز کو بہت ہلکا سمجھتے ہیں کہ سوچنے سے کیا ہوتا ہے۔ وہ حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ مذہب میں تو سب کچھ تصور سے ہوتا ہے۔ عقائد سب تصورات ہیں جو کہ دین کی اساس ہیں۔ محبت کے ہونے نہ ہونے میں تصور کو بہت دخل ہے۔ فکر تصور ہی کی ایک قسم ہے جس سے اعمال وجود میں آتے ہیں۔ اس لیے دل کی سوچ کو ترتیب دینے کے لیے مشائخ اس قوت سے کام لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں بندہ کے گمان کے ساتھ ہوں۔ مراقبہ سے اچھے گمان کا حصول ممکن ہے۔

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٣٤ تا ٣٦ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العالیہ

Thursday, August 25, 2022

اگر ہم اسکے ہیں تو جواب ہی جواب ہے سوال سے پہلے جواب ہے

اگر ہم اس کے ہیں تو وہ ہمارا ہے، جواب ہی جواب۔  اگر ہم صرف اپنے لئے ہیں، تو ہم پر عذاب ہے۔ علم کا عذاب، ذہن کا عذاب، سوال ہی سوال۔

کیا خالق نے مخلوق کو مخلوق کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق سے ناراض ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق کو معاف نہیں کر سکتا۔۔۔؟
کیا اس کی رحمت اس کے غضب سے زیادہ وسیع نہیں ہے۔۔۔؟

اہلِ ظاہر کو ان سوالات کے جوابات سوچنے پڑتے ہیں۔
اہل باطن پر جواب پہلے آشکار ہوتا ہے، سوال بعد میں بنتا ہے۔
اگر جواب معلوم نہ ہو تو سوال گستاخی ہے اور اگر جواب معلوم ہو تو سوال بیباکی ہے، بیباکی میں تعلق قائم رہتا ہے اور گستاخی میں تعلق ختم ہو جاتا ہے۔
اگر ہم ذہن سے سوچیں تو سوال ہی سوال ہیں اور اگر دل سے محسوس کریں تو جواب ہی جواب۔


سوال دراصل ذہن کا نام ہے اور جواب دل کا نام۔۔۔

کتاب: قطرہ قطرہ قلزم۔
حضرت واصف علی واصف ؓ
کیا خالق نے مخلوق کو مخلوق کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق سے ناراض ہے۔۔۔؟
کیا خالق مخلوق کو معاف نہیں کر سکتا۔۔۔؟
کیا اس کی رحمت اس کے غضب سے زیادہ وسیع نہیں ہے۔۔۔؟

اہلِ ظاہر کو ان سوالات کے جوابات سوچنے پڑتے ہیں۔
اہل باطن پر جواب پہلے آشکار ہوتا ہے، سوال بعد میں بنتا ہے۔
اگر جواب معلوم نہ ہو تو سوال گستاخی ہے اور اگر جواب معلوم ہو تو سوال بیباکی ہے، بیباکی میں تعلق قائم رہتا ہے اور گستاخی میں تعلق ختم ہو جاتا ہے۔
اگر ہم ذہن سے سوچیں تو سوال ہی سوال ہیں اور اگر دل سے محسوس کریں تو جواب ہی جواب۔

اگر ہم اس کے ہیں تو وہ ہمارا ہے، جواب ہی جواب۔  اگر ہم صرف اپنے لئے ہیں، تو ہم پر عذاب ہے۔ علم کا عذاب، ذہن کا عذاب، سوال ہی سوال۔
سوال دراصل ذہن کا نام ہے اور جواب دل کا نام۔۔۔

کتاب: قطرہ قطرہ قلزم۔
حضرت واصف علی واصف ؓ

سلطان نور الدین زنگی ر۔ہ کا خواب

سلطان نور الدین زنگی رحمتہ اللّه علیہ عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے کہ اچانک اٹھ بیٹھے۔
اور نم آنکھوں سے فرمایا میرے ہوتے ہوئے میرے آقا دو عالم ﷺ کو کون ستا رہا ہے .
آپ اس خواب کے بارے میں سوچ رہے تھے جو مسلسل تین دن سے انہیں آ رہا تھا اور آج پھر چند لمحوں پہلے انہیں آیا جس میں سرکار دو عالم ﷺ نے دو افراد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ مجھے ستا رہے ہیں.
اب سلطان کو قرار کہاں تھا انہوں نے چند ساتھی اور سپاہی لے کر دمشق سے مدینہ جانے کا ارادہ فرمایا .
اس وقت دمشق سے مدینہ کا راستہ ٢٠-٢٥ دن کا تھا مگر آپ نے بغیر آرام کیئے یہ راستہ ١٦ دن میں طے کیا. مدینہ پہنچ کر آپ نے مدینہ آنے اور جانے کے تمام راستے بند کرواے اور تمام خاص و عام کو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا.
اب لوگ آ رہے تھے اور جا رہے تھے ، آپ ہر چہرہ دیکھتے مگر آپکو وہ چہرے نظر نہ آے اب سلطان کو فکر لاحق ہوئی اور آپ نے مدینے کے حاکم سے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو اس دعوت میں شریک نہیں .جواب ملا کہ مدینے میں رہنے والوں میں سے تو کوئی نہیں مگر دو مغربی زائر ہیں جو روضہ رسول کے قریب ایک مکان میں رہتے ہیں . تمام دن عبادت کرتے ہیں اور شام کو جنت البقیح میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں ، جو عرصہ دراز سے مدینہ میں مقیم ہیں.
سلطان نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، دونوں زائر بظاہر بہت عبادت گزار لگتے تھے. انکے گھر میں تھا ہی کیا ایک چٹائی اور دو چار ضرورت کی اشیاء.کہ یکدم سلطان کو چٹائی کے نیچے کا فرش لرزتا محسوس ہوا. آپ نے چٹائی ہٹا کے دیکھا تو وہاں ایک سرنگ تھی.
آپ نے اپنے سپاہی کو سرنگ میں اترنے کا حکم دیا .وہ سرنگ میں داخل ہویے اور واپس اکر بتایا کہ یہ سرنگ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف جاتی ہے،
یہ سن کر سلطان کے چہرے پر غیظ و غضب کی کیفیت طاری ہو گئی .آپ نے دونوں زائرین سے پوچھا کے سچ بتاؤ کہ تم کون ہوں.
حیل و حجت کے بعد انہوں نے بتایا کے وہ یہودی ہیں اور اپنے قوم کی طرف سے تمہارے پیغمبر کے جسم اقدس کو چوری کرنے پر مامور کے گئے ہیں. سلطان یہ سن کر رونے لگے ، اسی وقت ان دونوں کی گردنیں اڑا دی گئیں.
سلطان روتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ
💞"میرا نصیب کہ پوری دنیا میں سے اس خدمت کے لئے اس غلام کو چنا گیا"💞
اس ناپاک سازش کے بعد ضروری تھا کہ ایسی تمام سازشوں کا ہمیشہ کہ لیے خاتمہ کیا جاۓ سلطان نے معمار بلاۓ اور قبر اقدس کے چاروں طرف خندق کھودنے کا حکم دیا یہاں تک کے پانی نکل آے.سلطان کے حکم سے اس خندق میں پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا گیا
بعض کے نزدیک سلطان کو سرنگ میں داخل ہو کر قبر انور پر حاضر ہو کر قدمین شریفین کو چومنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی،،

Monday, August 22, 2022

اللہ کو دل میں بسا لو ، اللہ، اللہ کرنے والا طوطا کا دلچسپ واقعہ

اللہ  کو  دل  میں  بسا  لو! 
اللہ،اللہ کرنے ولا طوطا کا دلچسپ واقعہ
╮•┅══ـ❁🏕❁ـ══┅•╭

ایک صاحب نے طوطا پالا ہوا تھا اور اس طوطے کو ”اللہ اللہ“ کہنا سکھایا ہوا تھا، وہ طوطا ”اللہ اللہ“ کہتا تو ان کو بڑی خوشی ہوتی، ایک دن پنجرہ کھلا رہ گیا، ایک بلی ادھر آنکلی، اس نے طوطے کو دبوچا اور لے کر بھاگی تو طوطا ”ٹیں ٹیں“ کرنے لگ گیا- وہ بڑے حیراں ہوئے کہ میں نے تو اسے ”اللہ اللہ“ کہنا سکھایا تھا اب یہ ”ٹیں ٹیں“ کر رہا ہے- اتنے میں ایک بزرگ انہیں ملنے آئے، انہوں نے سارا واقعہ ان کو کہہ سنایا، وہ فرمانے لگے چونکہ آپ نے طوطے کو ”اللہ اللہ“ کہنا سکھایا تھا، اس لیے طوطے کی زبان پر تو ”اللہ اللہ“ تھا، مگر اس کے دل میں ”ٹیں ٹیں“ تھی... یہی وجہ ہے کہ جب اس کو موت آنے لگی اور بلی نے اسے پکڑا تو وہی کچھ اس کی زبان سے نکلا جو اس کے دل میں بھرا ہوا تھا- آج ہمارے دل میں کیا بھرا ہوا ہے؟ ؎
بر زبان تسبیح دَر دِل گاؤ خر
ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر
لہٰذا آج اگر دل میں اللہ نہیں سمائے گا، ہم اپنے دل میں اللہ کو نہیں بسائیں گے، اس کے انوارات کو نہیں بھریں گے، ہمارے اندر سچ نہیں اترے گا تو پھر موت کے وقت ہماری زبان سے اللہ کا نام کیسے نکلے گا؟ اس کے لیے تو محنت کرنا پڑتی ہے اور اسی محنت کے لیے پوری زندگی دی گئی ہے-

📚موت کی تیاری ص۸۴-۸۵📚
✍محبوب العلماء والصلحاء حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی دامت برکاتہم

http://t.me/tasawwufkiahy
ــــــــــــــــــــــــــــ
فارسی شعر مع ترجمہ ؎
بر زبان تسبیح دَر دِل گاؤ خر
ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر
اردو ترجمہ:
زبان پر اللہ اللہ اور دِل میں گائے گدھے (مال ودولت) کا تصور ہے
اگر اس قسم کی تسبیح ہے تو اس کا اثر کیا ہوگا-

تصوف کیا ہے قسط 13 سوال 84-79

قسط: ١٣

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات
╮•┅════ـ❁🏕❁ـ════┅•╭

(٧٩) سوال:
تو کیا اونچی آواز سے ذکر کرنے میں ریاء کا اندیشہ نہیں ہوتا؟

جواب:
لیکن اس اندیشے کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔ دل میں ریاء کی نیت نہ ہو یہ کافی ہے۔ باقی ریاء کا وسوسہ ریاء نہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تم اتنا ذکر کرو اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں ریاکار کہہ دیں اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اتنا ذکر کرو اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں مجنون کہیں۔ بعض بزرگوں نے لکھا ہے کہ اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے ذکر سے رک جانا بھی ریاء ہے۔

(٨٠) سوال:
انفرادی طور پر ذکر بالجہر کی گنجائش تو نکل آئی لیکن کیا اجتماعی طور پر بھی ذکر بالجہر کیا جاسکتا ہے؟

جواب:
جو دلائل انفرادی ذکر بالجہر کے لیے قابل سماعت ہیں وہ اجتماعی کے لیے بھی ہیں۔ آپ ذرا غور فرمایئے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کو اگر دل کی صفائی کا ذریعہ سمجھا جائے تو چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی نہ صرف جائز بلکہ مفید ہے۔

(٨١) سوال:
ایسا اجتماعی ذکر کہ لوگ اپنا اپنا ذکر کررہے ہوں یہ تو ہمارے اکابر کا طریقہ رہا ہے لیکن ایسا اجتماعی ذکر جس میں ایک آدمی سب کو ایک آواز میں ذکر کرا رہا ہو اس کا اپنے اکابر میں ثبوت نظر نہیں آتا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کی مثال نماز کی طرح ہوجاتی ہے کہ ایک امام ہو اور باقی مقتدی اس لیے یہ دین میں زیادتی ہے؟

جواب:
نہیں، ایسی کوئی بات نہیں! حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بڑے ہیں۔ ان کے ہاں اجتماعی ذکر بصوت واحد ہوتا تھا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء میں حضرت مولانا فقیر محمد رحمۃ اللہ علیہ یہی ذکر کراتے تھے۔ یہ صرف ایک ذریعہ ہے۔ اس کا مقصد دل کو متاثر کرنا ہے جس میں اجتماعی صوت (آواز) کے اثر سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ جہاد میں بھی جب ٹریننگ دی جاتی ہے تو اس میں بھی ایک امیر ہوتا ہے باقی لوگ اس کے مامور ہوتے ہیں اور وہ سب کو ایک آواز سے سب کچھ کرارہا ہوتا ہے جس طرح وہ فقط ایک ذریعہ ہے اور غلط نہیں ہے اس طرح یہاں بھی ذکر اگر ایک آواز سے کرایاجائے اور اس کو مقصد نہ سمجھا جائے اور جو نہ کرے اس پر نکیر نہ کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

(٨٢) سوال:
کیا ذکر بالجہر مسجد میں درست ہے؟

جواب:
مسجد میں ذکر بالجہر کی مثال بچوں کو مسجد میں قُرآن پڑھانے کی سی ہے۔ پس اگر کوئی اس وقت نماز نہیں پڑھ رہا ہو یا کوئی اور اجتماعی کام نہ ہو رہا ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں۔

(٨٣) سوال:
اگر کوئی ایک شخص بھی نماز پڑھ رہا ہوتو کیا اس وقت ذکر بالجہر جائز ہوگا؟

جواب:
اگر وہ وقت کی فرض نماز ہے تو ذکر والوں کو اس کی رعایت ضروری ہے اور اگر نفل نماز ہے تو نماز والوں کو اس اجتماعی عمل کی رعایت کرنی چاہیئے۔ کیونکہ نفل نماز کے لیے بہترین جگہ اپنا گھر ہے جیسا کہ بچوں کو قُرآن پڑھانے کے سلسلے میں خیال کیا جاتا ہے۔

(٨٤) سوال:
غذائی ذکر میں قُرآن پاک، عام ذکر، درود شریف میں سے کس کا اثر زیادہ ہے؟

جواب:
یہ سب غذا کی طرح ہے اور سب سے اپنا اپنا فائدہ ہوتا ہے۔ ہمارے اکابر گلدستہ کے قائل ہیں کہ ایک جامع ترتیب اختیار کی جائے۔ قُرآن پاک کی تلاوت روزانہ باقاعدگی کے ساتھ کرنا چاہیئے۔ اس طرح ہر وقت زبان ذکر سے تازہ رکھنے کے لئے بھی فرمایا گیا ہے اور درود شریف کا تو ﷲ تعالیٰ نے براہ راست سارے مؤمنوں کو ایک عجیب انداز سے حکم فرمایا ہے۔ اس لئے سب کا حصّہ ہونا چاہیئے البتہ بعض لوگوں کے لئے بعض مواقع پر ان میں سے کسی کی اہمیت زیادہ ہوجاتی ہے۔اس کا فیصلہ شیخ پر چھوڑنا چاہیئے۔

(٨٥) سوال:
بعض لوگ قُرآن کی مخصوص سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں اور رواں تلاوت کا اہتمام نہیں کرتے کیا یہ کافی ہے؟

جواب:
یہ لوگ اُن لوگوں سے تو یقیناً بہتر ہیں جو بالکل تلاوت نہیں کرتے البتہ ان لوگوں کے برابر نہیں جو رواں تلاوت بھی کرتے ہیں اور مخصوص فوائد کے لئے مخصوص سورتیں بھی پڑھتے ہیں کیونکہ قُرآن پاک کی ہر آیت کے ساتھ ایک مخصوص تجلی ہوتی ہے وہ اس کے بغیر کیسے ملے گی؟

(جاری ہے)

📚 تصوف کا خلاصہ ص ٣٢ تا ٣٤ 📚
✍حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتھم العا